Urdu News and Media Website

گندم اور آٹا چوہے کھا گئے یا شیطان؟

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک اور دنیا بھر میں گندم کی پیدوارکے حوالے سے ٹاپ 10ممالک میں شامل اور عالمی رینکنگ میں 7ویں نمبر پر بڑا ملک ہے ۔

چین پہلے نمبر پر باقی ممالک میں انڈیا،روس،امریکہ ،فرانس،اسٹریلیا،کینیڈا،یوکرائن اور جرمنی شامل ہیں ایک تخمینے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 3کروڑ میٹرک ٹن کے قریب گندم کی پیدا وار ہے جبکہ پاکستان کی کل آبادی کا 42.فیصد کا تعلق شعبہ زراعت سے کسی نہ کسی طور تعلق ہے۔

کورونا وائرس سے قبل بھی پاکستان میں چینی اور آٹے کا شدید بحران دیکھنے میں آیا

 سڑکوں پر بلکتی نظر آنے والی عوام کی خبر کسی طرح وزیر اعظم عمران خان تک پہنچ گئی

 (عمران خان تک بہت سی باتیں پہنچنے ہی نہیں دی جاتیں اور یہ بات کوئی مفروضہ بلکہ حقائق پر مبنی ہے)،

انہوں نے نہ صرف سخت ایکشن لینے بلکہ اس کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے

 کا اعلان کیا،تحقیقات کے لئے ملک کی سب سے بڑی انویسٹی گیشن ایجنسی FIAکو

 انکوائری کی ذمہ داری سونپ دی،انکوائری ہوئی ،رپورٹ تیار ہوئی مگر نہ وہ سامنے آئی ،

نہ ذمہ داران کا بتایا گیا ،نہ ہی کسی ایک کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا گیا،کاش یہ سب ہو جاتا

 مگر عمران خان بھی کیا کرتے وہ لوگ طاقتور ہی اتنے ہیں، سب سے زیادہ آبادی اور 

پیداوار والے صوبہ پنجاب میں اسے حکومت کی بدترین ناکامی کہا جائے تو وہ بھی کم ہے،

محض ایک ہفتہ ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی تو چینی اور آٹے کی لاکھوں بوریاں برآمد ہو گئیں ،

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 2ہزار سے تجاوز

سندھ میں بھی ایسا ہی تھا،ابھی یہ خود ساختہ بحران تھما بھی نہیں تھا کہ چین کے شہر ووہان

 سے نکلنے والے انتہائی موذی وائرس کورونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا دیگر ممالک

 کی طرح پاکستان بھی اس کا شکار ہو گیا،کئی دن سے ملک بھر میں لاک ڈائون ہے ،

تعلیمی ادارے،دفاتر،پبلک ٹرانسپورٹ،نقل و حمل ،دفعہ 144کا نفاذ ،ہوٹل،

شاپنگ سنٹرز،بازار،مارکیٹیں سب بند،صرف کریانہ ،سبزی ،پھل،میڈیکل سٹورز 

کھلے رکھے گئے،ذخیرہ اندوزجن میں انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی کو ایک

 اور موقع نصیب ہو گیا،ایک جانب عوام کورونا وائرس سے خوف زدہ اور موت کی وادی میں

 جا رہے ہیں دوسری جانب انسانیت کے اصل دشمن ذخیرہ اندوز وں نے آٹا

 جیسی بنیادی ضروت کو پھر سے عوام سے دور کر دیا،اب عالم یہ ہو چکا ہے کہ 

اگر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی قصبہ میں ایک ٹرک آٹے کا پہنچتا ہے تو

 اس سے قبل ہی وہاں بھوک سے بلکتی عوام کا  جم غفیر لگ جاتا ہے انہیں کچھ

یہ بھی پڑھیں: عذاب الہٰی اور خود ساختہ مہنگائی

 یاد نہیں رہتا کہ زیادہ لوگوں کے اکٹھا ہونے سے تو اس موذی کا اور خدشہ 

بڑھ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نمازجیسے عظیم فرض کی ادائیگی کے لئے صرف 4بندوں

 کی حکومتی شرط عائد کر دی گئی ،الراقم کی یہ مسلسل چوتھی تحریر ہے جواسی نوعیت کے

 مسائل سے متعلق ہے ہم بھی بے بس ہیں صرف لکھ کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں لوگ 

کہتے ہیں اس پر لکھیں انہیں کیا پتا کہ ہم بھی انہی کی طرح بے اختیار ہیں اور جو اختیار

 والے ہوتے ہیں باالخصوص پاکستان میں تو وہ بہت ہی با اختیار ہوتے ہیں، ایسے نازک

 اور گھمبیر حالات میں ساری دنیا پر خدا کا قہر نازل ہو رہا ہے تب پاکستان جیسے زرعی ملک

 میں آٹا نایاب ہونا انتہائی باعث شرم بات ہے،وزیر اعظم نے کہاتھا ہم نے ملک کے

 حالات دیکھ کر کورونا کے ساتھ جاری جنگ جیتنی ہے مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی

 جہاں غریب کا خیال رکھا جاتا تھااب ہم نے بھی غریب کا خیال رکھنا ہے مگر کیسے عمراں خان صاحب؟

آپ نے تو پہلے والے آٹا چینی بحران کے ذمہ داران کا عوام کو نہیں بتایا اس کی کیا

یہ بھی پڑھیں: قوم انتہائی موذی وبا کی لپیٹ میں اور ذخیرہ اندوز

 وجہ ہے ؟وہ کیا رکاوٹ تھی ؟وہ کیا قوت تھی ؟جس نے ذمہ داران کو کیفر کردار تک 

پہنچانے میں آپ کو اپاہج اور مفلوج کر دیا،مگر یہاں عوام کی فلاح کرنے والا ،ان کی

 بہتری چاہنے والا ہر کوئی فالج زدہ ہے،لولا لنگڑا ہوتا ہے یا بنا دیا جاتا ہے ،اسے نہ کچھ

 دیکھنے دیا جاتا ہے نہ اسے دکھائی دیتا ہے،نہ سننے دیا جاتا ہے نہ وہ کچھ سن سکتا ہے،

یہاں ایسے کردار ہیںوہ بہت طاقتور،بہت زہریلے سانپ نہیں بلکہ اژدہے ہیں

 جو عوام کے ساتھ ان کے حقوق کو بھی نگل جاتے ہیں،ان کے لئے گھٹیا سے گھٹیا الفاظ

 استعمال کئے جائیں تو وہ بھی کم ہیں کیونکہ وہ گونگے بھی ہیں اور بہرے بھی ،بے حس بھی ،

ظالم بھی ،سفاک بھی ،درندے بھی ،وہ غریب عوام کو صرف کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں

 جب چاہا جیسے چاہا مسل دیا،مار دیا،ذلیل کر دیا،روٹی تک چھین لی ،یقین کریں یہ

 بہت بدبودار کردار ہیں ،یہ غلیظ اور تعفن زدہ ہیں،یہ نیچ اور کمینے ہیں،22مارچ کو

 وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا خوراک کی قلت نہیں، کہا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیں: ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کیخلاف فتویٰ جاری

 ان کا تعلق غریب طبقے سے ہے مگر لگتا نہیں،23مارچ کو وفاقی وزیر برائے

 تحفظ خوراک خسرو بختیار کہتے ہیں گندم کا زخیرہ وافر مقدار میں موجود ہے اور 

کل سے تو سندھ میں نئی فصل کٹنا شروع ہو جائے گی،24مارچ کو  عمران خان

 نے کہاگندم کی یقینی دستیابی بنانے کے لئے 280ارب روپے رکھے گئے ہیں،

آٹے کی قلت کے حوالے سے اسی روز یہ رپورٹ سامنے آئی کہ حکومت پنجاب

 نے آٹے کی غیر قانونی پشاور منتقلی روکنے پر فوج کی مدد طلب کرنے کا فیصلہ 

کیا ہے(مطلب جو صوبائی سرحدوں پر تعینات ہیں وہی ذمہ داران ہیں ) 

پشاور کے تاجروں نے خیبر پی کے میں بھی مصنوعی بحران پیدا کرکے پنجاب

 سے غیر قانونی طور پر پنجاب سے آٹے کی کھیپ منگوانی شروع کر دی 

تقریباً50سے60ہزار تھیلے روزانہ کی بنیاد پر پنجاب سے پشاور منقتل

 ہونے لگے،اب تصور کریں آٹا بڑی بڑی گاڑیوں پر جاتا ہے اسے جیب میں

 ڈال کر تو کہیں لایا جایا نہیں جا سکتا ،خود سمجھ لیں عوام کے ساتھ ہاتھ ہوتا کیسے ہے ؟

،25مارچ کو چیف سیکرٹری پنجاب نے حکومتی ہدایت پر بہت زیادہ طلب والے

 شہروں میں فلور ملز کو دی جانے والی گندم کا کوٹہ بڑھا دیالاہور میں فلور ملز کو 65فیصد

 گندم حکومت جبکہ باقی35فیصد وہ اوپن مارکیت سے حاصل کرنا ہوتی ہے،لاہور کو 

عام حالات میںروازنہ سوا2لاکھ تھیلے درکار ہیںآٹا بحران صرف اور صرف انتظامی غفلت

 ہے لاہور ،گوجرانوالا اور راولپنڈی کی50سے زائد فلوز ملز اپنا زیادہ تر آٹا پشاور بھیجتی ہیں

 ان میں لاہور کی کل74فلور ملز میں سے24اس دھندے میں شامل ہیں جو با اثر افراد 

کی ملکیت ہیں،،یہ کوٹہ لاہور،سیالکوٹ،چنیوٹ،وہاڑی،راجن پور،فیصل آباد،

شیخو پورہ اور بہاولنگر کی فلور ملز کو دیا گیامجموعی طور پر پنجاب بھر میں 25600بوری

 گندم فلور ملز کو دی جاتی ہے جس میں 12سو بوری اضافہ ہوا یعنی فی ملز 5بوری اضافی،

26مارچ کو عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آٹے کی

یہ بھی پڑھیں:  ناقابل تسخیر عظیم پاکستان

 قلت کا نوٹس لیا گیا توبتایا گیا کہ گندم کے 17لاکھ ٹن ذخائر موجود ہیں لہٰذا یہ مسئلہ حل

 ہو جائے گا (جو آج تک نہیں ہوا بلکہ مزید سنگین تر ہو چکا ہے) ،عمران خان نے

 کہا ایسی صورتحال میں ذخیرہ اندوزی کرنے والے اللہ تعالیٰ ،ملک اور قوم کے 

مجرم ہیںیہ قلت مصنوعی ہے،27مارچ کو پاکستان فلوز ملز ایسوسی ایشن کے

 سربراہ عاصم رضا نے بتایا کہ ملز کی جانب سے روزانہ25ٹن گندم کی پسائی کی

 جا رہی ہے جس سے7لاکھ 50ہزار آٹے کے تھیلے مارکیٹ بھیجے جاتے ہیں

بحرانی کیفیت سے بچنے کے لئے 80فیصد گندم سے آٹا بنایا جا رہا ہے،دو دن 

میں 10لاکھ آٹے کی بوریاں مارکیٹ پہنچیں جبکہ حکومت کی جانب سے کچھ ملز 

کے لئے صرف 5بوری فی ملز اضافہ کیا گیا ہے، اب لاکھ حکومتی دعوئوں کے

 باوجود آٹے کے شدید ترین بحران نے ملک کو اپنے حصار میں دبوچ رکھا ہے،

عوام آٹے کے حصول پر رل رہی ہے ،دھکے کھا رہی ہے اس کے بر عکس 

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس کس نے تیار کیا، کیسے پھیلا، سنسنی خیز انکشافات

ہر ڈویژن کا کمشنر اور ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنرکا روزانہ یہ سرکاری ہینڈ آئوٹ جاری ہوتا ہے

 کہ آٹے کا تو کوئی بحران ہی نہیں ،آٹے کا یہ بحران اسی وقت ختم ہو جائے گا 

جب ہماری ضلعی انتظامیہ کا قبلہ درست سمت اختیار کرے گا، حکومت تو اس مسئلے

 پر قابو پانے میں تاحال ناکام ترین نظر آتی ہے،لگتا ہے گورنس ہے ہی نہیں ،

ضلعی انتظامیہ کی کوئی کاروائی ہو یا پولیس کی تو خبر میں یہ ضرور لکھا ہو تا ہے کہ کمشنر،

ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کی ہدایت پر کاروائی کی گئی کمشنر اگر کسی بہتر کام کا فوٹو سیشن 

کراے تو یہ لکھا ہو گاوزیر اعلیٰ کے حکم پر،عجب مذاق اور تماشہ ہے،جو لوگ جس 

کام کے لئے تعینات ہیں وہ ان کی ذمہ داری نہیں اگر وہ کوئی کام کرتے ہیں

 تو اپنے سے بڑی اتھارٹی کے حکم پر،عوام کو رونا کے عذاب سے تو بچ نکلے گی مگر

با اختیاروں کے عذاب سے نہیں بچے گی،ایک بار پھر عمران خان نے ریلیف پیکج

 کے سلسلہ میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں آٹے بحران کا سخت نوٹس لیادیکھو

 سردار عثمان بزدار کی انتظامیہ اب کیا گل کھلاتی ہے۔

تحریر:صابر مغل۔۔۔ 

صابر مغل

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.