Urdu News and Media Website

اہم شہر پر بندروں کا قبضہ، شہریوں کو یرغمال بنا لیا

جاپان کے جنوبی شہر یاما گوشی پر سینکڑوں جنگلی بندروں نے قبضہ کرکے شہریوں کو یرغمال بنا لیا۔

بندروں کے حملوں سے نمٹنے اور یرغمال بنائے جانے والے شہریوں کو آزاد کرانے کےلیے اسپیشل پولیس کے دستے طلب کرلیے گئے۔

جاپان کی پولیس نے تصدیق کردی۔۔ جاپانی میڈیا کے مطابق یاماگوشی پر آٹھ جولائی کو سینکڑوں بندروں نے منظم حملہ کر کے شہر پر اپنا قبضہ جما لیا تھا اور اٹھاون افراد کو کاٹ کر زخمی کیا۔

جبکہ ہزاروں افراد نے پولیس اور ایمرجنسی سروسز سے مدد طلب کی تھی کہ ان کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوچکا اور ان کی تمام اشیائے خورونوش بندروں نے چھین لی ہیں۔

شہر کے پارکس، درختوں اور گاڑیوں کی پارکنگز سمیت کئی کنڈر گارٹن اسکولز میں دندناتے بندر شہریوں کو سڑک پر یا فلیٹس کی راہداریوں میں چلتے دیکھ کر حملوں کا نشانہ بناکر شدید زخمی کردیتے ہیں۔

اپارٹمنٹس اور گھروں میں موجود شہریوں نے بتایا کہ بندر اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ گھروں میں گھسنے میں کامیاب ہیں اور کھانا چھیننے کےلیے ہمیں بے دست و پا کردیا ہے۔

جاپانی ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کا کہناہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھوکے جنگلی بندروں نے لوٹ مار کےلیے کسی قصبہ یا شہر کا رخ کیا ہو۔

ماضی میں ایسے درجنوں حملے ریکارڈ کا حصہ بن چکے۔

لیکن اب کے حملے کی بات بڑی حیران کن ہے کہ بندروں کی تعدادسات سے آٹھ سو ہے اور انہوں نےکئی ہفتوں سےشہر کی شاہراہوں اور رہائشی اپارٹمنٹ بلاکس کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔

یہ بندر ابھی تک واپس نہیں گئے۔ حالانکہ ماضی میں یہ جتھے لوٹ مار کے بعد ایک یا دوتین دن میں واپس جنگل بھاگ جاتے تھے۔

یاما گوشی سے جنگلی بندروں کو بھگانے کےلیے تین ہفتوں تک جاپانی محکمہ جنگلی حیات کے سینکڑوں اہلکاروں نے ریسکیو آپریشن کیےلیکن یہ ناکام رہے

کیونکہ بندروں نے مذکورہ حکام اور اہلکاروں کو جم کر ہلکان کیا اور جوابی حملے کیے جس سے کئی اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق شہر کو بندروں سے پاک کرنے کا آپریشن ناکام رہا کیوں کہ بندروں کے سردار نے حیرت انگیز ’’جنگی حکمت عملی‘‘ اپنا کر مختلف اپارٹمنٹ بلاکس کی مکمل ناکہ بندی کرلی تھی اور داخلہ پوائنٹس پر اہلکاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی قبضہ جما لیا تھا۔

پولیس اہلکاروں نے بندروں کے سردار کو ہلاک کردیا۔

تبصرے