Urdu News and Media Website

چنگ چی رکشہ……….عوامی سہولت یا وبال جاں

تحریر : سید عمران فیاض۔۔۔
عرصہ 20/25سال قبل چنگ چی رکشے متعارف کروائے گیئے.اسکے ساتھ ہی ٹو سٹروک آٹو رکشے بھی موجود تھے.وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں اور
پھر لاکھوں میں پہنچ گئی.ان رکشوں پر جہاں عوام کو سہولت میئسر آئی وہاں پر ان کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.ان رکشوں پر زیادہ تر غیرتربیت اور غیر لائیسنس یافتہ افراد آپکو نظر آئیں گے.اس سے بھی خطرناک پہلو کہ آپ کو کم عمر ڈرائیورز کی نظر آئے گی.جو کہ ٹریفک قوانین تو ایک طرف ان کو چلانے کے فن سے بھی پوری طرح واقف نہیی ہوتے اور بعض تو حادثات کا بھی باعث بنتے ھیں.ان ڈرائیوروں کا سڑکوں,بازاروں,معروف شاھراہوں پر خطرناک طریقے سے ڈرائیونگ کرنا معمول بن چکا ھے.جو کہ بے ڈھنگے پن کا منہ بولتا ثبوت ھے. امسال مارچ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تفصیلی حکمنامہ میں چنگ چی رکشہ کے مینو فیکچرز کو باقاعدہ رجسٹرڈ اور منظوری لینا ھوگی.جبکہ چنگ چی رکشہ
ایکسائیز آفس میں رجسٹرڈ کروایا جائے گا.اسکے علاوہ اسکا فٹنس سرٹیفکیٹ ,کرایہ نامہ منظور اور آویزاں کیا جائے گا.سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکمنامہ میں یہ بھی کہس گیا تھا کہ رکشہ ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائیسنس کا ہونا بھی ضروری ھے.اسکے ساتھ ساتھ چنگ چی رکشہ مینو فیکچرز رکشہ کی تیاری میں مسافروں اور ڈرائیور کی حفاظت کو یقینی بنائیں.جب کہ عمل نہ کروانے والے اھلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کاروائی کرنے کا حکم دیا گیا. لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ھے کہ یہ احکامات بھی دوسرے حکم ناموں کی طرح ہوا میں اڑا دئیے گیئے.اورپر عملدرآمد تو دور کی بات ان اھلکاروں نے اوپر سب اچھا کی رپورٹ کرکے شاید فائل بند کر دی . وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی نہیی اسی لیئے غیر قانونی کام بڑے دھڑلے سے ھوتے ھیں.کیونکہ کرپٹ عناصر بعض سیاستدانوں,وڈیروں, بدمعاشوں اور بھتہ مافیا کی سرپرستی کی بدولت حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ھوئے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ غیر
قانونی اقدامات کرتے ھیں.یہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کا باعث بنتے ھیں. سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جناب مسٹر جسٹس گلزار صاحب نے13صفحات پر
مشتمل جو فیصلہ سنایا تھا اس میں چنگ چی رکشوں کو رکشہ بغیر لائیسنس,فٹنس,روٹ,کرایہ نامہ کے رکشہ کسی صورت میں روڈ پر نہیی آئے گا.صرف شرائط کو پورا کرنے والے ہی روڈ پر آسکیں گے. موجودہ دور میں جہاں مہنگائی کا جن بے قابو ھے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی آسمان سے باتیں کررھے ھیں.وہاں چنگ چی رکشہ ایک لحاظ سے سستی سواری کی صورت میں آیا.لیکن اس کی بڑھتی ھوئی تعدادجوکہ اب شہروں سے نکل کر گاؤں,دیہات تک پھیل چکی ھے.جو کہ عوام کیلئے رحمت کی بجائے زحمت کا روپ دھار چکی ھے.سپریم
کورٹ آف پاکستان نے چنگ چی رکشہ پر چار سواریاں بھٹانے کی اجازت دی لیکن یہ 8/10 سواریاں بھٹا لیتے ھیں.جو کہ کسی بڑے حادثے کا شکار بن سکتا ھے .ان کی
وجہ سے شہروں میں ٹریفک کا مسلہ بڑا سنگین صورت حال اختیار کر چکا ھے.کیونکہ انکا رکشہ چلانے کا کوئی ڈھنگ نہیی ھوتا.اور نہ ہی انہیی ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی پرواہ ھوتی ھے.انکی نہ کوئی اسپیڈ لمٹ ھے اور نہ ہی کوئی انکا کوئی قبلہ سیدھا ہوتا ھے.جس جگہ چاھیں کھڑے ھو جائیں آپکو اگر اپنی زندگی یا گاڑی سے پیار ھے توآپ خود اس سے بچیں گے.ورنہ انہوں نے تو آپکو یا آپکی گاڑی کو نقصان پہنچانے کا پورا بندوبست کیا ھوتا ھے .یہ اس وقت ایک مافیا کا روپ دھار چکا ھے.میری ارباب اختیار سے اپیل ھے کہ وہ اس عوامی مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دیں.اور قانون کی پاسداری کی خاطر قانون کی رٹ چیلنج کرنے والے مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں نمٹیں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکی۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے