Urdu News and Media Website

یونیورسٹی طلبا کا ربوہ کا دورہ، ملک میں انتشار پھیلانے کی نئی سازش

تحریر: محمد عاصم حفیظ۔۔

ایک نیا سلسلہ ملک کی معروف مینیجمنٹ سائنس کی یونیورسٹی LUMS کے طلبہ نے قادیانی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کے لئے ربوہ کا دورہ کیا ۔ عاطف میاں کی تعیناتی اور یوم دفاع پر قادیانیوں کے اشتہار ، پی ٹی وی کے پروگرام پر ردعمل اور دیگر واقعات کے باعث قادیانی ایشو ملک میں ایک بار ابھر کر سامنے آیا جس پر لمز کے ایک استاد کی رہنمائی میں یہ وفد ربوہ پہنچا ۔ آپ اس تصویر سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس دورے کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ مینیجمنٹ یونیورسٹی کے طلباء کو دینیات کے مسائل میں الجھانے کی کیا ضرورت ہے ۔ ایک تفریحی دورے کے نام پر ان طلبہ و طالبات کو مظلومیت اور جبر و ستم کی کہانیاں تو سنائی گئی ہوں گی لیکن کیا لمز کی انتظامیہ ان اشکالات کو دور کرنے اور دینی طبقے کا اس بارے موقف واضح کرنے کے لئے کسی مستند عالم دین کا لیکچر رکھنے کی بھی اجازت دے گی ۔ کیا کبھی LUMS کا ٹور کسی مدرسے میں بھی گیا ہے جہاں پر ان نوجوان طلبہ و طالبات کے ذہنوں میں جو سیکولرازم اور ماڈرن ازم کے نام پر جو اشکالات پیدا کئے جا رہے ہیں ان کا ازالہ ہو سکے ۔۔ سب سے بڑھ کر یہ بھی کہ آئین پاکستان کی رو سے قادیانیوں کو تبلیغ کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ اس طرح ٹور لیکر جانا کیا قادیانیت کی تبلیغ نہیں ۔ کئی نوجوان ان رابطوں سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔ کیا کسی اسلامی تنظیم یا مدرسے کا ٹور بھی ربوہ جا سکتا ہے جو کہ وہاں کی نوجوان کمیونٹی سے بات چیت کرکے ان کو تبلیغ کرے ۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو کیوں ملک کو ایک نئی بحث اور انتشار کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.