Urdu News and Media Website

کرونا وائرس کس نے تیار کیا، کیسے پھیلا، سنسنی خیز انکشافات

کرونا وائرس وقدرتی وبا نہیں ،اسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا،اقوام متحدہ میں پاکستان کےسابق مستقل مندوب حسین ہارون کی تہلکہ خیز ویڈیو سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کےسابق مستقل مندوب حسین ہارون کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کرونا وائرس سے متعلق حیران کن دعوے کیے ہیں ۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں حسین ہارون نے آغاز میں کہا کہ آج کل 

کرونا وائرس کا موضوع سب سے زیادہ زیر بحث ہے اور میں نے اس موضوع پر

 اس لیے بات نہیں کی کیونکہ سب ہی اس پر بات کر رہے ہیں، تو ایسی صورتحال میں

 مجھے کچھ کہنا مناسب نہیں لگا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نجی چینل کے 3 صحافی کرونا وائرس کا شکار

جس کے بعد ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ جائزہ لینے کے بعد محسوس یہ ہوا کہ

 جو اہم باتیں ہیں وہ کوئی نہیں کر رہا، سب سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ

 کورونا وائرس قدرتی نہیں اسے لیبارٹری میں بنایا گیا ہے اور یہ کیمیکل ہتھیار کے طور 

پر بہت بڑی سازش کی تیاری کی جارہی تھی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ 2006 میں امریکا کی ایک کمپنی نے حکومت سے

 اس کا پیٹنٹ یا منظوری حاصل کی، 2014 میں یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ کسی

 ایک جگہ سے حاصل نہیں کیا گیا ہے تو اس کی ویکسین کی پیٹنٹ ڈالی گئی 

لیکن اسے نومبر 2019 میں باقاعدہ منظور کیا گیا جس کی ویکسین 

اسرائیل میں بننا شروع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ : ایک ہی دن میں 17ہزار کیسز،مجموعی تعداد چین سے زیادہ

 اقوام متحدہ میں پاکستان کےسابق مستقل مندوب حسین ہارون نے دعویٰ کیا کہ

 کرونا وائرس برطانیہ کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا جس کی رجسٹری امریکا میں ہوئی تھی،

 پھر اسے ائیر کینیڈا کے ذریعے چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری بھیجا گیا۔

انہوں نے بات بھی واضح طور پر کی کہ امریکا چین کی ترقی سے

 پچھلے کچھ عرصے سے گھبراہٹ کا شکار تھا۔

حسین ہارون نے کرونا کو مخصوص’کوویڈ -19‘ نام دینے کی وجہ بھی بتائی اور کہا کہ 

کرونا کو سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی اجازت سے بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بھارتی گلوکارہ نے برطانوی شہزادہ کو کرونا وائرس میں مبتلا کیا؟

سابق سفیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انگلینڈ میں اس وقت ایک چینی بائیولوجسٹ کیڈک چینک

 کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا کو انگلینڈ کے پیر برائٹ انسٹیٹیوٹ میں بنایا گیا 

جس کی مالی مدد بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کی، اس کے علاوہ اس وائرس کو

 بنانے کے لیے جان ہاپکنز اور ورلڈ اکنامک فورم نے مالی مدد کی ۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے شہر ووہان کو جزوی طور پر کھول دیا گیا

واضح رہے کہ اس وقت کرونا وائرس دنیا کے 190سے زائد ممالک میں

پھیل چکا ہے،دنیا بھر میں 6لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 

28ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لاہور(ویب ڈیسک)

 
تبصرے