Urdu News and Media Website

"800 بے شرم آنکھیں”

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔
ضیا شاہد
مینار پاکستان کے سائے تلے "ٹک ٹاکر لڑکی” سے "سر عام بدتمیزی” انتہائی شرمناک ہے…..یارلوگ "سائیڈ سٹوریز” جتنی مرضی گھڑ لیں لیکن "اصل سٹوری” ایک ہی ہے کہ مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال سے منسوب” گریٹر اقبال پارک "میں یوم ازادی پر سینکڑوں "تماش بینوں "کا "گھٹیا ترین ہجوم” گدھ کی طرح ایک "نہتی لڑکی "پر جھپٹ پڑا……عائشہ بیگ کے مطابق اڑھائی گھنٹے کی ہراسانی میں "ہجوم” نے دھکے دیے….دوپٹہ اتار پھینکا…..بال نوچے……کپڑے تار تار کر دیے…..ہوا میں اچھالا…..پانی میں گرایا گیا…جسم کے ساتھ کھیلے…..ایک موقع پر تالاب میں کودنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا…..پولیس سے15پر تین بار رابطہ کیا مگر جواب نہ ملا…..

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس "مکروہ واقعہ "پر کیا خوب سرخی جمائی: چار سو مرد ،آٹھ سو آنکھیں مگر شرم کسی ایک میں نہ تھی……واقعی یہ چار سو "بے شرم مردوں” کی آٹھ سو "بے شرم آنکھیں "تھیں جو "ہوس”میں اتنی اندھی ہو گئیں کہ کسی کو اپنے گھر بیٹھی اپنی ماں بہن بیوی بیٹی یاد نہ رہی……

منٹو نے لکھا تھا: ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو…باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں بس "گوشت کی دکان” ہوتی ہے اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے "کتوں "کی طرح ہوتے ہیں جن کی ہوس زدہ نظریں ہمیشہ گوشت پر ٹکی ہوتی ہیں….

منٹو نے سچ کہا…..ہمارا عمومی مزاج یہی ہے کہ ہم دوہرے معیار کے دو رخے لوگ ہیں…..عجب منطق ہے کہ ہم گھر سے باہر نکلنے والی ہر عورت کی کسی نہ کسی بہانے” تاک جھانک”کا "جواز "پیدا کر لیتے اور پھر کمال دیدہ دلیری سے اپنے "ناجائز” کو "جائز” ثابت کرنے کے لیے "تاویلیں” گھڑتے ہیں……یہی معاملہ دیکھ لیں ……سوشل میڈیا کے "محققین” ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس لڑکی کی کچھ ایسی”بولڈ تصاویر اور ویڈیوز” پیش کرکے فرما رہے ہیں کہ اس کے ساتھ جو ہوا ٹھیک ہوا…..چلیں مان لیا کہ وہ بے چاری” غلط” ہے تو پھر بھی آپکے چار سو” تماش بین” "فرشتے” کیسے ہو گئے……..کیا ہی ان گھڑت اور من گھڑت سے لوگ ہیں…..!!!

کچھ سالوں کی بات ہے ایک میڈیا ہائوس میں کام کرنے والے ہم چار پانچ "خواتین و حضرات” میڈیا سے متعلق بڑے ادارے کے خواتین کے لیے مختص میں روم میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے….ایک سنئیر ترین ” دل والے صاحب ” آئے …..تھوڑا سا دروازہ کھولا اور اندر جھانکا …..سلام کے بعد وہاں اپنے سے آدھی عمر والی ہماری ایک کولیگ سے "یکطرفہ "مسکراتے ہوئے خصوصی طور پر پوچھا آپ کیسی ہیں؟؟دبنگ خاتون نا جانے کتنی "نکو نک” تھیں کہ غصے سے بولیں میں تو ٹھیک ہوں لیکن جناب کسی "ذہنی مرض” کا شکار دکھائی دیتے ہیں…پھر ان پر برس پڑیں اور کھری کھری سنا ڈالیں …. "بیچ بچائو” کے بعد جب” موصوف "بھاگ نکلے تو "میڈم صاحبہ” نے بتایا کہ عجیب مخبوط الحواس آدمی ہیں…..جان نہ پہچان میں تیرا مہمان…….اسی” محفوظ احاطے "میں آج ہی کے دن ایک دو گھنٹے میں تیسری چوتھی مرتبہ پوچھ چکے ہیں کہ میں کیسی ہیں….. بھلا یہ میرے مامے کا پتر ہے کہ میری اتنی فکر ہے؟؟؟
اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک کشمیری صحافی دوست راوی ہیں کہ ایک دبنگ خاتون اخبار نویس نے ایک دفعہ ایک” دست دراز مدیر” کی یہ کہہ کر بولتی بند کردی تھی کہ سر ٹھریے! میرے نزدیک رشتے دو ہی ہیں ……بیٹی اور بیوی کا…..فیصلہ کرلیں جناب کون سا پسند کرتے ہیں؟؟؟سنا ہے پھر اس ایڈیٹر نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا…..

بات ہو رہی تھی مینار پاکستان کیس کی تو حکومت کے” نئے ٹیسٹ کیس "میں” ون فائیو” کی غفلت کا پہلو بھی انتہائی اہم ہے……ہجوم جہاں بھی ہوگا،یہی کرے گا……سوال یہ ہے کہ ہجوم کو کنٹرول کرنے والے ادارے کیوں بروقت حرکت میں نہیں آتے…..؟؟؟ایک سال پہلے موٹروے پر جنگل کے پاس خاتون” پکارتی "رہی مگر پولیس غائب….اب شہر کے مرکز میں مینار پاکستان پر لڑکی "دہائی”دیتی رہی مگر پولیس غائب ……کیا یہ "محض اتفاق” ہے یا کوئی "عادت بد”…….؟؟؟؟چاہئیے تو یہ تھا کہ ان دو "سنگین واقعات” کے دوران ڈیوٹی پر مامور غیر ذمہ دار اہلکاروں کو ہمیشہ کے لیے گھر بھیج دیا جاتا کہ وہ کم از کم اپنے گھر والوں کا ہی خیال رکھیں……پھر بھی دیر آید درست آید…… شنید ہے وزیر اعلی جناب عثمان بزدار نے پولیس کی اس لا پروائی کے حوالے سے انکوائری کا حکم دیدیا ہے …..دیکھتے ہیں اب "انکوائری کمیٹی” کی پٹاری سے کیا برآمد ہوتا ہے…..؟؟؟؟

اسلامی معاشرے کے تحت حقوق نسواں کے باب میں عزت و ناموس کا تحفظ عورت کا پہلا اور سب سے بڑا حق ہے……..بلا شبہ لباس کے بھی آداب ہیں……ہمیں ملبوسات کے حوالے سے "اپنے دین اور دیس” کے "مزاج” کو پیش نظر رکھنا چاہئیے…..کسی پبلک پلیس اور پارک میں”ادھورے پہناوے” پہن کر گھومنا "گناہ” ہے تو "مختصر لباس "کا تعاقب بھی کوئی ثواب کا کام نہیں….کبھی کہیں کوئی عورت "بولڈ ڈریس” میں نظر آجائے تو "بھوکے کتے” کی طرح گوشت پر نظریں گاڑنے کے بجائے ایک "مہذب انسان” کی طرح نگاہیں جھکا لینا بہترین عمل ہے….قرآن کریم میں بھی نظریں نیچے رکھنے کا حکم ہے…..!!!!

تبصرے