Urdu News and Media Website

***نیا پاکستان***

تحریر:احسان احمد کشمیری۔۔۔۔
تقریبا چار بجے کا وقت تھا میں چاٸے پینے جمشید روڈ کراچی پر واقع مارکیٹ کے مشہور چاٸے کیفے ٹی۔ إن۔ بنوری طرف روانہ ہوا۔ جونہی میں مارکیٹ میں داخل ہوا مارکیٹ پر پہلی نظر پڑتے ہی میں ورطہ حیرت میں پڑ گیا۔چونکہ سڑک کے کنارے پر پڑے اکھڑے ہوٸے ساٸن بورڈ ,بلاک کے ٹکڑے اور دیگر سامان کسی زلزلے میں ہوٸی تباہی کے مناظر پیش کر رہے تھے۔اور گاہکوں کی آمدورفت اور دکانوں پہ چہل پہل بھی کافی کم تھی۔بہر حال میں آگے بڑھنے لگا ۔میں اسی سوچ و فکر میں تھا آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ہوٹل کے قریب پہنچا تو وہاں کا منظر بھی تعجب انگیز تھا یہاں کا سارانقشہ ہی بدل چکا تھا۔ابھی کل تک تو یہاں خوب رونق تھی سینکڑوں لوگ چاٸے کی چسکیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوا کرتےتھے۔لیکن یکدم حالت ہی بدل چکی ہے ۔ہوٹل کے باہر سناٹا چھایا ہوا ہےاور اندر تقریبا 20آدمی چاٸے پینے کیلے ایسے ملکر بیٹھے ہوٸے ہیں گویا کسی قرآن خوانی میں آٸے ہوٸے ہیں۔مزید ہوٹل میں کسی ایک آدمی کی بھی گنجاٸش باقی نہ تھی۔کسی اورکیفے کا رخ کرنے کیلٸے میں پیچھے ہٹا ہی تھاکہ میرا ایک دوست جو ہوٹل ہی کی طرف آ رہا تھا اس سےملاقات ہوٸی ۔علیک سلیک کے بعد بغیر کسی وقفے کے میں نےاس سے سوال کر ڈالا ارے بھاٸی یہ کیا ہو رہا ہے کیا آپکو معلوم ہے؟اس نے زوردار قہقہ لگایا اور بولا بھیا تبدیلی آگٸی ہے ۔پرانا پاکستان توڑ کر نیا پاکستان بنایا جا رہا ہے۔یہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارواٸی کی جا رہی ہے۔رنگ برنگی لاٸٹوں سے سجی یہ دکانیں کتنی خوبصورت ہوا کرتی تھیں۔آج یہ کسی کباڑیے کی دکان کا منظر پیش کر رہی ہیں۔لوگوں کے چہروں پر چھاٸی افسردگی ان کے درد دل کی مکمل عکاسی کر رہی تھی۔ہر شخص بے حال تھا ۔بالخصوص وہ لوگ جن کا اس نقصان کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعلق ہے۔کیوں نہ ہوتا دکھ؟بیسیوں سال سے جس جگہ کو حصول رزق کا زریعہ بنا یا ہوا تھا آج اسے ان محنت کشوں سے کیوں چھینا گیا؟انکی جاٸے رزق کو آخر کیوں مسمار کیاگیا؟ہزاروں نونہالوں کے اخراجات تعلیم کا ذمہ دار آخر کون ہے ؟ ان لوگوں کو جنہیں بے روزگار کیا گیا ۔انکو اسکےمتبادل روزگار دیا جاٸے گا؟یا حکومت وقت اس 2 فٹ کی زمین پر جہاں سے ریڑی اور ٹھیے والوں کو بے دخل کیا گیا کوٸی فیکٹری یا مل بنا
کر معیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:پانچویں جماعت کے طالبعلم کی اپنے ہی گھر میں بڑی واردات،20 لاکھ لے اڑا
اگر ان تمام سوالات کے جوابات کا مطالبہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوٸے انصاف کے دعویداروں سے کیا جاٸے یقیننا جواب نفی میں آٸے گا۔کیا ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کر دینا کیا یہی معاشی ترقی ہے؟جس وقت یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ ہم باہر سے سارا پیسا لاٸیں گٸے۔عوام سے لٸے گٸے ٹیکس انھیں پرخرچ کریں گٸے۔مہنگاٸی کا خاتمہ کریں گٸے ۔لیکن حکومت بنتے ہی مہنگاٸی کا عفریت بوتل سے باہر آگیا۔پیٹرول کی قیمت 91روپے سے98روپے تک جا پہنچی۔وہی موباٸل جس کی قیمت 2200روپے تھی حکومت بنتے ہی 2700ہو گٸ۔گیس کا سلینڈر جسکی قیمت 1100روپے تھی حکومت بنتے ہی 1800 روپے ہو گٸی۔کہاں گٸے مہنگاٸی کو ختم کرنے کے دعوے؟أبھی تک باہر سے پاکستان میں سارا پیسا واپس لانے کے دعوے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟کیا یہی وہ نیا پاکستان ہے جس کا خان صاحب اپنے دھرنوں میں تذکرہ کیا کرتے تھے؟کیا غریب کے گھر کا چراغ گل کر دینا معاشی ترقی واستحکام پاکستان کا حل ہے؟ہر گز نہیں!امیر کو امیر سے امیر تر کیا جا رہا ہے کیا غریب کو فٹ پاتھ پر ریڑی اور ٹھیہ لگانے کا بھی حق نہیں۔اگر موجودہ حکومت ان لوگوں کو متبادل روزگار فراہم کرتی ہے ہم ان کی اس کاوش کی تہ دل سے حوصلہ افزاٸی کرتے ہیں۔اگر تصویر کا رخ دوسرا ہے تو ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا جاری کردہ نوٹس واپس لے۔اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ روکا جاٸے۔عوام کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا معاملہ کیا جاٸے۔اس مملکت خداد پاکستان کی اساس کلمہ طیبہ ہے۔جوکہ وطن عزیز میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا سبب بھی یہی ہے۔ ہمارے اسلاف کی قربنیاں اس پاکستان کیلٸے نہیں تھیں جہاں لبرل ازم کی ترویج ہو ۔عوام کو سیکولر بنانے کیلٸے غیر ملکی قوتوں کو وطن عزیز میں دخل اندازی کے مواقع فراہم کٸے جاٸیں۔یہ ملک اسلاف کی لازوال قربانیوں سے آزاد ہوا لیکن آج پھر اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے۔اسکی واضح دلیل آسیہ ملعونہ کا باعزت بری ہو جانا ہے۔جبکہ وطن عزیز کا قانون 295c اسکو رسولﷺ کی گستاخی کرنے کی بنا پر پھانسی کا مقتضی تھا۔آج اسراٸیل سے تعلقات استوار کیٸے جا رہے ہیں جوکہ امت مسلمہ کا بدترین دشمن ہے ۔اسکے مکرو فریب اور مسلمانوں پر بےتحاشا مظالم کی داستانیں کس سےپوشیدہ ہیں؟ آٸے روز فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے واقعات اور مقبوضہ بیت المقدس کی بے حرمتی پوری امت مسلمہ کی غیرت ایمانی کو جھنجھوڑ رہی ہے۔قاٸداعظم مرحوم کا اسراٸیل کے بارے میں نظریہ یہ تھا ”یہ امت مسلمہ کے قلب میں خنجر گھسایا گیا ہے۔یہ ایک ناجاٸز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔لیکن آج عاصمہ حدید نے اسراٸیل کو تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کر کے قاٸد اعظم مرحوم کے اس نظریہ کی سر عام مخالفت کی ہے ۔یہ پاکستان و نظریہ پاکستان سے دشمنی اور یہودیت کے ساتھ محبت و عقیدت اور انکے ہر اشارے پر سر تسلیم خم کرنے کا واضح ثبوت ہے۔وطن عزیز کے حساس ادارے ایسے ملک دشمن عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں،جو غیر ملکی قوتوں کی خوشنوری کی خاطر عوام میں انتشار وخلفشار پیدا کر کے ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اور عوام پاکستان کے ایمانی جذبات و حب الوطنی کو مجروح کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.