Urdu News and Media Website

در ۔اصل

تحریر:عاتکہ کنول۔۔۔
یہ زندگی کی حقیقت ہے کہ ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں یا یہ کہنا بہتر ہو گا کہ زندگی ہمیں بہت سے لوگوں سے ملواتی ہے، ہر شخص مختلف ہوتا ہے، چاہے وہ دوسروں کے لیے اچھا ہو یا نہ لیکن ہم سب خود کو اچھا ہی سمجھتے ہیں ۔ ہمیں زندگی میں ان لوگوں کو اہمیت دینی چاہیے جو ہماری قدر کرتے ہیں، جو ہمیں اچھا سمجھتے ہیں، جن سے ہمیں بھلائی کی امید ہو یا جن کو ہم سے بھلائی کی امید ہو۔ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ چیزیں بانٹ سکتے ہیں لیکن ہمیں کبھی بھی کسی دوسرے کو اپنی کہانی رو رو کر سنا کر اس کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمیں خود اپنے اور اللہ کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا چاہیے، چاہے وہ ہم اچھے کام کر کے ہوں ، دوسروں کو کوئی اچھے کام میں نفع پہنچا کر یا کسی کی غلط بات کو تسلیم نہ کر کے۔ ہمیں بہت سے انسان ملتے ہیں جن کو ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اہمیت دیتے ہیں لیکن دراصل ان کو ہماری توجہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ، ایسے لوگوں سے انسان گلہ بھی نہیں کر سکتا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
آپ خود ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
دراصل، ہم ان لوگوں کا دل بھی نہیں دکھانا چاہ رہے ہوتے لیکن خود ہمارا دل ان کے رویوں سے یا ان کی کسی بات کی وجہ سے دکھتا ہے۔ اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو ہم پسند بھی نہیں کرتے لیکن ہمیں ان کے ساتھ رہنا پڑتا ہے چاہے کچھ وقت کے لیے ہی سہی۔ کہتے ہیں کہ جہاں عزت نہ ہو وہاں نہیں جانا چاہئیے ،کوئی بھی اپنی عزت کسی کے دل میں بنوا نہیں سکتا ، یہ ایک قدرتی چیز ہے، اللہ جس کے لئے جس کے دل میں عزت ڈالے، پھر اللہ ہی اسے اس کے دل سے نکال سکتا ہے۔ عزت کی جاتی ہے ان لوگوں کی، جن کی اہمیت ہوتی ہے ،دوسروں کے سامنے بھی ان کی غیر موجودگی میں بھی لیکن اگر کوئی کسی کو اہمیت نہ دے ، اس کو اتنا قریب نہ جانے ، اس کو عزت نہ دے تو دوسرے شخص کے دل میں بھی اس کی عزت بہت کم ہو جاتی ہے۔ دراصل ،ـ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی انسان چاہ کر بھی کسی کو ذلیل و رسوا نہیں کر سکتا کیو نکہ اگر کوئی بھی ایسا شخص جس سے غلطی ہو، وہ اللہ سے معافی مانگ لے تو اللہ نہ صرف اسے معاف فرما دیتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی اس کے لئے عزت پیدا کر دیتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.