Urdu News and Media Website

اسرائیل میں غار سے ایک لاکھ 94 ہزار سال پرانا انسانی جبڑا دریافت

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل میں غار سے ایک لاکھ 94 ہزار سال پرانا انسانی جبڑا دریافت کرلیا گیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ویسے تو متعدد تحقیقات میں پہلے ہی یہ دعوی کیا جا چکا ہے کہ انسان پہلے پہل افریقا میں ہی آباد ہوا تھا، جہاں سے اس نے ہجرت کرکے دوسرے خطوں کو آباد کیا۔ماضی میں افریقا میں قدیم ترین انسانی آبادی ایک لاکھ 20 ہزار سال قبل بتائی گئی تھی، تاہم اب شمالی افریقا کے خطے سے اسرائیلی شہر کی ایک غار سے اندازوں سے کہیں قدیم انسانی جبڑا دریافت ہوا ہے۔ماہرین بشریات کو شمالی اسرائیل میں واقع کوہ کرمل پہاڑوں میں موجود ایک غار سے کم سے کم ایک لاکھ 77 ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 94 ہزار سال قدیم انسانی جبڑا ملا ہے۔سائنس جرنل سائنس میگ میں شائع رپورٹ کے مطابق ماہرین بشریات کی ٹیم کو اسرائیلی شہر میسلیا کے قریب واقع پہاڑوں کے مغربی حصے میں موجود ایک غار سے انسانی جبڑا ملا ہے، جس میں نصف درجن دانت تاحال صحیح سلامت ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس خطے سے اتنی قدیم انسانی باقیات دریافت ہوئی ہیں، اس سے قبل یہاں سے 90 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار سال کے درمیان انسانی باقیات دریافت ہوئی تھیں۔قدیم ترین انسانی جبڑے کی دریافت کے ساتھ ہی یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر اسی علاقے میں انسان 2 لاکھ 20 ہزار سال قبل آباد ہوئے ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غار سے ملنے والا انسانی جبڑے میں 7 دانت تاحال صحیح سلامت ہیں، جب کہ دریافت ہونے والا حصہ جبڑے کا اوپر کا حصہ ہے۔ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والا جبڑا کم سے کم ایک لاکھ 77 ہزار اور زیادہ سے ایک لاکھ 94 ہزار سال پرانا ہے۔اس نئی دریافت کے ساتھ ہی ماہرین میں یہ بحث ایک بار پھر تیز ہونے لگی ہے کہ افریقا میں انسان کتنے لاکھ سال قبل آباد ہوا تھا؟

تبصرے