Urdu News and Media Website

خواتین کی جدوجہد پر نقب زنی

تحریر : آئمہ محمود۔۔۔۔اس کائنات میں اگر کوئی چیز حتمی ہے تو وہ ہے تغیر اور ارتقا کا عمل جو انفرادی اور اجتماعی طو ر پر مسلسل جاری ہے۔ انسانی تہذیب قبائلی Huntingٹائم کے بعد زرعی وصنعتی ادوار سے گذر کر آج ٹیکنالوجی اور communication کی ترقی کے منفی اور مثبت ثمرات کے زیر اثر مستقبل کی طرف گامزن ہے تاہم بعض اوقات حالات و واقعات آپکو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا یہ سب آگے بڑھنے کی علامتیں ہیں یا ہم دائروں میں حرکت پذیر ہیں ؟کئی مثالیں اس بات کو سمجھنے کے لیے دی جا سکتی ہیں لیکن 8مارچ کو ہم خواتین کا عالمی دن مناتے ہیں توکیوں نہ عورتوں کی تحریک کو ہی مثال کے طور پر رکھا جائے۔ ماڈرن ہیسٹری کے مطابق اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب پہلی بار خواتین نے اپنے لیے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا بتدریج اس میں تعلیم ، ملازمت ، یکساں مواقعوںکی دستیابی، تشدد کا مکمل خاتمہ ، جائیداد کا حق، قانون ساز اداروں میں شمولیت، انتظامی امور میں شراکت اور فیصلہ سازی ،برتھ کنٹرول جیسے مطالبات شامل ہوتے گئے۔ انتھک آزمائشوں اور کٹھن حالات سے گذر کو دنیا کے بڑے حصے میں خواتین کا فی حد تک قانونی طور پر ان rightsکی حق دار ہیں اس

جد وجہدکے ابتدائی ادوار میں خواتین نے سب سے پہلے جس چیز پر غلبہ پایا وہ اپنے اندر کی لاچارگی اور بے بسی کی سوچ کا خاتمہ کرنا تھا ۔ طاقت وروں کی طاقت سے مرعوب اور خوف زدہ ہوئے بنا آزمائشوں اور تکالیف کے سامنے ڈٹ جانا ، اس کے ساتھ ہی ان کا اصرار اس بات پر تھا کہ وہ با اختیار لوگ جن کے پاس فیصلہ کرنے کی طاقت تھی وہ انھیں محض ایک جسم یا ایک عورت ہی نہ سمجھیں۔ وہ عورت ہیں لیکن یہ نہ تو انکی کمزوری ہے اور نہ انھیں کسی طور پر مردوں سے کمتر کر تی ہے لحاظ وہ ان تمام مراعات کی حقدار ہیں جو مردوںکو حا صل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اجتماعی طور پر ان تمام نظریات سے انحراف کرنا شروع کر دیا جو انھیں انسان ہونے کا درجہ دینے کی راہ میں حائل تھے۔ان کے بالوں کی لمبائی ، لباس کی تراش خراش، بات چیت اور چلنے پھرنے کے انداز و اطوارکے بارے میں طے شدہ رائج خیالات اور پریکیٹیس کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ۔ انھوں نے بال کٹوائے کیو نکہ بالوں کی لمبائی سے عورت کی خوبصورتی یا بدصورتی کو ناپا جاتا تھا ایسے لباس پہننے سے انکار کر دیا جو انکی movementکو محدود کرتے تھے یا جسم کی ساخت کو نمایاں کرنے کا موجب بنتے تھے۔ حرکات و سکنات ،بات چیت کے انداز جو خواتین کو سکھائے جاتے تھے ان کو رد کر دیا۔ انھوں نے بھرپور کو شیشیں کیں کہ خواتین کی شناخت محض ایک جسم جو بچہ پیدا کر سکتا سے آگے بڑھ کر ایک مکمل انسان کی بنے جو عقل و دانش ، جرات، بہادری اور معاملہ فہمی میں مرد سے کسی طرح کم نہیں۔ رائج الوقت معاشی ، معاشرتی اور سماجی تصورات اور رواجوں کی تبدیلی خوتین کی جدو جہد کا ایک انتہائی اہم عنصر رہی ہے اور دیگر حقوق کے حصول کیساتھ خواتین نے اس fieldمیں بھی قابل ذکر کا میابی حاصل کی۔
لیکن وہ ہوتا ہے نہ کہ جب کسی تحریک یاstruggleکی جڑیں گہری ہونے لگیں اور استحصالی قوتوں کے پیروں کے نیچے سے زمیں سرکنے لگے تو اپنے بچاو کیلئے وہ بھیڑے کو بھیڑ کی کھا ل پہنا کر اس تحریک میں شامل کر دیتے ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے ڈاکو کسی بینک یا گھر میں سامنے سے داخل نہ ہو ں بلکہ دیوار میں نقب لگا کر یا زیر زمین tunelکھود کر عمارت کے اند رداخل ہو جائیں۔
مگر وہ قوتیں جن کا لالچ حرص لامحدود ہو وہ خیالات و نظریات میں ساند لگاتے ہیں جیسے سوشلزم کے خاتمے میں جہاں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ تھا وہیں بنیادی بربادی کا موجب وہ تھے جو بظاہر سو شلزم کے پیروکار ہو نے کے دعوی دار تھے۔ایسے عناصر با لکل وہی کام کرتے ہیں جو دیمک لکڑی کیساتھ کرتی ہے یعنی اندر ہی اندر کھوکھلا کر کے نیست و نابود کر دیتی ہے ۔خوا تین کی حقو ق کے حصول کی جد و جہد جو تمام انسانوں میں برابری ، مساوات اور یکساں مواقع کی فراہمی سے شروع ہوئی اور تکنیکی طور پر ان تمام مطالبات کے حصول میں کامیاب رہی۔لیکن
اس تحریک نے 2017میںturn around لیا جب مغربی معاشرئے کی با اختیار ، دولت مند اور دنیاوی لحاظ سے کامیاب و کامران خواتین نے اپنی لا چاری ، بے بسی اور مظلومیت کی داستانیں اپنے آرام دہ اور مہنگے ترین گھروں میں بیٹھ کر سنانی شروع کیں۔ یہ ذہنیت Me too جیسی مضحکہ خیز لہر بن کر ساری دنیا پر چھا گئی جس میں دنیا بھر کی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں نے اپنے اوپر ہونے والی زیادیتوں کو shareکیا لیکن انھیں نہ تو وہ تشہیر ملی اور نہ ہی انکی تلافی ہوئی ۔ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی Me too نے خواتین کے اندر بے بسی ، لا چاری اور بچارگی کی ایسی نفسیات کو buildکرنا شروع کر دیا جو انسان کی ہمت ، ذہانت اور جرات کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔ یہ کو ئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ عورتوں کو جنسی استحصال سے بچانے والی اس مہم کے پیچھے Money، وسائل اور اختیارات پر قبضے جیسےs Factor تھے تب سے آج 2022میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم ، تشدد، تفریق، ناانصافی کے خاتمے کیلئے خصوصا تیسری دنیا مثلا پاکستان جیسے ملکوں میں اب یہ جدو جہد ــ ,,میرا جسم میری مرضی،، جیسے superficial نعرے کے گرد گھوم رہی ہے ۔
فرائض و حقوق میں مرد و عورت کی برابر ی کی تحریک آج بے معنی بلکہ ہتک آمیز ہوائی جملوں تک محدود ہو گئی ہے۔آج پاکستان میں محنت کش مزدور، کسان ، اساتذہ ، گھریلو ملازمین ، دکانوں، سرکاری ونجی دفاتر میں کام کرنے والی خواتین،ہیلتھ ورکرز کو درپیش مسائل کے خاتمے کا کہیں کو ئی ذکر نہیں ۔ملازمت کا تحفظ، یکساں کام کی یکساں اجرت، چائلڈ کئیر کی سہولت، میٹرنٹی لیو بمعہ تنخواہ ، امتیازی قوانین ،جنسی اور ذہنی ہراسگی اور تشدد کا مکمل خاتمہ، جائیداد میں بیٹیوں کے حصے کی ادائیگی کے قوانین میں بہتری اور ان کے عملی اطلاق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کوبا لکل دبا دیا گیا ہے ۔اس قسم کی سطحی جملہ بازی کا نتیجہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم خواتین کے خلاف جرائم کی ذمہ داری ان کے لباس پر تھوپ دیتا ہے۔جب اپنے rightsکی بات کرنے والے ہی اپنی شخصیت ختم کر کے جسم ہونے پر اصرار کریں گے تو authoritiesبھی ان کو اسی نظر سے دیکھیں گی۔یہ ایک بہت ہی خطر ناک رویہ ہے جس کے نتائج کبھی بھی خواتین کی فلاح وبہبود کی صورت میں نہیں نکل سکتے ۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ Like,share, subscribeکی ذہنیت سے صنفی برابری ،امتیازات کا خاتمہ اور عدل پر مبنی معاشرے کا وجود ممکن نہیں۔

 

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے