Urdu News and Media Website

آج بھی ہر اتوار،،، سر شام ،،، وہ ناگن پھن پھلائے

آج بھی ہر اتوار
سر شام
وہ ناگن پھن پھلائے
میرے روبرو رقص کرتی ہے
اور پھر دھیرے دھیرے
وہ اپنا زہر
میری رگوں میں اتارتی ہے
کسی بےبس
قفس میں قیدی
پنچھی کے ماند
میں چپ چاپ
اسے تکتا رہتا ہوں
کبھی وہ زمانے کی
بے حسی کا تماشہ دکھاتی ہے
تو کبھی وہ میری بےبسی
کا مذاق اڑاتی ہے.
مجھے وہ ہر شام اب
یادوں کا عذاب دیتی ہے
ہر بار وہ مجھے
اس اندھے تاریک ساغر کا
قیدی بنا کر دھیرے سے
نکل جاتی ہے.
میں کئی سالوں سے
اس کی قید میں ہوں
کسی لاچار زخمی
پرندے کی ماند
پھڑ پھڑا رہا ہوں
میں چاہتے ہوئے بھی
اسے دھتکار نہیں سکتا
وہ ناگن سرشام
میرے روبرو
اب رقص کرتی ہے

اسماء طارق

 

 

یہ بھی پڑھیں:

کل عرصے بعد ،،،،، تم کو جاتے دیکھا

الجھے جال ، کالے ناگ

کرونا وائرس اور مجنوں کی ہدایت

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.