Urdu News and Media Website

چھوٹی سی نیکی

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔۔۔۔۔
ٹھنڈی یخ صبح دھند نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا

میں روزانہ کی طرح گھر سے دفتر کی طرف رواں دواں تھا ۔
شدید دھند کی وجہ سے حدِ نگاہ نہ ہو نے کے برابر تھی

صبح کا وقت پورا شہر سڑکوں پر ابل پڑا تھا

لوگ دفاتر کا روباری مراکز بچے والدین سکو ل کالجوں کی طرف بھا گنے کی کوشش کر رہے تھے ۔

سائیکل موٹر سائیکل رکشے ویگنیں کا ریں سکول بسیں اور پیدل لو گ اوپر سے شدید دھند

انسان جو فطری طور پر بے چین اور بے صبرافطرت کا حامل ہے وہ دوسروں کو روندنے کی ناکام کو شش کر رہا تھا ۔

بے پنا ہ ٹریفک اور شدید دھند کی وجہ سے ٹریفک چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھی

شدید ٹریفک کے با وجود ہر کو ئی کان پھا ڑنے والا ہا رن بجا ئی جا رہا تھا۔

ہا رن تو اس وقت بجا نا چاہیے سڑک خالی ہو اور آپ کے آگے جا تے والا جان بو جھ کو آپ کو راستہ نہیں دے رہا۔

لیکن یہاں تو سب کچھ جانتے ہوئے بھی بے چین اور جھگڑالو لوگ ایک دوسرے کو قہرآلود نظروں اور زبان سے گالیوں کا طو فان اگلتے ہو ئے ایک

دوسرے سے آگے بڑھنے کی کو شش کر رہے تھے۔

بندہ نواز
اوپر سے موٹر سائیکل سواروں نے سب سے زیا دہ تنگ کیا ہواتھا سوئی بربر بھی جہاں جگہ نظر آتی یہ وہا ں گھس جا تے ۔

مو ٹر سائیکل سواروں کی اِن حما قتوں کی وجہ سے ٹریفک نظام اور بھی درہم برہم ہو جا تا ہے۔

زندگی کسی حد تک مفلوج ہو تی نظر آرہی تھی ہر کو ئی اپنا راستہ بنا نے کے چکر میں تھا

اسی دوران ایمبولینس کا سا ئرن بجنا شروع ہو گیا،ہم لوگ ایمبولینس کو راستہ دینا چاہتے تھے

لیکن ہم ایک زنجیر کی طرح سست روی سے چل رہے تھے ٹریفک کی زنجیر سے نکلنا ہما رے لیے ناممکن تھا

اِسی دوران اگر کسی کی کا ر رکشہ یا موٹر سائیکل سے لگ جا تی تو ٹریفک ایک دم بند

اور دونوں فریق آگ برساتے دھا ڑتے گالیاں بکتے ایک دوسرے پر برس پڑتے

ہر کوئی خود کو چنگیز خان کی اولاد اور دھرتی کا واحد فرعون ثابت کر نے پر تلا ہوا تھا

گالیوں کے شرمناک تبا دلے کے بعد بعض ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوجاتے

کو ئی لڑ رہاتھا کو ئی بیچ بچا کی ناکام کو شش کررہا تھا

لوگوں میں صبر ایثار قربانی دوسروں کو برداشت کرنے کا حو صلہ ہی نظر نہیں آرہا تھا

لگ رہا تھا مہذب انسانوں کی بجائے جانوروں کا ریوڑ ہے

جو ایک دوسرے کو کاٹ کر آگے بڑھنے کی کو شش کر رہا ہے

یہ با ت کو ئی بھی ما ننے کو تیا ر نہ تھا کہ سست روی کی وجہ بے پنا ہ ٹریفک اور شدید دھند ہے

اِس میں کسی کا بھی قصور نہیں ہے
لیکن انسانوں کے اندر حیوانیت جلد با زی بے چینی تکبر غرور ظلم خود پسندی

دوسروں کو نیچا دکھا نے اور اپنی برتری ثابت کرنے کا حیوانی جذبہ ٹریفک کے بگاڑ کا سبب بنا ہوا تھا

تحفے

اسی دوران ہم پٹرول پمپ کے پاس سے گزرے تو وہاں بھی لمبی قطاریں

اور پٹرول پہلے ڈلوانے کے چکر میں کچھ لوگ قطار کے آخر میں لگنے کی بجا ئے

سب سے آگے گا ڑی گھسیڑنے کی کو شش کر رہے تھے

کہ میں لمبی قطار میں انتظار کی زحمت ے کیوں دو چار ہوں
دوسرے تو کمی کمین لوگ ہیں میں دوسروں سے ممتا ز ہوں میری چار آنکھیں دوسر دو دماغ 4 ہاتھ چار ٹانگیں ہیں

دنیا میں مجھے دوسروں پر حکومت اور اپنی مرضی کر نے کا پورا اختیار ہے

میں طاقتور ہوں میرا کو ئی عزیز رشتے دار کسی بڑی پو سٹ پر ہے یا میں کسی طاقتور خاندان کا چشم و چراغ ہوں

میرے اوپر کو ئی قانون یا اخلاقی ضابطہ لاگو نہیں ہو تا میں جو مرضی کروں مجھے کون روکے گا

اسی دوران کو ئی سیاسی لیڈر وزیر وغیرہ کی گا ڑی کو پولیس والے پہلے نکالنے کے چکر میں تھے

پو لیس اور با ڈی گارڈ وں کی ڈیوٹی بھی تھی کہ اشرفیہ اور بڑے لوگ کیوں انتظار کریں

انتظارتو غریب عوام ہی کر تی ہے

پولیس افسران اور بیوروکریٹ کی گا ڑیاں تمام قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی من مانی کر تی نظر آرہی تھیں

کسی کے روئیے سے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ وقت پر نہ پہنچا تو آج ہی حشر برپا ہو جا ئے گا

ٹریفک کی سست روی پر بھکا ریوں کی چاندی ہو گئی تھی انہوں نے لوگوں پر ایک قسم کا حملہ کر دیاتھا

ہ خوفناک حد تک لوگوں سے پیسے لینے کے چکر میں تھے

رنگ برنگے بھکا ریوں اور ڈرامہ با زوں نے الگ سے لوگوں کا جینا حرام کیا ہواتھا

اگرآپ ان کو پیسے نہ دیں تو یہ کمزور دل لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہو ئے انہیں بد دعائیں دینی شروع کر دیتے ہیں

ہیجڑوں اور بھکا ریوں کی بلیک میلنگ سے ڈرتے ہوئے

لوگ جان چھڑانے کے لیے بڑے نوٹوں کی بھیک اِن کو ڈرتے ہوئے دے دیتے ہیں

اِن بھکاریوں اور خواجہ سراں کی تو عید لگ رہی تھی

کیونکہ یہ جس گاڑی کو پکڑ لیتے پیسے لے کر جان چھو ڑتے

اِن بھکاریوں نے مختلف روپ بہروپ اپنا رکھے تھے کو ئی اندھا بن کے بیٹھا ہے کو ئی مریض کو ئی بیوہ

کو ئی حا دثے کا شکا ر کسی نے پرچے پر درد ناک داستان لکھ رکھی ہے جس کو پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے

کوئی انتہا ئی پراسرار طریقے سے سڑک کنا رے بیٹھا یا بیٹھی ہے

کسی نے شیر خواد بچوں کو بلیک میل کے طور پر اٹھا یا ہوا ہے
کسی عورت نے یتیم بچوں کی فوج اپنے گلے لگا رکھی ہے

کوئی عین سڑک کے درمیان اپا ہج بن کر خو د کو گھسیٹ رہا ہے
اس کی حالت دیکھ کر مسا فر اپنا پرس اس کے سامنے ڈھیر کر دیتا ہے

کوئی مرگی کا مریض ہونے کا ڈرامہ کر ر رہا ہے کہ اس کو دورہ پڑا ہوا ہے

اس کے گلے میں پر چہ لٹکا ہوا ہے کہ یہ مر گی کا مریض ہے

اِس کی اطلا ع اِس نمبرپردیں یا گاڑی میں بٹھا کرگھرچھوڑآئیں یاگا ڑی کاکرایہ دیں ۔

اِس کے علا وہ بھکا ریوں کی بڑی تعداد اخبار کھلونے اور صفائی والے تو لیے بیچنے کی ادا کا ری کرتے نظرآتے ہیں

اِس طرح وہ یہ ثابت کر نے کی کو شش کر تے ہیں کہ پیشہ ور بھکا ری نہیں ہوں

بلکہ میں تو باعزت طور پر روزی کما نے کی کوشش کر رہا ہوں

انہیں میں روٹی مانگنے والے بھکا ری بھی ملتے ہیں جو ہر ایک سے کھانے کے پیسے مانگتے ہیں

ما دیت پرستی میں غرق اور حیوانیت کے عروج پر حیوان نما انسانوں کا مشاہدہ کر تے ہو ئے ہم آخرکار نہر پر آگئے

یہاں پر ٹریفک بہتر ہوگئی ہما ری گا ڑی اب دوڑنے لگی اچانک میزبان ڈرائیور نے گا ڑی روکی

میں نے دیکھاکہ سڑک کنا رے ایک بوڑھا آدمی اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑا تھا

وہ شاید اپنی بیٹی کو سکو ل چھوڑنے جا رہا تھا اس کا پٹرول ختم ہو گیا تھا

اب وہ اپنی موٹر سائیکل کوالٹا کرکے پٹرول کے چند قطرے حاصل کرناچاہ رہا تھا تا کہ پٹرول پمپ تک جا سکے

میرا میزبان دروازہ کھول کرڈگی کی طرف گیا پٹرول سے بھری بوتل نکالی

اور اس شخص کے پاس جاکر اس کی موٹر سائیکل میں پٹرول کی بوتل خا لی کردی

بوڑھے شخص نے تحسین آمیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور چلا گیا

ماڈرن صوفی

میں اپنے میزبان کے اس خوشگوار عمل سے بہت متاثر ہوا

اس نے میری طرف دیکھا اور بو لا سر میں ہمیشہ اپنی کا ر میں دو بو تلیں پٹرول کی رکھتا ہوں

جیسے ہی کو ئی ضرورت مند نظر آتا ہے اس کو دے دیتا ہے ہوں
اور فوری طور پر پھر بو تلیں پٹرول سے بھر لیتا ہوں میرے پاس ضروری آلا ت بھی ہیں

میں تھو ڑا بہت گا ڑی کے انجن کو بھی ٹھیک کر لیتا ہوں
میں خو شگوار حیرت سے اس کو دیکھ رہا تھا

وہ نہایت شیریں لہجے میں بتا رہا تھا کہ ہم چند دوست بچپن سے یہ کام کر تےآ رہے ہیں

کہنے کو تو یہ چھوٹا سا کام ہے لیکن مشکل وقت جس کو ضرورت ہو تی ہے

اس کے لیے یہ مسیحائی کا اعلی مقام ہے

آگے جا کر اس نے اپنی بو تلیں پھر بھر لیں کسی اور ضرورت مند کے لیے

میں جو انسانوں کو حیوانیت میں غرق دیکھ رہا تھا

اچانک مجھے خو شگوار معطر جھونکے کا احساس ہوا

کہ اِس بانجھ مر دہ معا شرے میں ایسے روشن چہرے بھی ہیں

جن کے کردار اور چھو ٹی سی مددسے وہ نو ر نکلتا ہے

جس کی روشنی اور خو شبو سے مردہ انسانوں کی روحیں بھی مہکنے لگتی ہیں

مجھے اس روشن چہرے کے سامنے بڑے بڑے حا جی نماز ی کیڑے مکو ڑوں کی طرح نظر آئے ۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کامتفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.