Urdu News and Media Website

قابل اعتراض ویڈیوز۔رابی پیرزادہ نے کارروائی کیوں نہیں کی،وجہ سامنے آگئی

سابق گلوکارہ رابی پیر زادہ نے قابل اعتراض ویڈیوز وائرل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں وجہ خود ہی بتادی۔رابی پیرزادہ نے وائس آف امریکا کودیئے گئے انٹرویو میں اپنی وائرل ہونے والی ویڈیوز اور شوبز چھوڑنے کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ باتیں کیں۔رابی پیرزادہ کاکہناہے کہ اب شوبز میرے لیے مکمل طورپر ختم ہوچکاہے۔اگر میڈیا پر آؤں گی توصرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تعلیمات کے حوالے سے ہی بات کروں گی۔

یہ بھی پرھیں:

مہوش حیات بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی مخالفت کرنے والوں پر برس پڑیں
رابی پیرزادہ نے وائرل ہونے والی ویڈیوز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو وائرل کرنے والوں سے جان کاخطرہ تھا۔ایف آئی اے نے ویڈیوز وائرل کرنے والے تمام افراد کا سراغ لگا لیاتھا۔جان کا خطرہ ہونے پر ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔رابی پیرزادہ نے بتایا کہ ویڈیوز وائرل کرنے میں 6 لوگ تھے جن میں سے 2 کا تعلق لاہور سے تھا جب کہ دبئی میں بھی تھے جنہیں میری ویڈیوز لیک کرنے کے لیے پیسے دئیے گئے تھے۔تاہم ایف آئی والوں نے مجھے کہا رابی اس کی تفصیلات میں نہ جائیں کیونکہ اس سے آپ کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے، تو زندگی تو سب کو پیاری ہوتی ہے۔ لہٰذا جن لوگوں نے میرےساتھ یہ کیایامیری ویڈیوز آگے شیئر کیں مجھے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی، مجھے لگتا ہے کہ میں اب اس چیز سے نکل آئی ہوں اور میں نے اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں چھوڑدیا ہے۔

یہ بھی پرھیں:

معروف گلوکارہ کی شوہر سے راہیں جدا


رابی پیرزادہ نے اپنی گزشتہ زندگی کو گناہوں سے لبریز قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمرے کی ادائیگی کے بعد احساس ہوا کہ وہ زندگی مکمل ضائع ہونے کے مترادف ہے۔اب ہوش میں آگئی ہوں۔
سابق گلوکارہ نے مزید کہا کہ میڈیا پر اللہ کا نام لیتی ہوں تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔’’میراجسم میری مرضی‘‘نہیں بلکہ’’میراجسم اللہ کی مرضی‘‘کہا تو کچھ خواتین بھی ناراض ہوئیں۔مگر لوگوں کو یہ پیغام دینا ضروری تھا۔
لاہور(ویب ڈیسک)

تبصرے