Urdu News and Media Website

کیا پاکستان کشمیر کیلئے صحیح سوچ رہا ہے؟

تحریر:ملک شفقت اللہ۔۔۔
اسرائیل کے بعد بھارت پچھلی چار دہائیوں سے نہ صرف خطے میں بلکہ ساری دنیا میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے، چاہے اسے افغانستان میں دیکھیں یا شام و عراق میں۔اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت کو نکیل نہ ڈالنے کی وجہ سے اس کی ہٹ دھرمی اور ہرزہ سرائی بڑھتی جا رہی ہے۔ جیسے عرب ممالک نے اسرائیل کو غنڈہ بنا رکھا ہے اسی طرح بھارت کو ایشیاء میں عالمی طاقتیں غنڈہ بنا رہی ہیں ۔عالمی طاقتوں کی جانب سے پشت پناہی نے بھارت کی رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت خطے میں چوہدراہٹ قائم کرنے کیلئے ہر طرح سے غیر انسانی اقدام کررہا ہے۔یہ ہندوتوا پالیسیز اور نظریات دنیا میں بھر کے امن کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بھی انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کئی مسلم ممالک کی پالیسیاں بھی امریکن لابی کے ماتحت بن رہی ہیں، کیونکہ وہ اپنے کاروبار کو کبھی ختم کرنا نہیں چاہتے۔ موجودہ طور پر ہندوستانی سماج کے بعض گوشوں میں خوشی منائی جا رہی ہے اور کشمیر میں غم کے بادل چھائے ہیں۔ سری نگر جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ چھین لیے جانے کے بعد کشمیری پنڈتوں نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کے لیڈر سنجے ٹیکو کا کہنا ہے کہ اب کشمیر میں پنڈتوں کا رہنا مزید مشکل ہو جائے گا ۔ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد انہیں ڈر ہے کہ کشمیر سے کہیں انہیں جانا نہ پڑ جائے۔ ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر کے مطابق کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے سربراہ نے کہا کہ میں اس سے بھی بدتر حالات کی پیش گوئی کرتا ہوں جب شورش پسندی کے شروعاتی دور میں پنڈتوں نے ہجرت کی تھی ۔ دفعہ 370 اور 35-A کو ہٹانے کا مطلب جدو جہد کو مزید سو سالوں کیلئے طویل کرے گا۔ یہ فرقہ وارانہ تقسیم کو تیز کرے گا۔کشمیر کے شہری ، کشمیر کے تاجرین جو ملک کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے ہیں وہ وطن میں اپنے خاندان کی خیر خیریت سے متعلق کافی تنائو میں ہیں۔ بھارتی معیشت تو پہلے ہی ہوا میں لٹک رہی تھی لیکن اب ان کاروباری لوگوں کا بھارت میں انڈسٹری کو بند کر دینا ہے، دو دن پہلے ہی بھارت میں ایک دم اٹھارہ ہزارلوگوں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے۔اس طرح بھارت دیوالیہ ہو سکتا ہے ، لیکن اس سے آ ر ایس ایس کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، اگر کہیں مودی لچک دکھانے لگے تو اس کو اپنی جان کے بھی لالے پڑے ہیں ۔ ان آرٹیکلز کی تنسیخ کا اقدام کافی رازداری میں کیا گیا ۔ اس بہانے پر کہ دہشت گرد حملہ کا اندیشہ ہے، بڑی تعداد میں آرمی کے لوگوں کو پہلے سے موجود لاکھوں سپاہیوں کو مزید طاقت بخشنے کیلئے بھیجا گیا۔ ایک طرف بھارت ملٹری تعیناتی اور دوسری طرف ریاست کو بالکلیہ ٹھپ کر دیا گیا اور عوام نہیں جانتے کہ ان کا کیا ہونے والا ہے۔ ساری ریاست میں کہیں نہ کہیں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ قانون کے پنڈت سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اس آرٹیکل کو اس طرح ختم کیا جا سکتا ہے جس طرح کیا گیا ؟ لہٰذا ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس ، بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کو حقیقت میں بدلنے کی عجلت میں موجودہ لا پرواہی سے خود کو ایک ایسی سمت کی طرف دھکیل رہی ہے جو شاید قانونی طور پر قابل مدافعت نہیں ہے۔ سارا پس منظر ہمارے سامنے ہے ، کہیں بھی ایسا راستہ نظر نہیں آتا جو ہمارے حق میں جاتا دکھائی دے۔ بھارت اپنا مشن پورا کر چکا ہے، وہ کشمیر پر قابض ہو چکا ہے۔ ہم خوابِ غفلت کا شکار رہے ، ہمیں حافظ محمد سعید جیسے کئی ملک پرست انتباہ دیتے رہے مگر کچھ نہ کیا۔ ایک سال پہلے میں اپنی ایک تحریر میں بتاچکا ہوں کہ بی جے پی حکومت آر ایس ایس کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے والی ہے۔ ابھی بھی حکومت اپنی سمت درست نہیں کر پا رہی ۔عمران خان کہتے ہیں کہ ہم ہر جمعہ کے دن آدھا گھنٹہ کشمیریوں کیلئے احتجاج کیا کریں گے! ہم اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے مسئلہ پر بات کریں گے، لیکن بھارت جس کیلئے فضائی حدود بند کی گئیں تھی اس کا وزیر اعظم ہماری ہی فضائی حدود استعمال کر کے فرانس، امریکہ اور دیگر ممالک کا دورہ کر رہا ہے اور وہاں یہ کہہ رہا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کا آپسی تنازعہ ہے ، اس لئے دنیا اس میں مداخلت کی زحمت نہ اٹھائے۔ مودی نے ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ کانفرنس میں دو ٹوک کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنے مسئلے خود سلجھا لیں گے کسی بھی ملک کو ثالثی کی زحمت نہیں دینا چاہتے۔مودی نے تو اپنی پالیسی واضع کر دی ہے، بھارت کے ساتھ تجارت بند ہے لیکن آج بھی بھارتی ٹرک پاکستان کے راستے افغانستان سفر کر رہے ہیں اور تجارت ہو رہی ہے۔پاکستان چاہتا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائیں لیکن یہاں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ عالمی عدالت صرف اسی کیس کو سماعت کرتی ہے جس پر دونوں فریقین رضا مند ہوں،یعنی اگر بھارت راضی نہیں ہوتا جس طرح کا وہ بیانیہ دے رہا ہے تو پاکستان کا تماشہ ساری دنیا میں بنے گا، اور دوسری صورت میں اگر بھارت عالمی عدالت انصاف میں جانے پر رضا مند ہو ہی جاتا ہے اور فیصلہ پاکستان کے حق میں آبھی جاتا ہے تو اس وقت تک سال دو سال کم از کم گزر چکے ہونگے اور تب کشمیر کے حالات بھارت کے حق میں سازگار بنچکے ہوں گے۔ تب پاکستان کیا کرے گا، زیادہ سے زیادہ جنگ؟ مجھے لگتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں جانا پورے کشمیر اور کشمیریوں کو دائو پر لگانا ہے۔کیا یہ پاکستان کی کشمیر پالیسی ہے؟ کیا یہ کشمیریوں اور پاکستانی عوام کے ساتھ دوہرا رویہ نہیں؟ یاد رہے کہ علی گیلانی نے اسی وقت کہا تھا جب کشمیر کی خصوصی حیثیت پر شب خون مارا جا رہا تھا کہ ’’ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.