Urdu News and Media Website

ڈاکٹر شاہد مسعود اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ

تحریر:امتیاز احمد شاد
قصور میں ہونے والے واقعات نے ریاست کے انتظامی ڈھانچہ کی جڑ یں ہلا کر رکھ دی ہیں۔بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر ان کا قتل ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔اس دردناک عمل کی لپیٹ میں ملک کا ہر صوبہ آچکا ہے۔ روزانہ کہیں نہ کہیں سے اس حوالے سے کوئی خبر ضرور رپورٹ ہو رہی ہے۔جنسی تشدد کے واقعات زیادہ تر اس لیئے دب جاتے ہیں کہ بدنامی کا ڈر ہوتا ہے۔ مگر جن واقعات میں بچوں کی لاشیں ملتی ہیں وہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کے سامنے آ جاتے ہیں چند دن خبروں کی زینت بننے کے بعد داخل دفتر ہو جاتے ہیں اگر کوئی آواز اٹھائے تو اسے چپ کروا دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ ایسے واقعات کے پیچھے بین الاقوامی مافیا متحرک ہے جو فحش تصاویر اور فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر ڈالتا ہے جو بے تحاشا دولت کمانے کا ذریعہ ہے۔پاکستان میں بھی یہ نیٹ ورک متحرک ہے لحاظہ قصور واقعہ کی تحقیق باریک بینی سے اس نقطہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے مگر پاکستان کا میڈیا ڈاکٹر شاہد مسعود کے پیچھے یوں پڑ گیا جیسے اس نے کوئی انہونی بات کہی ہو۔قصور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں فحش فلمیں بنانے کے مکروہ دھندےکے بارےمیں متعدد خبریں ٹیلی ویژن کی سکرین اور اخبارات کے صفحات کی زینت بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا بیان ہو سکتا ہے کہ بڑھا چڑھا کر بات کا بتنگڑ بنانے کے مترادف ہو مگر اس حقیقت سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ وفاقی تحقیقاتی ادارےکی اس رپورٹ کا کیا کیا جائے جس میں تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ بچوں کی فحش فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے میں وسطی پنجاب سر فہرست ہے جبکہ انٹرپول کینیڈا کی معلومات پر جھنگ کے رہائشی تیمور کو بچوں کی پور نو گرافی پر مبنی ویڈیوز،تصاویر انٹرنیٹ پر ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جس نے بہت سے انکشافات کیے ہیں۔اگر انٹرپول کینیڈا کی معلومات پر ایسے شخص تک پہنچا جا سکتا ہے جو نیوزی لینڈ ،امریکہ ،سویڈن اور کینیڈا سمیت دیگر یورپی ممالک میں بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر اور جنسی زیادتی کی فلمیں بنا کر بھیجتا ہے تو ڈاکٹر شاہد مسعود کی اطلاع پر قصور کے ملزم عمران سے تحقیقات کرنے میں کیا حرج ہے؟ ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنی سیاست بچانے کیلیئے ہمیشہ ایسے واقعات پر مٹی ڈال دی جاتی ہے تاکہ ان کی سیاسی ساکھ برقرار رہے۔وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود ایک مہرہ ہے ملزم عمران کا عالمی گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔ہو سکتا ہے کہ وزیر موصوف کی بات سچ ہو مگر اس الزام کی تحقیق کرنے اور جنسی تشدد بارے ہونے والے واقعات کی روک تھام اور ملزمان کی تہہ تک جانے میں اتنی لہت و لعل سے کام لینے کی ضرورت کیا ہے؟ جب وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملزم تیمور کو حراست میں لیا تو اس نے یہ انکشافات کیےکہ میرا تعلق ایک ایسے نیٹ ورک سے ہے جو پاکستان کے علاوہ بھارت،سری لنکا،نیپال،بنگلہ دیش افغانستان،روس اور کئی دیگر ممالک میں یہ غلیظ دھندہ کرتا ہے۔قصور واقعہ میں ملزم عمران سے صرف ایک پہلو پر تفتیش کی گئی کہ اس نے کتنے قتل کیے ؟ ڈی این اے سے بھی ثابت ہوا کہ قاتل عمران ہی ہے ، یقینا اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہے مگر اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے اس کیس کو مثالی بناتے ہوئے تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لینا ہو گا تاکہ کوئی پہلو بھی نظر انداز نہ ہو سکے۔بہت سے جید اینکر پرسنز اور کالم نگار (جن میں میرے چند دوست بھی شامل ہیں) اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عمران کے کوئی بینک اکائونٹ نہیں لہذا ڈاکٹر شاہد مسعود جھوٹ سے کام لے رہے ہیں ان کی بات کو اہمیت نہ دی جائے کیونکہ وہ جانے انجانےمیں ملزم عمران کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بعض تو اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کوئی صحافی نہیں ہیں لہذا ان کی زبان بندی کی جائے تاکہ صحافت کو بچایا جا سکے۔اس ملک میں ہر روز نئے نئے تجربے ہو رہے ہیں سر شام ٹی وی کی سکرین پر ایسے ایسے عقل کل براجمان ہوتے ہیں کہ چراغ لے کر ڈھونڈنے کو بھی نہ ملیں،سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف جملے بازیوں سے تنگ یہ قوم ابھی ہیجان سے باہر نہیں آئی تھی کہ صحافت کے علمبرداروں نے نیامحاذ کھول دیا۔ایک طرف یہ بحث جاری ہوتی ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں دوسری جانب اسی سکرین پر یہ بریکنگ نیوز چلتی ہے کہ فلاں جگہ سے ایک بچی کی مسخ شدہ لاش ملی ہے۔ جناب والا ! ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیئے کہ اگر یہ گھنائونے کھیل نہیں کھیلے جا رہے تو پھر عوام کیوں سراپا احتجاج ہے؟ کیوں ہر روز اخبارات اور ٹی وی پر اس کی باز گشت سنائی دے رہی ہے؟ ایسے واقعات کی نشاندہی کرنا میڈیا کا کام اور روک تھام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس علاقے میں ایسے واقعات رونما ہوں سب سے پہلے اس علاقے کا ایس ایچ او انہیں رپورٹ نہیں کرتا کہیں اس کی سرزنش نہ ہو پھر علاقے کی سیاسی حکومتی شخصیات ایسے واقعات کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کا علاقہ اور ان کی سیاسی ساکھ پر اثر نہ پڑے جب بات آگے بڑھے تو پھر صوبائی اور مرکز ی حکومتیں ایسے واقعات کو فقط اس بنیاد پر دبانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہیں کہ ان کی حکومت پر کوئی دھبہ نہ لگ جائے اس سب عمل میں وہ عناصر فائدہ اٹھا کر بچ جاتے ہیں جو اس مکرو دھندے میں ملوث ہوتے ہیں حالانکہ ایسے سکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچانے سے حکومتوں کی ساکھ بہتر ہوتی ہے نہ کہ بدتر۔اس پہلو کو نجانے کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ جن کے پیارے ،آنکھوں کے تارے ان کی آنکھوں سے اوجھل کر دیے گئے جو اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی وجہ سے علاقے میں سر اٹھا کر چل نہیں سکتے،جن کے بچوں کی غلیظ فلمیں اور تصاویر انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور وہ زندہ لاشیں بن کر رہ گئے ہیں تمام بڑے بڑے اینکرز اور صحافیوں کے اس رویے کو دیکھ کر ان کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ایک لمحے کے لیئے ڈاکٹر شاہد مسعود کو بھول جائیں اور ذرا سوچیںکہ قصور،جھنگ،سرگودھا،مردان اور اٹک میں ہونے والے دلسوز واقعات انفرادی نوعیت کے ہیں یا کسی گروہ کا کام ہے۔آپ انٹرنیٹ کی دنیا ذرا گھوم کر تو دیکھیں ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں گے کہ آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی۔ایسے واقعات کا تعلق کسی حکومت سے نہیں ہوتا یہ انسانیت سے گرا فعل درندہ صفت انسان فقط اپنی حوس اور دولت حاصل کرنے کے لالچ میں کرتے ہیں ۔یہ مت بھولیں کہ یہ گھنائونا کھیل پوری شدو مد سے جارہی ہے ۔ سیاسی اور صحافتی خلش سے بالا ہو کر اس مسلئے پر غور کریں اور تحقیق کریں آپ کو متعدد تیمور اور عمران ہمارے ہی معاشرے میں گھومتے پھرتے ملیں گے۔ان لوگوں کا نہ دین ہے نہ ایمان ان کا کسی انسانی فرقے سے کوئی تعلق نہیں ،ان کا سب کچھ حوس اور پیسہ ہے جو انہیں اس حد تک لے جاتا ہے کہ معصوم بچوں کی کلائیاں کاٹ کر انہیں اذیت دینے سے انہیں تسکین ملتی ہے۔آخر میں گزارش ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات جھوٹھے ہیں یا سچے اس کا فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے مگر حکومت کو بھی اس پہلو پر غور کر کے تحقیق کرنی چاہے تاکہ اگر ایسے واقعات میں کوئی حقیقت ہے تو ان کا کوئی سدباب نکالا جا سکے۔

تبصرے