Urdu News and Media Website

عالمی وبا کرونا وائرس کی کتنی اقسام، زیادہ خطرناک کون سی ہے

چین سے سامنے آنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے،دنیا بھر میں 125سے زائد ممالک اس جان لیوا مرض سے متاثر ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے اس عالمی وبا بھی قرار دے دیا ہے۔

عالمی وبا کی صورت اختیار کر جانے والا یہ خطرناک وائرس اب تک دنیا بھر میں 5ہزار لوگوں کی جان لے چکا ہے،اور اس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ25ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
چین میں کرونا سے ہلاکتوں کی 3ہزار 177ہوچکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 80ہزار115ہے۔

چین کے بعد کرونا وائرس نے سب سے زیادہ تباہی یورپی ملک اٹلی میں مچائی ہے۔
جہاں اس وائرس نے 1000سے زائد لوگوں کو لقمہ اجل بنایا ہےاور 15ہزار سے
زائد افراد کو متاثر کیا ہے جس کے بعد پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے تعلیمی ادارے، مدارس بند،23مارچ کی پریڈ منسوخ

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کو اب عالمی وبا قرار دینے پر یہ سوال
عام پوچھا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس تو بہت پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکا تھا
تو اس کو اب عالمی وبا کیوں قرار دیا گیا؟اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ
وباؤں کے مختلف درجوں این ڈیمک (endemic)، ایپی ڈیمک (epidemic)، اور پین ڈیمک (pandemic) میں کیا فرق ہے؟
اور سوشل میڈیا پر بھی #CoronaVirusPandemic کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہاہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کے سیمی فائنل اور فائنل بھی بغیر تماشائیوں کے ہوں گے

آیئے آپ کو بتاتے ہیں کہ عالمی وبا کیا ہوتی ہے اور وبا کے ان درجوں میں کیا فرق ہے؟

 

عالمی وبا کیا ہوتی ہے؟
عالمی وبا کی اصطلاح کسی بھی ایسی متعدی بیماری کے لیے مختص ہے جس میں مختلف ممالک میں ایک
کثیر تعداد میں لوگ ایک دوسرے سے متاثر ہو کر بیمار پڑ رہے ہوں۔

آخری مرتبہ سنہ 2009 میں سامنے آنے والے سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دیا گیا تھا

جس سے تقریباً دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کرونا وائرس :ماسک نہیں مل رہا تو آپ کو کیا کرنا چاہیے ؟

عالمی وبا عموماً ایسے وائرس کے پھیلنے سے ہوتی ہے جو نیا ہوا، لوگوں کو

آرام سے متاثر کر سکتا ہو اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی میں مؤثر انداز میں منتقل ہو رہا ہو۔

نیا کورونا وائرس ان تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔ اس کا نا تو کوئی علاج ہے اور

نہ ہی ایسی ویکسین جو اسں کی روک تھام کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس کیا ہے؟ کہاں سے آیا اور کیسے پھیلا؟

این ڈیمک(endemic)
این ڈیمک انفیکشن سے مراد ایسی بیماری ہے جو پورے سال ایک علاقے میں پائی جاتی ہے۔

یہ بیماری ہر وقت اور ہر سال موجود رہتی ہے۔ اس میں چکن پوکس یا خسرے

کی بیماری شامل ہے جو ہر سال برطانیہ میں پائی جاتی ہے۔ افریقہ میں ملیریا ایک این ڈیمک انفیکشن ہے۔

 

ایپی ڈیمک(epidemic)
ایپی ڈیمک یعنی وبا سے مراد ایسی بیماری ہے جس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے

اور پھر اس میں کمی آتی ہے۔ برطانیہ میں ہم ہر سال فلو کی وبا دیکھی جاتی ہے

جس میں موسمِ خزاں اور سرما میں مریض بڑھ جاتے ہیں، مریضوں کی ایک چوٹی بن جاتی ہے اور پھر مریضوں میں کمی آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 9سال پہلے ہی کرونا وائرس کے حملے کی پیشگوئی ہوچکی

پین ڈیمک(pandemic)
پین ڈیمک یعنی عالمی وبا ایسا انفیکشن ہوتا ہے جو ایک ہی وقت میں دنیا بھر میں پھیل رہا ہو۔

سنہ 2009 میں سوائن فلو کا پین ڈیمک دیکھا گیا جس کا آغاز میکسیکو سے ہوا اور

پھر یہ وبا دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اسے فلو کی پین ڈیمک کا نام دیا گیا تھا۔

لاہور(ویب ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.