Urdu News and Media Website

اسلام اور طہارت

تحریر:عبدالوحید شانگلوی ۔۔۔ایک طالب العلم لندن میں زیرِ تعلیم تھا، وہ جس مکان اور جگہ میں رہتا تھا وہاں اور بھی مختلف ممالک کے طلبہ رہتے تھے۔ ان سب کے کپڑے ایک انگریز خاتون دھویا کرتی تھی۔ ایک دن عورت نے اس طالب العلم سے کہا: کیا آپ کو میرے کپڑے دھونے پر بھروسہ نہیں؟ طالب العلم نے کہا: کیوں نہیں؟ میرا بھروسہ ہے کہ آپ کپڑے ٹھیک دھوتی ہیں۔ عورت نے کہا: پھر آپ اپنے کپڑے دھو کر مجھے کیوں دیتے ہوں؟ طالب العلم نے کہا: اگر میں کپڑے خود دھوتا تو پھر آپ کو کیوں دیتا، میں بغیر دھونے کے آپ کو حوالہ کر دیتا ہوں۔ خاتون نے کہا: پھر کیا وجہ کہ دوسرے لوگوں کے زیرِ جامہ طرح طرح کے دھبے اور داغ ہوتے ہیں جس سے بدبو محسوس ہوتی ہے، لیکن آپ کے زیرِ جامہ مجھے کوئی چیز ایسی نہیں ملی؟ طالب العلم نے سنجیدگی سے جواب دیا کہ محترمہ! میں مسلمان ہوں، میرا دین مجھے طہارت اور پاکی کا حکم دیتا ہے۔ اگر میرے کپڑوں پر اسی طرح کوئی داغ یا دھبہ لگ جائے، تو اس وقت تک اس پر نماز جائز نہیں جب تک اس کو صاف نہ کیا جائے۔ اس لئے میرے کپڑوں میں کوئی دھبہ اور ناپاکی نہیں رہتا، جب میں کپڑے اتارتا ہوں تو وہ پاک صاف ہوتے ہیں۔ انگریز خاتون بولی:” تمہارا اسلام اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی تعلیم دیتا ہے؟” مسلمان طالب العلم نے عرض کیا کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہر وقت اللہ تعالی کو یاد رکھے۔ جب میں بیت الخلاء جاتا ہوں تو ایک دعا پڑھتا ہوں، جب باہر نکلتا ہوں تو دوسری دعا پڑھتا ہوں، اسی طرح سونے، جاگنے، گھر سے نکلنے اور زندگی کے ہر اہم کام کرنے پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعائیں سکھائی ہیں۔ یہ تمام دعائیں میں پڑھتا ہوں، تاکہ اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مظبوط رہے۔ عورت نے نوجوان کی باتیں سن کر حیران ہوگئی لیکن حیرانی کےساتھ ساتھ دلکش بھی محسوس کی۔ اس کے بعد وہ اس نوجوان کی ہر نقل و حرکت، عادات و اطوار دیکھتی رہی، اس کی تہذیب، پاکیزگی، اور فضولیات سے بچنے نے عورت کو اسلام کی طرف راغب کردیا۔ رفتہ رفتہ وہ اس نوجوان سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس کے دل میں اسلام کی حقانیت بٹھا دیا۔ اسلام اس کے دل میں ایسا راسخ ہو گیا کہ اس نے اپنے ساتھ خاندان کے متعدد افراد کو بھی مسلمان کرالیا۔ اگر اسلام کے اصولوں پر مسلمان چلتے رہے تو یہ ہزار غیر مسلموں کے لیے عبرت بن سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کےساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ آج ہم خود دین کے آداب و عادات سے بے خبر ہے۔ دیکھئے سنت کے مطابق زندگی گزار نے کی برکت سے اللہ تعالی نے غیر مسلم کو بھی مسلمان کیا۔ طہارت ایمان کا حصہ ہے جس طرح کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔

تبصرے