Urdu News and Media Website

لاک ڈاؤن کے دوران ریشم سازی کی گھریلو صنعت اہم ذریعہ معاش

لاک ڈاؤن کے دوران دیہاتی علاقوں میں ریشم سازی کی گھریلو صنعت اہم ذریعہ معاش بن گئی۔

محکمہ جنگلات پنجاب نے ریشم کے کیڑوں کی پرورش کے ذریعے سیکڑوں خاندانوں کو گھر بیٹھے روزگار میں مصروف کر دیا۔

اس وقت صوبہ بھر کے مختلف دیہی علاقوں مثلاََ چھانگا مانگا، چیچہ وطنی ،فیصل آباد،بہاولپور،منڈی بہاؤالدین،سرگودھا،خوشاب،میانواولی،ٹوبہ ٹیک سنگھ،نارووال اور سیالکوٹ میں گھریلو سطح پر ریشم کے کیڑوں کی پر ورش کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 25 من سے زائد گندم رکھنے والے ہوشیار

جس سے سینکڑوں خاندان مستفید ہو رہے ہیں ،اس سلسلے میں محکمہ جنگلات کے
ڈپٹی ڈائریکٹر شعبہ سیریکلچر محمد فاروق بھٹی نے بتایا کہ محکمہ نےتقریباََ 700سے زائد
خاندانوں کو ابتدائی تربیت دینے کے بعد صنعت ریشم سازی کی گھریلو صنعت
میں مصروف کر دیا ہے۔ایک خاندان اوسطََ30ہزار سے 50ہزار تک کما رہا ہے۔
ملک میں اس وقت قدرتی ر یشم کی بڑی ڈیمانڈ ہے اور سالانہ اوسطََ60ارب روپے کا
ریشم بیرون ملک سے امپورٹ کیا جارہا ہے ۔ قدرتی ر یشم کی مقامی پیداوار سے نہ صرف
ریشم کی امپورٹ میں کمی آئے گی بلکہ ہزاروں خاندانوں کو گھر بیٹھے روزگار بھی ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا ریشم سازی کی صنعت کو توسیع دینےکےارادےکا اظہار

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حالات میں لوگوں کو اپنے گھروں میں ہی محدود رکھنا ہے
اس لیے یہ گھریلو صنعت غریب خاندانوں کو نہ صرف ان کے گھروں میں رکھے ہوئے ہے
بلکہ روزگار کا بھی ایک اہم ذریعہ ثابت ہورہی ہے۔

لاہور(نیوز نامہ)

 

یہ بھی پڑھیں: اعلیٰ کارکردگی پرمحمد فاروق بھٹی کو ڈائریکٹر سیریکلچر پنجاب کا چارج دیدیا گیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.