Urdu News and Media Website

بچوں سےزیادتی کےمجرموں کوسرعام پھانسی،وفاقی وزراء مخالفت پر اتر آئے

بچوں سے زیادتی اور قتل کرنے والے مجرموں کو سرعام سزائے موت کی وفاقی کابینہ کے اراکین نے مخالف کردی۔ حکومتی قرار داد کے خلاف وفاقی وزرا نے ہی محاذ کھول لیا۔فوادچودھری اور شیریں مزاری کے بعد وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم نےبھی بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی مخالفت کردی۔فروغ نسیم کاکہناہے کہ سرعام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین کے منافی ہے۔1994میں سپریم کورٹ سرعام پھانسی کی سزا کوغیرآئینی قرار دے چکی ہے۔وزارت قانون آئین اور شریعت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔
fawad tweet
وفاقی وزیرفواد چودھری نے آج پھر ٹویٹ کیا جس میں لکھا کہ مسئلہ ہی یہ ہے قوانین تو پہلے ہی موجود ہیں یہ توبحث ہی نہیں،زینب کے کیس سمیت درجنوں کو پھانسی ہوچکی ہے،اور ہونی بھی چاہئے۔سوال یہ ہے کہ یہ واقعات کیوں نہیں رک رہے؟صرف پھانسیوں سے معاملات درست ہوتے تودنیا میں جرم ہی نہ ہوتے۔قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام سزائے موت کی قرار داد کی منظوری کے فوری بعد بھی فواد چودھری نےردعمل کااظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ سب ہوچکا ہے،اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابرہیں،مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں،اس طرح کی سزاؤں سے معاشرے بےحس ہوجاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھودیتی ہے۔

وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نےبھی بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام سزائے موت دینے کی مخالفت کردی،قرارداد کی منظوری پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرعام پھانسی کی قرار داد حکومتی قرارداد نہیں تھی،اس کی منظوری میں ارکان نے پارٹی لائن سے ماورا ہوکر ووٹ دیئے،ہم سے بہت سے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

خیال رہےکہ 7فروری کو قومی اسمبلی نے بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی۔ مجرموں کو سرعام سزائے کی قرارداد وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان میں پیش کی تھی۔
اسلام آباد(ویب ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.