Urdu News and Media Website

پاکستان طبی کانفرنس

جمہور اطباء کی واحد ملک گیر جماعت

تحریر:پروفیسر حکیم سید عمران فیاض۔۔۔
پاکستان طبی کانفرنس در حقیقت مسیح الملک حکیم محمد اجمل خان مرحوم کی تاسیس کردہ طبی تنظیم آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کی آئینی قائم مقام تنظیم ھے.جس کا قیام 1910ء میں ھوا.اور قیام پاکستان کے بعد ملک کے دیگر شعبوں کی طرح یہ تنظیم بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی.
تاریخی اعتبار سے اس تنظیم کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی جب برطانوی دور حکومت میں حکومت بمبئی نے رجسٹریشن ایکٹ کے نفاذ کے ذریعے غیر رجسٹرڈ معالجین کی پریکٹس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا.اور اس کی آڑ میں دیسی طبوں اور اس کے معالجین کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا.
مسیح الملک حکیم محمد اجمل خان نے آنے والے خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ملک بھر کے اطباء اور ویدوں کو ایک مرکز پر اکھٹا کرنے کے لئیے شبانہ روز محنت کی.

یہ بھی پڑھیں:کاش ہم چھوٹے ہو جائیں۔۔۔!

اور فن طب کے تحفظ اور بقاء اور دیسی طبوں کے معالجین کی حثیت کو تسلیم کروانے کے لیئے آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کی بنیاد ڈالی.یہ تنظیم اپنے پروگرام , بے لوث خدمت اور سچے جذبوں کی بنیاد پر استوار ہونے کی وجہ سے ملک گیر شہرت حاصل کر گئی اور اس نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی .اس تنظیم کی مقبولیت اور ہمہ گیری کا اعجاز تھاکہ حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا.
قیام پاکستان کے بعد اس کا ایک ملک گیر اجتماع اس خطہ کی قدیم ترین درسگاہ طبیہ کالج (انجمن حمایت اسلام) لاھور میں ہوا.جسمیں اس کا نام پاکستان طبی کانفرنس کے نام سے موسوم کرنے کی منظوری فرمائی.اس تنظیم کا پہلا اجلاس عام کراچی میں منعقد ہوا .جس کی صدارت مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے فرمائی. بعد ازاں 20نومر 1966 باضابطہ طور پر شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی کو تنظیم کا صدر منتخب کیاگیا.
پاکستان طبی کانفرنس کی قیادت کی شبانہ روز کاوشوں سے اطباء پاکستان کو یونانی آیورویدک اینڈ ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ایکٹ 1965IIء کے تحت قانونی طور پر پریکٹس کرنے کا حق ملا. اور اس ایکٹ کی رو سے پاکستان کاپہلا طبی بورڈ تشکیل پایا.جس کے تمام اراکین کو حکومت پاکستان نے نامذد کیا اور پاکستان طبی کانفرنس کے مرکزی صدر شفاءالملک حکیم محمد حسن قرشی کو اس بورڈ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا.

غزل:تیرا نام تھا

جن کی وفات کے بعد پاکستان طبی کانفرس کی صدارت پر حکیم میاں محمد نبی خان جمال سویدا منتخب ہوے.اور اس وقت لخت جگر شفاءالمک حکیم محمد حسن قرشی حکیم اقبال احمد قرشی کرسی صدارت پر جلوہ افروز ھیں.
پاکستان طبی کانفرنس کی طبی تاریخ میں کیئے جانے اقدامات میں مثالی پیش رفت ہوئی. جس سے
*- اطباء کے وقار میں اضافہ ہوا.
*- اطباء کو سرکاری ملازمتیں ملیں .
*- اطباء کے گریڈوں میں اضافہ ہوا.
*- طبی شفاءخانوں کا اجراء ہوا.
*- محکمہ بہبود آبادی میں وفاقی سطح پر ڈائریکٹوریٹ آف حکیم کا قیام عمل آیا.اور ترقی طب کے بہت سے منصوبے بنائے گئیے .
اس تنظیم کو یہ اعزاز حاصل ھے کہ اس کے ملک گیر اجلاسوں میں مدر ملت محترمہ فاطمہ جناح , ڈاکٹر علامہ اقبال , صدر مملکت آف پاکستان , گورنر ,سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے جج صاحبان , صدر و وزیراعظم آزادکشمیر , چیئرمین سینٹ , سپیکر قومی و صو بائی اسبلی , وفاقی و صوبائی وزراء. مفتی اعظم فلسطین اور بے شمار نامور قومی , سماجی , صحافتی , سماجی , سیاسی , اور بین الاقوامی شخصیتوں نے شرکت فرمائی.
پاکستان طبی کانفرنس نے اطباء کی بہتری اور فلاح و بہبود کی خاطر مرکزی صدر حکیم اقبال احمد قرشی کی ہدایات پر مختلف شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا.

یہ بھی پڑھیں:دعا کی فضیلت و اہمیت …!

جن میں
*- شعبہ تصنیف و تالیف
*- شعبہ انسداد منشیات
*- شعبہ قانون
*- شعبہ تحقیق
*- شعبہ خواتین
*- شعبہ طلباء و طالبات
*- شعبہ جراحت
شامل ھیں .
پاکستان طبی کانفرنس
*- حکماء کی حج میڈیکل مشن میں شمولیت
*- دارالحکمتوں میں سرکاری طبیہ کالجز کا قیام
*- طبی ریسرچ سینٹرز کا قیام
*- ھسپتالوں میں اطباء کی تقرری
*- صحت بجٹ میں اطباء کیلئے الگ رقم
*- چھوٹے دواساز اداروں کیلیئے خصوصی مراعات تاکہ ملکی دواسازی کی صنعت فروغ پائے.
*- طبی کونسل کے دفتر کیلئے جگہ
*- ڈگری کورسز کی حوصلہ افزائی
*- نباتات کی کاشت کیلئے کمشن کا قیام
*- وفاقی و صوبائی سطح پر مشیر طب کی تقرری
*- طبی تعلیم کو اکیڈمک تعلیم کے مساوی قرار دلانے کیلئے اقدامات نمایاں ترجیحات میں شامل ھیں.
پاکستان طبی کانفرنس شعبہ طب کی ترقی کے لیئے طبی لیکچرز , اور عالمی معیار کے طبی سیمینار کا انعقاد کروانے کے ساتھ ساتھ وفاقی و صوبائی وزراء , P.H.C , ہیلتھ فاؤنڈیشن , محکمہ صحت , اور وفاقی محتسب سے اطباء کے تحفظ و بقاء کی خاطر رابطہ و ملاقاتیں اس تنظیم کا طرہ امتیاز رھا ھے.
پاکستان طبی کانفرنس اپنے قیام سے لے کر آج تک اطبائے پاکستان کی فلاح اور طب کی ترقی اور ترویج کیلئے کوشاں ہے اور یہ واحد ملک گیر تنظیم ہے جو ملک کے چاروں صوبوں اور آزادکشمیر کے شہری علاقوں سے لے کر دیہی علاقوں تک اپنا تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ھے.اور اپنی بے لوث خدمات کی بناء پر اطبائے پاکستان کے اعتماد پر پورا اتری ھے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.