Urdu News and Media Website

ختم نبوت کانفرنس کی تیاریاں،جامعہ اشرفیہ میں 50کمیٹیوں پرمشتمل علما کنونشن

لاہور(نیوزنامہ) تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد کی تیاری سلسلے میں بننے والی پچاس کمیٹیوں پرمشتمل علماء کنونشن جامعہ اشرفیہ لاہور میں جامعہ کے مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم کی صدارت میں ہوا۔کنونشن کے مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا تھے جبکہ کنونشن میں مولانا عزیزالرحمن ثانی،مولانا محمدیوسف خان ،قاری جمیل الرحمن اختر،پیررضوان نفیس،و فاق المدارس کے مفتی عزیزالرحمن ، جے یو آئی مولاناحافظ محمداشرف گجر، مولانا محمداکرم کشمیری ،مولانا عبدالنعیم،مولانا محمدا نیس مظاہری ،مولاناسید ضیاء لحسن شاہ،مولاناعبدالشکوریوسف،یاسین فاروقی،مولاناسرفرازاعوان، مولانامجیب الرحمن انقلابی ، مولانا خالدعابد ، مولانا امتیازکشمیری،مولاناقاری محمدرمضان،قاری محمدابوبکر ،مولانا محمداشرف نقشبندی،قاری عبدالعزیز، قاری ظہورالحق ،مولانا خالدمحمود،مولانا امجدسعید،مولانا قاری محمدرفیق زاہد،قاری طارق شاہ،قاری محمدزکریا،مولانا شمس الحق،مولانا عبدالرؤف ،مولانا عزیزالرحمن ،مولانا محمدیعقوب فیض ، مولانا اسامہ سالم ، مولانا محمودمیاں ، علامہ عبدالنعیم نعمانی،مولانا سعادت،مولانا ذاکرعزیز،قاری شفیق الرحمن،مولانازاہدکاشف،قاری عابدحنیف ،پیرزبیرجمیل،مولانا عبیدالرحمن معاویہ ،مولانا سعید وقار، سمیت سینکڑوں علماء نے شرکت کی۔کنونش میں ختم نبوت کانفرنس کی تمام کمیٹی کے سربراہان نے کانفرنس کی تیاری کے حوالے سے رپورٹ پیش کی ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے والے کل قیامت والے دن شفاعت محمدی کے حقداربنیں گے ،عقیدہ ختم نبوت کسی ایک مسلک یا فرقے کا کام نہیں پوری امت مسلمہ کا مشرکہ عقیدہ ہے اور مسلمانوں نے ہمیشہ باہمی اتحاد واتفاق سے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور دفاع کیا ہے ،اسلام کی بنیا د جس عقیدے پر قائم ہے وہ ختم نبوت کا عقیدہ ہے انگریز کا خود کاشتہ پودا فتنہ قادیانیت ملک کے مختلف علاقوں میں سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانی کافر و مرتد بنانے کیلئے اپنے اوچھے ہتھ کنڈے استعمال کیے ہوئے ہیں جنکا تدارک کرنا حکومت کی آئینی و دینی ذمہ داری ہے آزادکشمیر اسمبلی قادیانیوں کو آئینی طورپر غیرمسلم اقلیت قرار دے کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے اس پرانکو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔شاہین ختم نبوت مولانااللہ وسایا نے کہا کہ قانون ناموس رسالت میں کوئی ترمیم ناقابل برداشت ہے۔ سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے ایجنڈے سے قانون ناموس رسالت میں ترمیم کا پوائنٹ خارج کیا جائے۔ حکومت 295 سی کو چھیڑنے سے باز رہے۔بادشاہی مسجد کانفرنس پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے ایک نمائندہ کانفرنس ہوگی جس سے اسلام دشمن قوتوں کو مشترکہ طورپر تحفظ ختم نبوت اور نامو س رسالت تحفظ کے لیے پیغام دیا جائے گااوریہ کانفرنس اتحاد امت کا عملی نمونہ ہوگی۔مولانا پروفیسر یوسف خان نے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں قانون ناموس رسالت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر کے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔ عاشقان رسول مداخلت فی الدین کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔ قانون ناموس رسالت میں کسی رد و بدل کی کوئی ضرورت نہیں۔ مولنا عزیزالرحمن ثانی نے کہا کہ قانون ناموس رسالت کے غلط استعمال کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ ہماری زندگیاں ناموس رسالت کی امانت ہیں۔مولانا عبدالنعیم نے کہاکہ دین بیزار عناصر قانون ناموس رسالت کے خلاف سازشیں بند کریں حکومت قانون ناموس رسالت کو ختم کرنے کا بیرونی مطالبہ مسترد کرنے کا اعلان کرے اور وزیراعظم قوم کو یقین دلائیں کہ قانون ناموس رسالت میں کسی قسم کی کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ قانون تحفظ ناموس رسالت کیخلاف بیرونی دبائو اوراندرونی سازشوں کو ناکام بنایا جائے ۔کنونشن میں تمام علماء نے قانون تحفظ ناموسِ رسالتؐ میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کو یکسر مسترد کردیا ہے انہوں نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی طرف سے توہین رسالت پر سزائے موت کا قانون ختم کرکے عمر قید کی سزا دینے کی تجویز کو آئین پاکستان سے اورقرآن و سنت سے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ناموسِ رسالتؐ ایکٹ میں ترمیم کی سازش درحقیقت تحفظ ناموسِ رسالتؐ قانون کو غیر موثر بنانیکی ملک دشمن یہودی و قادیانی سازش ہے جسے غیور مسلمان قطعی طور پر برداشت نہیں کرینگے۔

تبصرے