Urdu News and Media Website

اپریل فول

تحریر:عبدالوحیدشانگلوی۔۔۔
کیا اسلام ہمیں اس بےہودہ حرکت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا یہ ہمارے دین کا حصہ بھی ہے؟ جس کو مسلمانوں نے اتنی اہمیت دی۔ جھوٹ جیسے عظیم جرم کو بھی ہم نے مذاق سمجھا۔ اپریل فول کیا ہے؟ جس میں ہر آدمی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں سب سے زیادہ جھوٹ بولو، اور جھوٹ بھی اس طریقے سے کہ جس میں نقصان زیادہ ہو۔ ہر اس آدمی کو داد دی جاتی ہے جو زیادہ چالاکی اور ہوشیاری سے جھوٹ بولے، اس پر فخر بھی کرتا ہے کہ میں نے تو بڑا تیر مارا۔ آج میں ” اپریل فول ” کی تاریخی پس منظر سے قطع نظر کر کے صرف ظاہری نقصانات سے اگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اس دن کو سب سے زیادہ جھوٹی خبریں پھلائی جاتی ہیں۔ شرعی نقطہ نظر سے جھوٹ کتنا بڑا گناہ ہے؟ جس کا اندازہ اس حدیث مبارک سے لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت صفوان بن سیلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:” ہاں ہوسکتا ہے”۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:” ہاں ہوسکتا ہے”۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:” مومن ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا”۔ ہمارا حال کیا ہے؟ ہم اس سے غافل ہیں، عاقل کےلیے تو صرف اشارہ کافی ہے، پھر اتنے صریح فرمان کے باوجود ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ بعض ناداں کہتے ہیں یہ تو مذاق ہے، خوش طبعی کےلیے ہم ایسے کرتے ہیں، لیکن مذاق کے طور پر جھوٹ بولنا یہ بھی جھوٹ کے حکم میں ہے۔ اس کے متعلق بھی وہی وعید ہے جو حقیقتاً جھوٹ کے بارے میں ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالی نے مزاح اور سنجیدگی کسی صورت میں بھی جھوٹ جائز قرار نہیں دیا اور بچوں سے ایسا وعدہ بھی نہ کرے کہ جسے پھر پورا نہ کرتا ہوں۔ بہر کیف! مذاق میں جھوٹ بولنا بھی گناہ ہے۔ بعض لوگ کمزور دل والے بھی ہوتےہیں، جن کو یکایک خبر دی جائے کہ آپ کا فلاں رشتہ دار فوت ہوگیا، تو وہ بےچارے خود زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کم از کم اذیت تو ضرور ہوتی ہے، اسی طرح بہت سارے واقعات ہیں لیکن میں صرف ایک ہی پر اکتفا کرتا ہوں جو استاد محترم انور غازی صاحب نے ذکر کیا ہے۔ ” حافظ جہانزیب کے گھر ان کے ایک دوست نے مٹھائی کا ڈبہ یہ کہہ کر بھیجا کہ آپ کےلیے ہدیہ ہے۔ جہانزیب نے اس کو قبول کیا۔ اتفاق سے دوسرے دن جہانزیب کے ایک استاد تشریف لائے تو خاطر تواضع کرنےکے لیے مٹھائی کا ڈبہ اپنے محترم استاد کے سامنے رکھ کر بڑے احترام سے عرض کیا:” آپ مٹھائی لیجیے”۔ یہ کہہ کر وہ چائے لینے کےلیے پلٹا۔ جب استاد نے ڈبہ کھول کر مٹھائی کا پیس اٹھانے کےلیے ہاتھ بڑھا یا تو ڈبے کے اندر کیلے کے چھلکے، گندی تھیلیاں، گارا اور پتھر تھے۔ جہانزیب چائے لےکر آیا تو اس کے محترم استاد غصے سے جاچکے تھے اور ڈبہ میں یہ "فول” بنانے والی اشیا موجود تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہوا۔ اس نے وہ ڈبہ اٹھایا اور اپنے دوست کے طرف چل پڑا۔ جب اس کے پاس پنچا تو یکدم اس نےکہا:”اپریل فول”۔ جہانزیب چونکہ اس بےہودہ اور تکلیف دہ مذاق سے ناآشنا تھا، اس لیے وہ غصے سے چراغ پا ہورہا تھا۔ اس نے جہانزیب کو بہت ہنسانے کی کوشش کی لیکن جہانزیب اپنے محترم استاد کی ناراضی کی وجہ سخت نالاں تھا”۔ عبرت کا مقام ہے جہانزیب کو کتنی اذیت پہنچی ہوگی؟ حالانکہ اذیت پہنچانا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:” (کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کی ایذاء سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں کو امن میں سمجھیں” ۔ ان ارشادات کے باوجود ہم ہوش کے ناخن نہیں لیتے اور زبان کو جھوٹ جیسے گناہ سے آلودہ کرتے ہیں۔ یہ سب یہود و نصاریٰ کی کوشش ہے، جنہوں نے مسلمان پر ایسی محنت کی کہ آج مسلمان ان کے طریقوں میں کامیابی ڈھونڈتے ہیں، ان کے ساتھ مشابہت کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ حالانکہ نبی علیہ السلام نے یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی کےساتھ منع فرمایا ہے، مثلاً: نبی علیہ السلام نے داڑھی رکھنے اور مشرکین و مجوس کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک موقع پر فرمایا:” من تشبہ بقوم فھو منھم”۔ یعنی جو شخص کسی قوم سے مشابہت اور ان کے طور طریقے کو اختیار کرےگا اس کا شمار انہی میں ہو گا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ پھر بھی ہم مسلمان ان سے متاثر ہیں، ان کی رسم و رواج کو خوشی سمجھتے ہیں، ان کے صف میں زیادہ ہونے کا سبب بن رہے ہیں اور ان کے خود ساختہ رسم”اپریل فول” کے موقع پر جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں۔(انا للہ وانا الیہ راجعون) اللہ تعالی ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار نے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.