Urdu News and Media Website

وزیراعلیٰ پنجاب کا تنازع، ن لیگ کا بیانیہ اچانک تبدیل کیوں ہوا

اسلام آباد (صابر مغل سے) وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے پیدا ہونے والی صورتحال نے مقتدر حلقوں اور تمام اتحادی سیاسی رہنماؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے حمزہ شہباز کو عبوری اور محدود وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے بعد اس کے ہی خلاف متوقع فیصلہ آنے کے خدشہ کے پیش نظر سول۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان عام انتخابات کی جانب فوری بڑھنے اور بات چیت کے آغاز پر مشاورت کا سلسلہ شروع۔

22جولائی کو پنجاب اسمبلی میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہی پرویز الہی اور حمزہ شہباز کے درمیان وزارت اعلیٰ پر مقابلہ ہوا

پرویز الہی کو اکثریتی ووٹ ملنے پر ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے اچانک چوہدری شجاعت حسین کا خط نکال کر ساتھ سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ ق کے تمام 10 ووٹ مسترد کرتے ہوئے حمزہ شہباز کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔

ان آخری لمحات میں چوہدری شجاعت حسین کو ایسی ایسی شخصیات نے عمران خان کے خلاف قائل کیا کہ سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا

مگر چوہدری شجاعت حسین کے اس تاخیری خط کے سبب بہت سی قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں جن کو کنٹرول کرنا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

تمام اتحادی اور دیگر اہم حلقے کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ تخت پنجاب عمران خان کے ہاتھ میں جائے

دوسری جانب پاکستان کی تباہ کن معاشی صورتحال اور بالخصوص شدید ترین اور تاریخی عوامی رد عمل نے سبھی کو سوچ تبدیل کرنے اور کسی درمیانی راستے پر چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ سے چند روز قبل سابق صدر آصف علی زرداری کا چوہدری شجاعت حسین کے گھر آنا جانا بہت بڑی پالیسی کا حصہ تھا

اجلاس میں تاخیر کے دوران یہ بات بھی محض شوشہ تھی کہ آصف زرداری اب میاں نواز شریف کا پیغام لے کر شجاعت حسین کے پاس پہنچے ہیں در حقیقت وہ کسی اور کے کہنے پر گئے تھے

بظاہر یہ سارا کریڈٹ آصف زرداری کو ایک زرداری سب پر بھاری کے نام سے دیا جا رہا ہے مگر انتہائی اہم ذرائع کے مطابق اس میں ایک فیصد بھی حقیقت نہیں۔

یہ کریڈٹ بس اس وجہ سے تھا کہ کہیں اور انگلیاں نہ اٹھیں ۔ شجاعت حسین کی مجبوری کچھ اور تھی جس کا وہ اب دبے الفاظ میں اظہار بھی کر چکے ہیں۔

آصف زرداری نے گذشتہ چند ماہ سے مسلم لیگ ن کے اتحادی ہونے کا بہت بڑا ثبوت دیا مگر اسی محبت میں اس نے مسلم لیگ ن کے بیانیے کو تباہ کر کے رکھ دیا

جس کو پاکستان کے بہت بڑے سیاسی چغادری سیاستدان بھی نہ سمجھ سکے

اس وقت پی ڈی ایم میں سے صرف آصف زرداری واحد سیاسی رہنما ہیں جن کے تمام حلقوں سے تعلقات بہترین نہج پر ہیں۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان جو ایوان صدر کے خواب دیکھتے تھے اب صرف بیانات سے خود کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔۔

اب بات چونکہ عام انتخابات کی جانب تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے اس دوران مسلم لیگ ن کے نزدیک اگر پنجاب عمران خان کے پاس گیا تو ان کی پوزیشن خطرناک حد تک خراب ہو سکتی ہے اس لیے اب فوری انتخابات ہی ان کے نزدیک بہترین حل ہے۔

 پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست مزاری  کی نادانی اور جلد بازی سے فیور کے امکانات میں کمی نظر آ رہی ہے۔ یہی سب دے زیادہ پریشانی ہے

بہرحال پاکستان جس بارے دنیا بھر میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں کسی وقت کچھ بھی ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

میاں نواز شریف بھی موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنے کچھ فیصلوں۔ اپنے بھائی اور بھتیجے کی سیاست سے بہت دلبرداشتہ ہیں وہ بھی الیکشن کی جانب مائل ہو چکے ہیں ۔ اسی وجہ سے مریم نواز نے اپنے والد کی ہدایت پر ہی اپنے سیاسی بیانیے کو نئے سرے سے ابھارنے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے جس میں سب سے پہلا کام عدالتی فیصلہ آنے سے قبل ہی وہ سپریم کورٹ پر چڑھائی ہے۔

بیانیہ وہی ہو گا کہ ووٹ کو عزت دو۔

آنے والے دنوں میں ملک میں بہت کچھ بدلتا ہوا نظر آرہا ہے۔

تبصرے