Urdu News and Media Website

گرم چادر

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔۔

PROF ABDULLAH BHATTI

دسمبر کا مہینہ اتوار کا دن میں پورے ہفتے کے ایسے کام جو دفتری اوقات کی وجہ سے نہ کر سکا آج وہ سب کر نے کے موڈ میں تھا کہ آج کا دن صرف اور صرف ذاتی گھریلو کاموں پر صرف ہو گا لیکن پھر ایسا کام آن پڑا کہ گھر کے کام کسی دوسرے دن پر چھوڑ دئیے مجھے اچانک مقدس حیات بیٹی کا فون آیا کہ انکل رخسانہ حیات مرحومہ کی بیٹی ہوں وہ چند ماہ پہلے اللہ کو پیاری ہو گئیں اب ان کے کام میں نے اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے ہیں کمزور ناسمجھ ہوں کیا آپ میری اماں کی طرح میری راہنمائی کریں گے تاکہ میری ماں کی روح قبر میں سکون سے سو سکے مقدس بیٹی کی کام سے مجھے مشک میز کستوری میں بیٹی رخسانہ باجی یاد آگئیں جو ظاہری باطنی طور پر اندر تک نیک تھیں جن کو دیکھ کرمل کر میں ہمیشہ رشک کیا کر تا تھا کہ امریکہ جیسے بانجھ مادیت پرستی طلسم ہو شربا میں لپٹی تہذیب معاشرے میں فرشتوں جیسی رخسانہ باجی بھی ہے وہ جب بھی ملتی مجھے حیران کر دیتیں خدمت خلق انسانیت نوازی کے حقیقی معنوں میں علم بردار میں ان سے جب بھی ملتا تو حسرت سے کہتا کا ش رخسانہ باجی جیسا دل کردار اللہ مجھے بھی عطا کر ے انہوں نے جب سے میری کتابیں پڑھی تھیں مجھ سے بہت متاثر تھیں وہ جب بھی ملتیں وہ میری تعریفیں کرتیں میں ان کی تعریف کرتا رخسانہ باجی سے میری پہلی ملاقات چند سال پہلے ہوئی جب وہ امریکہ سے پاکستان آئیں تو مجھے فون کیا اور کہا سر میں امریکہ سے آپ کو بہت کال کرتی رہی ہوں لیکن بد قسمتی سے میری آپ سے بات نہیں ہو سکی اِس بار پھر میں خاص طور پر آپ سے ملنے پاکستان آئی ہوں اصل آخری بار جب پاکستان آئی تھی تو واپسی پر ائر پورٹ پر بُک شاپ پر آپ کی کتاب ملی دوکاندار نے بہت تعریف کی تو میں نے خرید لی کیونکہ میں نے دوکاندار سے کہا تھا مجھے روحانیت بزرگوں کی کوئی کتاب دو اُس نے مجھے آ پ کی کتاب ’’اسرارروحانیت ‘‘ دے دی میں امریکہ کے طویل سفر پر روانہ تھی طویل سفر پر اور تو کوئی کام نہ تھا آپ کی کتاب میں تنہائی اور سفر کی ساتھی بن گئی کتاب کا ہر ورق میری حیرتوں میں اضافہ کر تا گیا جو کھوج تلاش آپ کے اندر تھی یہی میرے اندر تھی مجھے لگا یہ تلاش حق کا یہ سفر آپ کا نہیں بلکہ میری زندگی کی داستان ہے پھر وہ دیر تک کتاب کی تعریف کرتی رہیں کیونکہ باجی رخسانہ روحانیت عشق الہی تصوف پر بات کر رہی تھیں جو میرا بھی پسندیدہ کام ہے لہذا چند منٹوں کی کال ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آئی میں نے باجی کو اپنا ایڈریس بتا یاتو وہ مقررہ وقت پر میرے سامنے موجود تھیں سفید بڑی چادر میں ساٹھ سال سے اوپر کی باجی رخسانہ با وقار انداز میں میرے سامنے تھیں مجھے کہنے لگی آپ عمر میں مُجھ سے چھوٹے ہیں لیکن میں اگر آپ اجازت دیں تو آپ کو باباجی کہنا پسند کر وں گی کیونکہ میرے باباجی اِس دنیا سے جا چکے ہیں میری زندگی میں بہت کمی ان کی اِس لیے اب میں وہی رشتہ آپ کے ساتھ قائم کر نا چاہتی ہوں میں نے خوش دلی سے باجی کو اجازت دی کہ اگر آپ مجھے باباجی کہیں گی تو مجھے بہت زیادہ خوشی ہو گی باتوں کے دوران میرے پوچھنے پر بتایا کہ کس طرح وہ روحانیت فقیری کی طرف راغب ہوئیں کہ میں پانچ سال کی تھی جب میرے والد صاحب ہارٹ اٹیک سے ہمیں لاوارث دنیا میں چھوڑ کر چلے گئے میں والدین کی اکلوتی اولاد اور لڑکی تھی والد صاحب کے خاندان والوں نے بوجھ سمجھ کر مجھے اور میری ماں کو والدہ کے گھر میں بھیج دیا میری نانی اور ماموں جان امیر دولت مند نہیں تھے پر ائمری سکول میں ٹیچر تھے اُن کے پانچ بچے تھے گزارا بڑی مشکل سے ہو تا تھا میری ماں پڑھی لکھی نہیں تھیں اِس لیے نوکری نہیں کر سکتی تھیں نہ ہی گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا سکتی تھیں صرف تھوڑی بہت سلائی کا کام جانتی تھیں کانوں میں موجود آخری بالیاں بیچ کر سلائی مشین خرید کر اب تھوڑی بہت سلائی کا کام شروع کیا جس سے بہت تھوڑا خرچہ آنا شروع ہوا غربت ماموں اور ہمارے گھر کے چپے چپے پر قابض تھی عیاشی زندگی کی آسائشیں ہم سے کوسوں دور تھیں کیونکہ امی جان بہت اچھی کاریگر نہیں تھیں سادہ سے کپڑے سی لیتیں جن کے پیسے بھی بہت کم ملتے بھوک افلاس کی چکی تھی اور ہم ماں بیٹی جو زندگی کے دن گزار رہی تھیں جب بھی سردیاں آئیں ہم ماں بیٹی کے پاس گرم کپڑے چادریں نہیں ہوتی تھیں لہذا سردی میں کس طرح ٹھٹھر کر ہم موسم سرما کو گزار تیں یہ ہم ہی جانتی ہیں رات کو جس رضائی میں ہم ماں بیٹی سوتیں اُس میں جگہ جگہ روئی نہیں تھی جس کی وجہ سے بہت سردی لگتی بیوہ ماں اور میں خودداری کی چادر میں ٹھٹھر رہی تھیں ماموں جان ہمارے ساتھ ظالمانہ رویہ نہیں رکھتے تھے لیکن کیونکہ ان کے وسائل ہی نہ ہونے کے برابر اور پھر ہمیں کھانا دیتے تھے اِس لیے ہم اُن سے زیادہ تقاضہ بھی نہیں کرتی تھیں زندگی سوئی پر لٹکے گزار رہی تھی پھر میری زندگی میں وہ واقعہ رونما ہو ا جب میں روحانیت درویشی سے واقف ہوئی میرے ماموں جان ایک بزرگ کے ساتھ منسلک تھے وہ مرشد سال میں ایک بار جب ہمارے علاقے کا دورہ کرتے تو ایک دن ماموں جان کی طرف بھی آتے اور رات بھی گزارتے اِس بار جب وہ سفید داڑھی والے نورانی بزرگ آئے تو ماموں جان ان کو چھوٹا سا گھر دکھاتے ہمارے چھوٹے سے کمرے میں بھی لے آئے سردیوں کا موسم تھا ہمارے کمرے میں صرف ایک چارپائی اور سلائی مشین تھی باقی سارا کمرہ غربت کا منہ بولتا اشتہار تھا آنے والے بزرگ نیک رحم دل تھے آکر ماں کے سر پر ہاتھ پھیرا مجھے پیار کیا تو ماموں نے بتایا یہ میری یتیم بھانجی اور بہن ہے کمرے کی شکستہ حالت اور شدید سردی میں ہمارے ململ کے کپڑے اور دوپٹے دیکھ کر بزرگ سب سمجھ گئے تھوڑی دیر کھڑے دیکھتے رہے پھر نم آنکھوں سے چلے گئے بزرگ رات کو ہمارے گھر ٹہرے ان کی عادت تھی وہ جہاںبھی جاتے اپنا نرم و گداز گرم بستر ساتھ لے کر جاتے اگلے دن جاتے وقت وہ پھر ہمارے کمرے میں آئے میری ماں کے سر پر ہاتھ رکھا کچھ پیسے دئیے اور کہا میرا بستر آپ دونوں کی چارپائی پر ہو گا جس میں تم دونوں ماں بیٹی آج کے بعد سو ئو گی ساتھ ہی گرم چادر اپنے کندھوں سے اتار کر میری ماں کے کندھوں پر ڈال دی اور بآواز بلند کہا آج سے یہ دونوں میری بیٹیاں ہیں پھر مجھے بہت پیار کر کے بزرگ چلے گئے یہ پہلا محبت پیار تھا جو مجھے ملا وہ رات مجھے آج بھی یاد ہے جب ہم دونوں ماں بیٹی آرام سے گرم بستر میں سوئیں اب میں بڑی ہو رہی تھی اگر کبھی بازار یا سکول جاتی تو سردی سے بچائو کے لیے وہ گرم چادر ساتھ لے جاتی میری کل کائنات یہ گرم چادر تھی جو ماں لے کر مجھے اپنی نرم گرم آغوش لے لیتی زندگی چلتی رہی اِس بھوک چھائوں میں جوان ہو ئی تو باباجی نے میری شادی امریکہ سے آئے اپنے مرید سے کردی جو باباجی کا روحانی بیٹا اور امریکہ میں ڈاکٹر تھا میرے خاوند کے والدین وفات پا چکے تھے میری ماں کو اپنی ماں بنایا ہم دونوں کو امریکہ لے آیا خاوند مشہور خوب کمانے والا ڈاکٹر تھا جنت نما زندگی پر آسائشیں میری منتظر تھی میرے مرشد باباجی نے ہم دونوں ماں بیٹی کو دوزخ سے نکال کر جنت جیسی زندگی دے دی اِس طرح میں بزرگوں سے واقف ہوئی چند سال پہلے میرے مرشد انتقال کر گئے تو مجھے مرشد کی تلاش تھی تو آپ کے پاس آگئی بہت ساری باتیں کر کے رخسانہ حیات چلی گئیں وہ جب بھی پاکستان آتیں مجھے سے ملنے آتیں ان کی محبوب سخاوت گرم چادریں تھیں جو وہ ہر موسم سرما میں آکر ضرورت مندوں میں تقسیم کرتیں اِس کے علاوہ بھی بہت ساری یتیم مسکین خاندانوں کے وظیفے باندھ رکھے تھے پچھلے سال مجھے اطلاع ملی کہ رخسانہ باجی اب اِس دنیا میں نہیں ہے تو بہت دکھ ہوا آج اُس کی بیٹی نے فون کیا کہ آپ سے ملنا چاہتی ہوں تو میں نے فوری گھر بلا لیا تھوڑی دیر میں ہی مقدس حیات آگئی اور بولی میری ماں چلی گئی لیکن مجھے وصیت کر گئی ہیں کہ ان کی سخاوت کو جاری رکھوں پھر مجھے وہ اپنی کار کے پاس لے گئی جو گرم چادروں سے بھری ہوئی تھی میری آنکھیں نم ہو گئیں اور پھر بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا دعا دی ضرورت مند کی لسٹ دی اور وہ چلی گئی مجھے رخسانہ باجی کی درویش کی دی ہوئی گرم چادر یاد آگئی جس نے باجی کی زندگی بد ل دی ۔

تبصرے