Urdu News and Media Website

کم خرچ بالانشین

تحریر: آئمہ محمود۔۔
وقت ، حالات اور موسموں کا بدلنا ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں تاہم تکلیف دہ حالات میں وقت گذرے نہیں گذرتا ، پل صدیوں پر محیط ہو جاتے ہیں ۔ ہاں خوشگوار لمہے کب بیت گئے خبر بھی نہیں ہوتی ۔ جہاں تک موسموں کا تعلق ہے وہ قدرتی طور پر مقررہ دائرے میں اپنی تپش ، گرماہٹ ، نمی اور ٹھنڈک سے اس دھرتی اور اس کے رہنے والوں کو نوازتے ہیں ۔ اپنے آس پاس کے حالات دیکھیں تو یہ سمجھنا کو ئی راکٹ سائنس نہیں ہو گا کہ ہم نئے ملک کی بدلی ہوئی فضاء میں رہ رہے ہیں ۔ جہاں سب کچھ ہٹ کے کرنے کی سعی جاری وساری ہے۔ آپ نے کبھی وزیر اعظم ہاوس کی بھینسوں اور ناکارہ گاڑیوں کے بارے میں سنا تھا؟ نہیں نا!انکی کی نیلامی جیسے دلچسپeventکبھی اہل وطن کے سامنے آئے تھے ؟ کدی وی نئیں ! وہ سنکی جنھیں تبدیلی کی عدم موجودگی کی شکایت ہے انھیں اپنی آنکھیں اور کان کھولنے کی ضرورت ہے ۔ اگرچہ بھینسوں کی کامیاب نیلامی سے ہمیں یہ تشویش لاحق ہو گئی ہے کہ اب وزیراعظم ہاوس کے کچن میں چائے کیلئے دودھ کہاں سے آتا ہے ؟ eat organicکے اس ہائی ٹائم میں کہیں وہاں پاوڈر ملک کا استعمال تو شروع نہیں ہو گیا؟اس ساری مشق سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ PMہاوس کے نئے باسی self relianceجیسی مغربی اصطلاح کے بالکل قائل نہیں ورنہ گھر کے جانور کو ئی بیجتا ہے؟ وہ بھی دودھ دینے والے!گاوں دیہات میں جب کسی گھر میں گائے بھینس بیچنے کی نوبت آجائے تو سمجھو کہ ستیا ناس ہو چکاہے پر کیا کہیں ؟ یہاں کیڑے نکالنے والوں کی کمی تھوڑی ہے۔ اب بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو لیں منفی سوچ والے بلاوجہ سیخ پا ہو رہے ہیں کہ عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے یہ سب تو greater good کیلئے ہے بجلی کی چوری ہو یا لوڈشیڈنگ ہمیشہ سے یہ مسائل قوم کیلئے درد سر بنے ہوئے ہیں بجلی تو کم کم آتی ہے لیکن اس کا بل مسلسل اور بھاری بھر کم آتا ہے تبھی تو مشہور ہے کہ بتی گل ہوتے ہی میڑ دوگنی رفتار سے چالو ہو جاتا ہے ۔ کہنے کو بجلی کی پیداوار میں کمی لوڈشیڈنگ کی وجہ ہے۔ لیکن پبلک کمیٹی کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ٹیکنیکل خرابیوں اور line lossesکے باعث بہت زیادہ بجلی ضائع ہو رہی ہے۔اسکی وجہ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی negligenceہے جسکا خمیازہ 213بلین روپے کے نقصان کی صورت میں قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بجلی کا ضیان اسکی چوری سے بھی زیادہ سنگیں ایشو ہے کمپنیوں کی پیشہ ورانہ غفلتوں کو روک کر اس wasteکو روکا جا سکتا ہے لیکن ان سرمایہ داروں کے منہ کون لگے ۔ چنانچہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بجلی کی چوری کی روک تھام کے لیے اپنی کمر کس لی اور تجویز دی کہ ان مساجد کو 400یونٹ بجلی فری دی جائے گی جن کے علمائے کرام بجلی چوری کو حرام قرار دینے کا فتوی جاری کریں گے ۔اس مختلف دنیا میں ایسی ہی out of boxتجاویز کی ضرورت ہے قائمہ کمیٹی ایسی شاندار suggestionکیلئے مبارک باد کی مستحق ہے۔ ایسے فتووں ہی سے تو لوگوں کو یہ احسا س دلایا جا سکتا ہے کہ بجلی کی تاروں پر گانٹیاں ڈالنا یا میٹر چیک کرنے والوں سے بھائو تائو کرنا چوری ہے۔اب تک تو یہ سب جگاڑکرنے کے زمرے میں آتا تھا اور جگاڑتو تب ہی کیا جا تا ہے جب ضروریات تو ہوں لیکن انھیں پورا کرنے کے وسائل نہ ہوں یہ ایسے ہی ہے جیسے گھر کے جانور اور قیمتی اشیاء کی نیلامی کرنا۔ویسے بھی جب اقتدار کی بے وفا کرسیوں پر بیٹھنے والے ہزار جگاڑ کرکے وہاں تک پہنچے ہوںتو پھر عام انسان اپنے Survivalکیلئے ایسا کیوں نہ کرئے۔ لیکن چونکہ اب بات فتوی تک پہنچ گئی ہے لہذا لوگوں کے پاس تائب ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ ہماری تو رائے یہ ہے کہ ایسی کارآمدتجویز کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے سول سروس کے کامیاب امیدوارں کے لیے بھی فتوی جا ری کیا جائے کہ گھر آئے مہمان میز پر اپنا بٹوہ بھول جائیں تو اسے مہمان کو واپس کر دینا چاہیے ناکہ اسے اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا جائے ایسا کیا تو یہ چوری ہو گی جو کہ حرام ہے کیونکہ یو ں لگتا ہے کہ 20اور 21گریڈ کے افسروں کو حرام چوریوں سے واقفیت نہیں ۔ (انتباہ! حرام چوری سے یہ نہ سمجھا جائے کہ چوریوں کی کچھ قسمیں حلال بھی ہوتی ہیں) علمائے کرام کے فتووں سے افسر شاہی کو سکھانے کی ضرورت ہے کہ عوام کا مال کھانا، کرپشن، اقرباپروری وغیرہ سب حرام ہے۔ پھر دیکھیے گا کیسے سارا نظام ٹھیک ہوتا ہے ۔ نیب اور انیٹی کرپشن جیسے ادارے جن پر الزام ہے کہ وہ سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ان کو قائم رکھنے کی ضرورت بالکل ختم ہو جائے گی کیونکہ ان اداروں کے بغیر ہی صرف فتوی کی دہشت سے بد عنوانی کا عفریت اپنی موت آپ مر جائے گا۔ یہاں یہ بھی اندیشہ ہے کہ سرکار کا برا چاہنے والے شاید ایسا کرنے پر روڑے اٹکائیں وہ نہیں چاہیں گے کہ 72سالوں کے مسلئے چند مہینوں میں حل کر لیے جائیں ایسا ہوا تو انکی دوکان بند ہو جائے گی ویسے بھی تنقید برائے تنقید کرنے والوں کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ انکی طبعیت کے خلاف ہوتا رہے اگر کچھ نہ ہو تو وہ خود ہی createکر لیتے ہیں اب اس بے ضرر ڈائری ہی کو لیں جو پنجاب بار کونسل کی طرف سے 2018کیلئے شائع کی گئی ہے۔ اس کے ایک جملے پر وہ شور مچا کہ خدا کی پناہ۔ پتہ نہیں کیوں لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ بار کونسل کو ئی progressive اورPolitically correctادارہ ہے جس کی ڈائر ی پر ایسی بات چھاپ دی گئی ہے جو اس کی صنفی برابری کی پالیسی کے خلاف ہے اب یہ لکھنے پر کہ ،،جس قوم نے عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی وہ کبھی نہ کبھی ضرور اپنی غلطی پر پشیمان ہوئیں،، پنجاب بار کونسل سے وضاحتیں طلب کی جا رہی ہیں دراصل غصہ اس جملے پر نہیں اس کے نامکمل ہونے پر ہے اگر ان قوموں کے نام بھی لکھ دئیے جاتے جو پشیماں ہو چکی ہیں یا ہونے والی ہیں تو ہمارئے اکابرین عورتوں کو آزادی دینے کے حوالے سے اپنی ضرورت کی حدبندی کر لیتے، آخر عورتیں کتنی آزاد ہیں یا کتنی پابند یہی تو قوموں کی ترقی اور زوال کی بنیادی reasonہے۔بحرحال کونسل نے اس قضایا کو نپٹانے کیلئے معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر دیا ہے ۔ واہ واہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کی بار کونسل ایک pageپر آگئے ہیں ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ ملک کے تمام ادارے اس پیج پر اکٹھے ہونے والے ہیں ۔وقت بدل رہا ہے کچھ کے لیے تیزی سے بہت سوں کو پل صدیوں کی طرح محسوس ہو رہے ہیں۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.