Urdu News and Media Website

ڈرٹی پالیٹکس اور مولانا ابوالکلام آزاد کی 30 سیکنڈ تقریر

تحریر:امجدعثمانی۔۔۔

ضیا شاہد

ڈرٹی پالیٹکس اور مولانا ابو الکلام آزاد کی 30 سیکنڈ تقریر

روایات اور اخلاقیات کا زمانہ گیا….. ہمارے ہاں ڈرٹی پآلیٹکس کا چلن ہے……کوئی جتنا بڑا بد عہد….بد دیانت اور بد زبان ہے اتنا بڑا لیڈر ہے…..لوگ اخلاقی طور پر مرتے جا رہے اور زندہ لاشیں بڑھتی جا رہی ہیں…..کبھی سیاست نظریے اور اصول سے عبارت تھی…….مولانا ابو الکلام ایک مرتبہ ٹرین پر کسی علاقہ کے سفر میں تھے تو لوگوں نے تقریر کی فرمائش کر دی. امام الہند نے فرمایا کہ آپکے سٹیشن پر ٹرین دومنٹ رکے گی، آپ کانفرنس کا اہتمام کر لیں. میں اتنی دیر میں جو ممکن ہوا کہہ دوں گا.عوام کا جم غفیر جمع ہو گیا کہ سنیں اتنے مختصر وقت میں کلام کا باپ کیا کہے گا ۔گاڑی رکی، مولانا تیز قدموں سے چلتے ہوئے باہر جلسہ گاہ تک پہنچے. قرآن پاک کی آیت ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تلاوت فرمائی اور تیس سیکنڈ گفتگو میں فرمایا:خوب سوچ سمجھ کر، چھان پھٹک کر، غور وفکر کرکے ایک موقف اختیار کرو پھر اس پر ڈٹ جاؤ، یہی میری تقریر ہے…..
اب لوگ سیاست کے نام پر صبح کوئی تو شام کو کوئی بات کرتے…..بد عہدی …..بد دیانتی اور بد زبانی کو سیاست کہا جاتا اور ان رذائل میں لتھڑے لوگ سیاستدان کہلاتے ہیں…..شہرت کے بھوکے عزت کو ترستے بے چارے لوگ……بہرکیف کچھ بھی ہو جائے نظریہ کبھی نہیں مرتا…..کردار سلامت رہتا ہے….

تبصرے