Urdu News and Media Website

پاک فوج پر حملہ ۔پی ٹی ایم کا ایجنڈا کیا ہے ؟

تحریر:صابر مغل۔۔۔
بنوں ڈویژن کے ضلع شمالی وزیرستان کے صدر مقام میراں شاہ سے 21کلومیٹر دورپاک افغان سرحد سے ملحقہ دتہ خیل کے علاقہ میں پی ٹی آئی رہنمائوں محسن داڈر اور علی وزیر کا مسلح ساتھیوں سمیت دہشت گردوں کو چھڑانے کے لئے پاک فوج کی خار قمر چیک پوسٹ پر دھاوا بول دیا چیک پوسٹ پر تعینات جوانوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لئے انتہائی تحمل اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا مگر اس وقت حالات بے قابو ہو گئے جب PTMکے مسلح کارکنوں نے پاک فوج کے جوانوں پر فائر نگ کر کے پانچ اہلکار شدید زخمی کر دیا جوابی فائرنگ میں پی ٹی ایم کے تین کارکن ہلاک اور دس کے قریب زخمی ہو گئے،ڈی جیISPR میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پی ٹی ایم کے مسلح کارکنان نے محسن داوڑ اور وزیر علی قیادت میں چیک پوسٹ پر گرفتار دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑانے کے لئے حملہ کیا مطالبہ تھا گرفتار سہولت کاروں کو فوری رہا کیا جائے سیکیورٹی فورسز نے براہ راست اشتعال انگیزی اور ہوائی فائرنگ کے باوجود صبر و تحمل سے کام لیا مگر جب اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تو جوابی کاروائی ضروری ہو گئی تھی ،اس واقعہ کے بعد علاقہ میں کرفیو نافذ اور انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی ،پاکستانی تاریخ میں 1971میں سقوط ڈھاکہ سے قبل مغربی پاکستان میں مکتی باہنی کے بنگالی کارکن اور وہاں کی عوام پاک فوج پر حملے کرتی تھی مگر ان کا طریقہ کار یہ نہیں تھا اب پاکستانی فوج پرایسا حملہ اغیار کے ہاتھوں کھلونا بننے والے پاک فوج کے بدترین مخالف عناصر کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،تمام طاغوتی طاقتیں پاکستانی فوج سے بہت خوفزدہ ہیں بھارت اور افغانستان کی پاکستان مخالف آواز اور پی ٹی ایم کی آوز میں حیرت انگیز تک مماثلت اور ہم آہنگی ہے یہ ریاست کے خلاف بغاوت ،اس کی اساس پر حملہ اور ملک دشمنی میں ہر حد پار کرنے کا واقعہ ہے جس پر کسی صورت مصلحت کا دروازہ نہیں کھلنا چاہئے یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ کسی گریٹ گیم کا حصہ اور عملی آغاز ہے ،اسی علاقہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے شہادت پیش کی یہ عناصر اس وقت کہاں تھے جب یہ علاقہ دہشت گردی اور طالبان کے زیر تسلط تھا ہر طرف بد امنی کا راج ان کی مرضی و منشا کو دبا کر رکھ دیا گیا تھا حالات بہتر ہوئے تو علاقہ میں پاک فوج کی مدد اور معاونت سے تعمیر و ترقی کا سنہری دور اور فاٹا اصلاحات کا عمل شروع ہوا تو ایسے لوگ بلوں سے نکل آئے یہی وہ علاقہ ہے جہاں17مارچ 2011میں امریکی حملے میں طالبان کمانڈر شربت خان سمیت44افراد ہلاک ہوئے تھے،پاکستان کو پہلے ہی عالمی سطع کے بے پناہ مسائل او رچیلنجز درپیش ہیں اس علاقہ کو بھی دہشت گردوں سے پاک کیا گیامگر یہاں امن و سلامتی بیرونی قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہی آئے روز افغانستان سے دہشت گردوں کا جتھہ آ کر پاک فوج پر حملہ کر دیتا ہے30اپریل اور یکم مئی کی شب بھی 70سے80دہشت گردوں نے افغان علاقہ گیان اور ہرمل سے سرحد عبور کی اورالواڑہ کے علاقہ میں باڑ لگانے میں مصروف سیکیورٹی اہلکاروں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجہ تین اہلکار لانس نائیک علی،نذیر او رسپاہی امدادشہید ہو گئے تب سے علاقہ بھر میں ان کے سہولت کاروں کی تلاش کا سرچ آپریشن جاری تھا دو روز قبل انہی نام نہاد لیڈروں کے گھروں کی جانب سے خر قمر چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی اس واقعہ اور دیگر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی گرفتارپر یہ ہنگامہ برپا کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ انہیںابھی ہمارے حوالے کریں ،تضادات اور تحفظات عوام کو درپیش آتے رہتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا کہ ملکی سلامتی کے سب سے بڑے ادارے پر حملہ ہی کر دیا جائے ،اس حملہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پتا چلا مسلح افراد کی بڑی تعداد پاک فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں آگے دکھیلنے کی کوشش میں مصروف ہے مگر وہ عظیم سپوت اسلحہ موجود ہونے کے باوجود کسی بھی کشیدگی سے بچنے کے لئے ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑے مزاحمت کر رہے تھے،اسی ویڈیو میں بعض افراد کی ٹوپیوں پر بھی کیمرے نصب تھے ایک عورت منہ چھپا چھپا کر تصاویر بنانے میں مصروف تھی یوں ویڈیوز بنانے اور چھپے کیمروں کا کیا مطلب تھا ؟یہ کن کو دکھانا چاہتے تھے کہ ہم کیا گل کھلا رہے ہیںایسے خفیہ کیمرے صرف جاسوسی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، پاک فوج کے جوان ان ملک دشمن عناصر کے خالف سینہ سپر رہے اور اس وقت حرکت میں جب ان پر فائرنگ کا آغاز کر دیا گیا ،پاک فوج نے اس حملہ میں ملوث وزیر علی ایم این اے اور ڈاکٹر گل عالم سمیت دیگر 8ساتھیوں سمیت گرفتا کر لیا تاہم محسن داوڑ سمیت دیگر افراد بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے،اس انوکھے اور ملک دشمن واقعہ پر پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ،افغان میڈیا اور وہاں سے ہی آ پریٹ ہونے والے سوشل میڈیا نے طوفان بد تمیزی برپا کر دیا،پرانی تصویریں لگا کر انہیں مظلوم اور پاک فوج کو ظالم ظاہر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ،پی ٹی ایم کے منظور پشتین نے ٹویٹ کیافوج نے ان کے پر امن دھرنے پر حملہ کیا ،داوڑ نے کہاجب میں پہنچا تو آرمی نے فائرنگ شروع کر دی ،کیا عجب تماشہ ہے ایک طرف بغاوت جیسا عمل کرنا اور دوسرا الزام تراشی بھی اداروں پر ہی کرنا ، اپوزیشن کی افطاری میں بلاول بھٹو زرداری نے محسن داوڑ اور وزیر علی کو خصوصی دعوت دی بعد از اں محسن داوڑ کو کھل کر بات کرنے کا موقع فراہم کیا گیا اس نے کہا آئین پر من و عن عمل کرنا ہو گا تمام اداریہر غمال ہیں مفلوج شدہ جمہوریت سے گذر رہے ہیں اغوا شدہ نظام کو عوام کے ہاتھوں میں دیں گے ہم سب اس حوالے سے ایک پیچ پر ہیں اس اکٹھ میں حمزہ شہباز کو مائیک نہیں دیا گیا تھا مگر ایسے کرداروں کی وہاں بے پناہ پذیرائی ہوئی جن کے بارے 29اپریل کو ڈائریکٹر جنرل ISPRنے پریس کانفرنس میں واضح کر دیا تھایہ لوگ پاکستان ن مخالف قوتوں کے ہاتھوں کام کر رہے ہیں ان کی فنڈنگ بھارتی ایجنسیRAWور افغانی NDSسے ہوتی ہے ان کے افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں سے براہ راست تعلقات ہیں پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہی غیر ملکی طاقتوں کی ایما پر پاکستان میں بدامنی پھیلانا اور اہم ترین ادارے پر الزامات لگانا ہیں، معتبر ترین ادارے کی جانب سے حقائق بیان کرنے پر بھی بلاول بھٹو زرداری نے انہیں نہ صرف پارٹی پر بلایا بلکہ اب اس مکروہ واقعہ پر الٹا پاک فوج کی ہی مذمت کر دی لاڑکانہ میں موجود بلاول بھٹو زرداری نے فوری کہا میں نہیں مانتا کہ انہوں نے فوج پر حملہ کیا ہو یہ سب جھوٹ ہے محسن داوڑ اور وزیر علی پر حملے کی مذمت کرتا ہوں ، مریم نواز نے بھی شر پسندوں کی حمایت میں ٹویٹ کر ڈالا کہ محبت اورمفاہمت ہتھیاروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں ہم احتجاج کچلنے اور آوازیں دبانے کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں،چند روز قبل صوابی کے گائوں مرغوز کی رہائشی اور پروفیسر محمد اسماعیل کی بیٹی گلا لئی اسمعیل نے اسلام آباد میں معصوم فرشتہ کے ساتھ درندگی کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور قومی ادارے کے خلا ف ہرزہ سرائی کی ،ایسے لوگوں کو مغرب بہت اہمیت دیتا ہے جو ان کے حواری بن جائیں، اسے برطانیہ میں ایکسی لینسی ایوارڈ دینے کے ساتھ ملکہ الزبتھ سے بھی ملاقات کرائی گئی،حکومت کی جانب سے فردوس عاشق اعوان کے کہا شر پسند عناصر پاکستان کی ترقی میں روڑے اٹکانا چاہتے ہیں کچھ لوگ بین الاقوامی طاقتوں کے آلہ کار بن کر امن تباہ کرنا چاہتے ہیں مگر یہ خود تباہ ہو جائیں گیان کے مذموم مقاصد کو کچل دیا جائے گااور اس علاقہ میں امن و ترقی کا سفر جاری رہے گا،اس حوالے سے DGآئی ایس پی آر نے ٹویٹ میں کہا دہائیوں پر مشتمل جدوجہد ،پاک فوج اور غیور قبائلیوں کی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے چند مٹھی بھر عناصر مذموم مقاصد کے لئےPTMکارکنان کو اشتعال دلا رہے ہیں کارکنان کو احتیاط کی ضرورت ہے،پاک فوج کی جانب سے ایسے عناصر کو کسی مصلحت کے تحت ڈھیل دی گئی کہ شاید یہ سدھر جائیں مگر ڈالرز کی بارش کب کسی کو سدھرنے دیتی ہے اس سے تو خود کش بمبار بھی تیار ہو سکتے ہیں،مگر ایسے بمباروں کی سرکوبی اب وقت کی اہم ضرورت ہے ایسا ایسے موقع پر کیا گیا جب چینی نائب صدر جو حکومتی پالیسیوں میں کلیدی کردار کے حامل ہیں پاکستان پہنچ چکے تھے،اسی رات وادی شوال کی چیک پوسٹ کلی گڑھ میں بھی دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر دھاوا بول دیا مگر پاک فوج نے مئوثر کاروائی سے یہ حملہ مجموعی طور پر ناکام بنا دیا تاہم ایک اہلکار شہید ہو گیا ،علاوہ ازیں خار کمر چیک پوسٹ سے ڈیڑھ کلومیٹر دور نالہ میں گولیوں سے چھلنی پانچ نامعلوم افراد کی نعشیں ملی ہیں فوج ان کی شناخت کر رہی ہے ،

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادراے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.