Urdu News and Media Website

بلھیا اساں مرنا نا ہی

تحریر: تشرف عظیم
سانحہ قصور کے بعد نجی چینل سے بوجھل قدم لئے نکلا۔تو بارہاآنکھوں کے سامنے وہی منظر آجاتا۔وہی معصوم چہرہ اور اسکے اٹھتے قدم۔ ایک لمحے کے لئے محسوس ہوتا کاش یہ دنیا بھی ریموٹ کنٹرول ہوتی۔اور میں اسے روک پاتا۔شائد اسے کسی بات کی نوید سنائی گئی تھی۔آؤ !تمھاری ماںعمرہ سے واپس آئی ہے۔ تمھارے ابا نے بلایا ہے۔ جو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی ماں سے جدا نہیں ہوتی تھی، نجانے کتنے دنوں اماں سے لپٹ کر سوئی نہیں تھی۔ اس کا تیز قدموں سے چلنا بتاتا تھا کہ یہ کوئی چاکلیٹ یا جھولے کا لالچ نہیں تھا۔ بلکہ یہ عشقیہ قدم تھے،جو وارفتگی میں اٹھتے ہیں۔بچوں کاپہلا عشق ماں باپ ہی تو ہوتے ہیں۔آج اماں سے ایسا لپٹوں گی کہ کبھی جدا نہ ہوں گی۔ وہ یہی سوچتے چلے جا رہی تھی۔
عین اس وقت کچھ قدم ہزاروں میل دور بھی اٹھے ہوں گے۔بیٹی کو گڑیا سے کھیلنے کا شوق ہے۔بازاروں میں دیوانہ وار پھرتی ماں اپنی بیٹی کے لئے گڑیا خرید چکی تھی۔اب اس کے قدم عشق حقیقی ،اپنے خالق کے دربار کی طرف اٹھ رہے تھے۔ آج خانہ کعبہ سے ایسا لپٹوں گی کہ اپنی بیٹی کی تمام خوشیاں لئے بنا نہیں جاؤں گی۔
اک عجب کھیل شروع ہو چکا تھا۔ادھر ماں نے سجدے میں سر رکھا ہوگا۔ادھر درندہ جھپٹا ہوگا۔ادھر ماں نے گڑ گڑاتے بیٹی کی خوشیاں مانگی ہوں گی۔ادھر بیٹی نے چیخ وپکار کی ہوگی،مجھے مت مارو،مجھے اماں سے ملنا ہے،نجانے کیا کچھ کہا ہوگا۔ادھرماں نے التجائیں کر کے بیٹی کے اچھے نصیب مانگے ہوں گے۔ادھر بیٹی نے آخری ہچکی لی ہوگی۔کس کو کیا خبر سب الٹ ہو رہا ہے۔بیٹی کی ہچکیاںاورماں کی آنکھ سے ٹپکتے آنسو جب ایک ساتھ عرش پر گرے ہوںگے،تو چوکھٹ کانپ اٹھی ہو گی۔کیوں نہ کانپتی۔ آج پھر ایک کربلا کا میدان سجا ہے۔وہاں بھی ماؤں نے سجدے کئے۔یہاں بھی ماں سجدے میں تھی۔وہاں بھی زینب پر خون آشام گزری۔یہاں بھی زینب پر درندگی نے وار کیا۔
بلھے شاہ کی دھرتی کے باسیوں نے حضرت کے پیغام کو غلط رنگ دیا۔
بلھیا اساں مرنا ناہی،،،، گور پیا کوئی ہور،،، (بلھیا ہم نے مرنا نہیں، قبر میں جو گیا وہ تو کوئی اور ہے) یہاں کے باسی شائد مرنا بھول گئے ہیں۔کیا حکمران اور کیا عوام، سب کا ایک سا چلن ۔چند ایک کو چھوڑ کر۔مجھے قصور سے آئی نور جہاں کی قبر پر جانا ہے۔جس نے ’اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘ (یہ باغیرت بیٹے دکانوں پر نہیں ملتے) گایا تھا۔ تاکہ اسے بتا سکوںکہ اب حالات بدل گئے ہیں۔اب یہاں کی مائیں پتر نہیں درندے پیدا کرتی ہیں۔
یہ تمام باتیں میری آنکھوں کے سامنے ہیں تو کئی سوالات ابھرتے ہیں۔ آخر اس جہاں کا مالک خاموش کیوں ہے؟ کن فیکون کی آواز نہیں آئی۔ فرشتے گردوں سے اترتے دکھائی نہیں دئیے۔زمیں دھنسی نہیں۔عرش کا دروازہ کیوں نہیں کھلتا۔شائد ہم اسی کے حق دار ہیں۔مجھے انجانے سے اک آواز آئی۔جو ہجوم بریانی کی ایک پلیٹ پر ایسے حکمران منتخب کرے۔جو عوام کے تحفظ کے لئے ایسے پولیس افسر چنتے ہیں جو عوام کی کم اور حکمرانوں کی حفاظت زیادہ کرتے ہیں۔ان محافظوںکے دس دس بیس بیس کنال کے سرکاری گھر کس کام کے؟اور ان گھروں کی چاردیواری بھی اتنی اونچی کہ کسی فریادی کی آواز سنائی نہ دے۔پھر یہی امرا عوام کے پیسوں سے عیاشی کریں۔جب لکھاری کا قلم بکے۔اور وہ غریب کی آواز نہ بنے۔جب برتری کی دوڑ میں برقی ابلاغ معاشرتی مسائل کو پس پشت ڈال دیں۔جب ملک میں امیر اورغریب کے لئے انصاف کے دو مختلف پیمانے ہوں۔جب مسجد کے منبر سے اصلاح کی بجائے گالم گلوچ ہو۔تو پھر یہ ہجوم اپنی باری کا انتظار کرے۔ انتظار کرے اس وقت کاجب یہیں سے کوئی درندہ اٹھے گا،اور پھر ان کے اپنے گھروں سے کوئی زینب،اقرا ، مریم یا اسماء قربان ہو گی ۔
کیا اب بھی ہمارے حکمران ہوش کے ناخن نہیں لیں گے ۔ اگر لاشعور عوام نے انہیں منتخب کر ہی لیا ہے تو بات کو اس نہج تک نہ پہنچائیں کہ واپسی کا راستہ ہی نا رہے۔انہیں مظلوم گھرانوں میں جا کر تصاویر بنانے کی حکمت سے نکلنا ہو گا اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ قصور میں اس طرح کے واقعات پہلی بار نہیں ہوئے۔اگر تین سال قبل زیادتی کیس کے مجرموں کو نشانِ عبرت بنایا ہوتا ۔تو آج یہ ننھی کلیاں یوں نہ مرجھاتیں۔ لیکن افسوس بادشاہ سلامت کو اپنے سیاسی رفقا عزیز ٹھہرے۔سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے انہیں چھوڑا گیا۔ ہماری سیاسی پولیس کا رویہ اور طریقہ کار سب پر عیاں ہو چکا ۔اب عوام اگرہر مسئلے پر فوج کو پکارتی ہے تو حکمرانوں کی چیخیں کیوں نکلتی ہیں۔
ان حکمرانوں کے لئے گرم کمروں میں بیٹھ کر سماجی ابلاغ پر پیغام دینا آسان ہے۔ لیکن عملی اقدام کرنا مشکل۔ اگر یہی روایت برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب جاتی عمرہ اور بلاول ہاؤس کی دیواریں نیچی ہو جائیں گی۔ کیونکہ جب گرد آلود ہوائیں چلتی ہیں توہر آنکھ میں دھول پڑتی ہے۔لہٰذا ملک ریاض سے کہئے کہ بلاول ہاؤس اور جاتی عمرہ کی دیواریں آسمان سے اوپر کر دے۔تا کہ حکمران غریبوں کی آہ و بکاسے بچ سکیں۔ مگر یاد رکھیے دیواریں جتنی بھی اونچی ہو جائیں،حکمرانوں کو حساب دینا ہو گا۔یہاں یا روزِ قیامت۔

تبصرے