Urdu News and Media Website

یہ ہوائی کسی” دشمن” کی اڑائی ہوگی……!!!!

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔

ضیا شاہد

دل ہے کہ اب بھی نہیں مانتا کہ "چڑھتے سورج کی سرزمین” پر برسوں سے سیاسی میدان میں بوریا نشین "ہمارے حضرت صاحب”سیاست کے "اس بازار”میں” دیکھے” گئے مگر کیا کریں کہ ہر کوئی” انگلیاں”اٹھا رہا ہے کہ وہ "تمہارے حضرت صاحب” ہی تھے اور ہم "انگشت بدنداں” ہیں کہ "ہمارے حضرت صاحب ” کیا سے کیا ہو گئے…..کہاں سے کہاں کھو گئے؟؟ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں "پورے وثوق "سے کہہ دیا کہ ہمارے دو ارکان پنجاب اسمبلی ” دس دس کروڑ "میں بکے ہیں……ان میں ایک میاں جلیل شرقپوری اور دوسرے شکرگڑھ سے مولانا ہیں…….انہوں نے یہ "انکشاف” بھی کیا کہ” مولانا صاحب” بیرون ملک جا چکے ہیں……ہمارے لیے واقعی یہ "اچنبھے اور ندامت” کی بات ہے کہ بقول رانا صاحب "ہمارے حضرت صاحب "بھی” خریدے” گئے اور کسی کو ملے بغیر ہی”پردیس” چلے گئے….

صاحب کرامت ولی اللہ سید جماعت علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی درگاہ علی پور سیداں سے فیض یاب "مولانا صاحب” تو بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے 1985 میں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے لیے میاں شریف مرحوم سے” بریف کیس ” اور "پلاٹ” لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ میں اپنی "برادری "یعنی علمائے کرام کی "ناک”نہیں کٹوانا چاہتا۔۔۔۔دوسرے وہ تو شہر رسول مدینہ منورہ کے مسافر تھے۔۔۔۔ناجانے کیوں آخری عمر میں اپنا "بیانیہ” بدل لیا۔۔۔۔کیوں اپنی منزل "تبدیل” کرلی؟؟؟ یہ سطور لکھتے ہوئے نجی ٹی چینل کے بیوروچیف جناب بابر ڈوگرنے فون پر استفسار کیا کہ کیا مولانا صاحب "ناروے "چلے گئے ……؟؟
اگر یہ” افواہ” درست ہے تو افسوس ہی کیا سکتا ہے کہ "ہمارے ممدوح "بھی اپنے چاہنے والوں کے جذبات "مجروح "کرگئے……اب کسے رہنما کرے کوئی!!!

دواڑھائی سال پہلے جب مولانا صاحب اپنے” ہم خیال دوستوں” کے ساتھ بنی گالہ جاکر عمران خان سے "بغل گیر”ہوئے تو ہم نے اس "ملاقات” کو معمول کی نشست سمجھا اور” کیا مولانا غیاث الدین لوٹے ہوگئے”کے عنوان سے ایک”دفاعی کالم”بھی لکھ مارا جس کا "لب لباب "یہ تھا کہ جس طرح "ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا "اسی طرح کسی سیاسی مخالف سے میل ملاقات سے کوئی "لوٹا "نہیں ہو جاتا۔۔۔۔۔!!!لیکن پھر وہ”دھندلے "ہوتے گئے…. عثمان بزدار کا "قرب "پایا تو پھر چودھریوں کے” آستانے” پر جلوہ افروز ہوئے…..دو تین ہفتے قبل اچانک حمزہ شہبازکے "پہلو "میں جا بیٹھے اور ابھی تین چار روز پہلے ن لیگ سے "وفاداری” کا دم بھرتے پائے گئے…اب خبریں ہیں کہ ان کا اپنی پارٹی سے” رابطہ” پھر "منقطع”ہے اور وہ "آؤٹ آف رینج”ہیں……

رانا ثنا اللہ کے” آن ریکارڈ بیان”کے بعد بھی ہم "شش و پنج "میں ہیں کہ واقعی مولانا غیاث الدین "بک” گئے ہیں کہ وہ تو نکاح اور ختم کے "معمولی نذرانے”پر قناعت کر لیا کرتے تھے؟؟ہمارا اب بھی گمان ہے:

یہ ہوائی کسی دشمن کی اڑائی ہوگی

افسوس کہ "بنی گالہ یاترا "کے بعد مولانا سے وہ پہلی سی” محبت” نہ رہی کہ ہم” "وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ہے”کے قائل ہیں اور وہ”یہ تبسم،یہ تکلم تیری عادت ہی نہ ہو "والے بے وفا محبوب نکلے……زندگی کا اصول ٹھہرا کہ کسی کو چاہا تو دل سے چاہا اور آخری حد تک چاہا…….اختلاف ہوا تو اپنے خلوص کا معاملہ اللہ پر چھوڑ کر تصادم کے بجائے راستہ بدل لیا…..تعجب ہوتا ہے کہ ہم آج تک ” سبزی والا "نہیں بدل سکے…لوگ اتنی جلدی پارٹیاں اور دوست کیسے تبدیل کر لیتے ہیں؟؟؟مولانانے مبینہ طور پر کتنے پیسے لیے اور اب کہاں ہیں؟؟؟ یہ معلومات وہ خود یا ان کے "قریبی رفیق” ہی "عنایت”کر سکتے ہیں…..”رفیق” سے یاد آیا کہ کسی ایک مجلس میں، میں نے ان کے سیکرٹری”ماسٹر رفیق” سے ازراہ مذاق کہا کہ مولانا کو "حلال چائے” بھی پینے دیا کریں تو وہ لال پیلے ہوکر اچھلے اور کہا کہ مجھے ایویں نہ سمجھیں میں "ڈبل ایم اے” ہوں…..اس دن مجھے ان کی” ذہنی حالت” پر ترس آیا……شومئی قسمت کہ ایسے "بے دماغ مشیر” مولانا ایسے کتنے ہی "قابل صد احترام لوگوں "کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر "بے توقیر "کر دیتے ہیں….. دل تو نہیں مانتا لیکن اگر رانا ثنا اللہ کی” بات” درست ہے تو مولانا صاحب نے واقعی اپنا”بڑھاپا "خراب کیا۔۔۔۔اپنی "برادری "یعنی علمائے کرام کی دستار” میلی”کر دی۔۔۔۔اپنے حلقے کے عوام کا مینڈیٹ” روندا”…..مسجد کی چٹائی اور بیچ چوراہے بیٹھ کر سال ہا سال کمائی ” نیک نامی "لمحوں میں کھودی اور اپنی "بے داغ سیاست” کو داغ داغ کردیا۔۔۔۔کہہ لیں کہ انہوں نے اپنے پاؤں نہیں سر پر کلہاڑا مارا…..اسے "سیاسی خود کشی”بھی کہتے ہیں!!!

"اقتدار اور پیسے کا نشہ” بھی عجب گمراہ کن نشہ ہے کہ اچھے بھلے لوگ”بہک "جاتے ہیں۔۔۔۔مجھے یاد ہے کہ 2013 میں ابھی مولانا کو ایم پی اے بنے ایک دو مہینے ہوئے تھے کہ شکرگڑھ سے نارووال آتے ہوئے میں نے انہیں مذاق میں کہا کہ مولانا اب کی بار پیسے کمالیں…..اس سفر میں برادرم فواد بشارت بھی ہمارے ساتھ تھے…..انہوں نے فرنٹ سیٹ سے پیچھے مڑ کر جواب دیا کہ "حرام کا پیسہ” عذاب ہے……اگر ایسی "دولت کی بدولت "عارضہ قلب،فالج ،شوگر اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض” چمٹ” گئے تو کیا فائدہَ؟؟بہتر ہے حلال رزق اور صحت والی زندگی مل جائے……..ایک دو سال میں ہی جواں ہمت مولانا کی "اوپن پارٹ سرجری” ہوئی ۔۔۔۔اللہ نے انہیں زندگی بخشی اور وہ پہلے سے "جوان” ہو گئے۔۔اب یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کسی "لقمہ حرام "کی نحوست تھی یا بڑھاپے کے باعث "مریض قلب” بنے؟؟؟

کہتے ہیں” دو چہرے” کھبی نہیں بھولتے ۔۔۔ایک برے وقت میں ہاتھ تھامنے والا اور دوسرا مشکل میں ساتھ چھوڑنے والا ۔۔۔۔۔جب کوئی” پرسان حال” نہ ہو توکسی کا ایک تسلی بھرا جملہ بھی حوصلہ دے جاتا ہے۔۔۔۔ایسی "ہمدردانہ تھپکی” اچھے وقت کی خوشامد میں لتھڑی”قصیدہ خوانی”سے ہزار بہتر اور بیش قیمت ہوتی ہے……رانا ثنا اللہ سے یاد آیا کہ مولانا صاحب ان کے”دو جملوں "کا احسان ساری زندگی نہیں دے سکتے…..”ہمارے حضرت صاحب” 2012 میں جناب انور عزیز کیمپ سے آزاد امیدوار کے طور پر ضمنی الیکشن ہار گئے……میں نے لاہور کے سنئیر اخبار نویس برادرم راجہ ریاض سے گذارش کی کہ رانا ثنااللہ سے آپ کے اچھے مراسم ہیں۔۔۔۔۔مولانا سے ان کی” ہیلو ہائے "کرادیجئے کہ وہ آئندہ الیکشن میں ن لیگ کی” گڈ بک ” میں آ جائیں۔۔۔۔ابھی شکرگڑھ سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی جناب عمر شریف نے حلف نے نہیں اٹھایا تھا کہ مولانا پنجاب اسمبلی میں وزیر قانون کے چیمبر میں چائے پی رہے تھے۔۔۔۔رانا ثنا اللہ اس دن” راجپوتانہ موڈ "میں تھے…..انہوں نے راجہ ریاض اور میری موجودگی میں کہا کہ مولانا صاحب جمع خاطر رکھیں آپ عام الیکشن شیر کے نشان پر لڑینگے ۔۔۔میں ڈی سی اور ڈی پی او نارووال سے کہہ دیتا ہوں کہ آپ کو آج سے ہی ایم پی اے کاپروٹوکول دیں……پھر 2013 کے عام انتخابات میں مولانا نے واقعی ن لیگ سے الیکشن کیسے لڑا اور بھاری مارجن سے جیتے۔۔۔۔۔مولانا کو ٹکٹ کیسے ملا اور کس کس نے کہاں کہاں ساتھ دیا ؟؟؟یہ ایک الگ کہانی ہے…..مولانا صاحب اب کچھ بھی کہتے پھریں مگر سچی بات یہ ہے کہ وہ رانا ثنا اللہ کے چاہت بھرے” چائے کپ” اور "دو خیر سگالی جملوں” کا احسان نہیں دے سکتے کہ اس وقت جناب 13سالہ” شکست و ریخت” کے باعث "نڈھال” تھے….!!!تب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ اب وفاقی وزیر داخلہ ہیں اور دو ٹوک کہہ رہے ہیں کہ ہمارے دو بندے” ویریفائیڈ "بکے ہیں۔۔۔۔۔ایک جلیل شرقپوری اور ایک شکرگڑھ سے مولانا صاحب ہیں….اسمبلی رپورٹرز کے مطابق "ہمارے حضرت صاحب” وزیر اعلی کے انتخاب پر ایوان سے بھی” غائب "تھے……عطا اللہ تارڑ نے ان کی "لوکیشن”آسٹریا ویانا بتاتے ہوئے انہیں پارٹی سے رجوع کا "صوتی سندیسا” بھیجا ہے…..ہمارے خیال میں مولانا کی یہ خود ساختہ "روپوشی” اور”خاموشی”ان کے بارے میں "ابہام "پیدا کر رہی ہے…..یہ بات تو طے ہے کہ وہ واپس نہ آئے تو ن لیگ انہیں "ریفرنس” بھیجے گی… وہ نااہل ہونگے اور ان کے حلقے میں ضمنی الیکشن ہوگا….دوسرے وہ جہاں بھی ہیں انہوں نے میڈیا کے سامنے آکر دس کروڑ کے سنگین الزام سے متعلق اپنی”پوزیشن واضح” نہ کی تو "کوچہ سیاست” سے بھی بڑے بے آبرو ہو نکلیں گے….!!!

 

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے