Urdu News and Media Website

کشمیر جنت نظیر ۔پھر لہو لہو!!

تحریر:محسن علی ساجد۔۔۔
کشمیر جنت نظیر،قُدرت کا کرشمہ،پریوں کی وادی،فاختائوں کی زمیںآج پھر اپنے خوبصورت،دلیر ،نوجوانوں کی شہادت پرنوحہ کناں ہے ،وادی کشمیر پر آج دُشمن دیں،دُشمن کشمیر بھارت کا قبضہ ہے جو آئے روز وادی کو خون میں نہلارہا ہے ،بھارتی فوج کی بیلٹ گنز سے وادی کے نوجوانوں سمیت،ننھے بچوں کی آنکھوںکی روشنی بھی چھینی جارہی ہے ،مائیں اپنے جگر گوشوں کی لاشوں پر ماتم کُناں ہیں، ماں باپ جو اپنے بچے کو اپنے خون پسینے سے پالتے ہیں،پڑھاتے ہیں،جوان کرتے ہیں،اِس اُمید کیساتھ کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر ہمارا سہارا بنے گا،مائوں ،بہنوں کے ارمان ہوتے ہیں کہ بھائی،بیٹوں کو دولہا بنتے دیکھیں لیکن نہ جانے مقبوضہ کشمیر میں کتنی مائیں ایسی ہیں جو اپنے آنگن کو لُٹتے دیکھ کر اپنے ہوش وحواس کھوبیٹھی ہیں،کئی بہنیں جو اپنے جوان شہید بھائیوں کی تصویریں سینے سے لگائے دُنیا کو چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ کہاں ہیں اقوام عالم،انسانی حقوق کی تنظیمیں،وادی میں باپ اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا اُٹھا کر تھک چکے ہیں،لیکن پھر بھی سلام ہے کشمیر کی اِن عظیم مائوں،بہنوں،اور کشمیری قوم کو جو اتنے ظلم سہنے کے باوجود بھی نعرہ تکبیر اور آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہیں،اِنہیں یقین ہے کہ وُہ دِن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام اور جنت نظیر وادی کو بھارت سے ضرور نجات ملے گی کیونکہ
یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت نہ کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
گزشتہ دِنوں بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر پوری وادی کو خون میں نہلا دیا۔گزشتہ دِنوں بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران ضلع پلوامہ میں11نوجوان شہید کر دیئے۔ 3نوجوانوں عدنان احمد، بلال احمد اور ظہور احمد کو ضلع کے علاقے کھر پورہ سرنو میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیاگیا، نوجوانوں کی شہادت پرلوگوںنے سڑکوں پر آکر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں ، پیلٹ اور آنسو گیس کے گولے چلائے جس کے نتیجے میں مزید8نوجوان شہباز علی،سہیل احمد، لیاقت احمد، مرتضیٰ، عامر احمد پالہ، توصیف احمد میر اور عابد حسین لون شہید جبکہ بیسیوں زخمی ہوگئے، اُوپر سے بھارتی آرمی چیف نے تو حد ہی کردی اور بیان داغ دیا کہ مظاہرین سے گولی سے نمٹاجائے گا،بھارتی آرمی چیف کے بیان اور بھارتی فوج کی بربریت پر بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور معروف قانون دان ودانشورریٹائرڈجسٹس مارکانڈے کاٹجوبھی خاموش نہ رہ سکے ،اُنہوں نے بھارتی فورسزکی اندھادھند فائرنگ میںکشمیریوں کے قتل عام کو سانحہ جلیانوالہ باغ قراردیتے ہوئے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن رائوت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکاموازنہ بدنام زمانہ انگریزجنرل ڈائراورویتنام میں خون کی ہولی کھیلنے والے لیفٹنٹ کیلی سے کیا‘ریٹائرڈجسٹس مارکانڈے کاٹجونے ٹویٹر پر لکھاکہ’ ’پلوامہ کشمیرمیں جلیانوالہ باغ اور مائے لائے ویتنام طرزپرعام شہریوں کوموت کی نیندسلادینے پرجنرل رائوت کومبارک ہو‘‘۔انہوںنے طنزیہ اندازمیں کہاکہ پلوامہ جیسے قتل عام کے واقعات پر بھارتی فوج کے تمام افسروں اورسپاہیوں کو رتن ایوارڈسے نوازاجاناچاہیے۔ریٹائرڈجسٹس کاٹجونے ایک اورٹویٹ میںآرمی چیف جنرل بپن رائوت کوطنزیہ اندازمیں مبارکبادپیش کرتے ہوئے تحریرکیاہے چیف جنرل رائوت کتنے بہادرہیں کہ اْنکی فوج نے پلوامہ میں عام شہریوں کوموت کی نیندسلادیا،دوسری جانب پاکستان جس نے ہمیشہ اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی ہر عالمی فورم پر آواز اُٹھائی اور ہر دُکھ میں کشمیری عوام کیساتھ کھڑاہے کے وزیر اعظم جناب عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مسئلے کو اٹھائیں گے ٗصرف مذاکرات ہی اس تنازعہ کا حل ہیں، تشدد اور قتل عام مسئلہ کا حل نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاکہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کا اپنا وعدہ پورا کرے،پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے بھی بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسئلہ کو عالمی فورم پر اُٹھانے کا کہا۔دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت شاخ کی پروگرام ڈائریکٹر اسمیتا باسو نے نئی دلی میں جاری ایک بیان میں کہاہے کہ قابض انتظامیہ کو اس سانحہ کی آزادانہ طورپر مکمل تحقیقات کرانی چاہیے اور اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سول عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔ان کا کہنا تھاکہاکہ مہلک آتشی ہتھیاروں کا استعمال صرف اسی صورت میں کیاجانا چاہیے جب انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کوئی اور چارہ نہ رہ جائے اور قانون نافذ کرنے والے حکام کو تشددمیں ملوث عناصر اور پر امن مظاہرین کے درمیان فرق سمجھنا چاہیے ۔ کل ہی کے روز او آئی سی نے بھی بھارتی فوج کی دردندگی پر شدید مذمت اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے آواز بلند کی ،اب امریکہ سمیت دیگر اقوام عالم کو بھی چاہیے کہ وُہ بھارتی فوج کے کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم کو رکوائے اور کشمیریوں کو اُن کا حق خودارادیت دے کیونکہ 70سال سے بھارتی فوج کے مظالم کے باوجود آج بھی کشمیری اپنے حق خودارادیت کیلئے سینہ سُپر ہیں اور انشااللہ وُہ دِن دور نہیں جب کشمیریوں کو بھارتی درندگی اور ظلم وبربریت سے نجات ملے گی۔
سُناہے بہت سستا ہے خون وہاں کا
اِک بستی جسے لوگ کشمیر کہتے ہیں

تبصرے