Urdu News and Media Website

انا کی آکاس بیل

تحریر:ثناء آغاخان۔۔۔ہمارے ہاں ہر طرف بگاڑاوراکھاڑ پچھاڑ کادور دورہ ہے ، کسی بھی ادارے کاجائزہ لیا جائے یا کسی نظام پر نگاہ ڈا لی جائے،ہر طرف ابتری اور تنزلی کاماحول ہے ۔ معاشرتی بگاڑ کی وجہ کو شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے اپنے انداز سے روشنی ڈالی ہے،”خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام”۔حضرت اقبالؒ نے تو یہ مصرعہ غلامی میں جکڑے مسلمانوں کیلئے کہا تھا لیکن یہ آج کے آزاد مسلمانوں پر بھی بالکل صادق آتا ہے۔ کیونکہ ہماری خودی قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ ہماری ‘میں’نے ہمیں تباہ کردیا جس کو اقبالؒ نے خودی کہا، انا کے بھنور میں اس قدر پھنس چکی ہے کہ درست اور غلط کے درمیان فرق مٹ گیا ہے۔ اس ” میں” نے ہمیشہ ہمیں ٹھیک اور دوسروں کو غلط قراردیا ہے۔یہ میں کہتی ہے کہ سب کچھ میرے پاس ہونا چاہئے چاہے اس کیلئے حد سے تجاوزکیوں نہ کرنا پڑے۔یہ میں کہتی ہے کہ اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے دوسروں کے آرام و سکون تک غارت کردو۔ یہ میں کہتی ہے کہ مجھے ہر میدان میں سب سے آگے ہونا ہے چاہے اس کیلئے دوسرے کو روند کے کیوں نہ جانا پڑے۔
یہ بات سمجھانے کیلئے ایک مثال پیش خدمت ہے۔ سوچیں! صبح دفتر کیلئے دیر ہو رہی ہے، آپ جلدی سے تیار ہو کر نکلتے ہیں۔ وقت پر پہنچنے کی کوشش میں آپ ٹریفک سگنل کو توڑتے ہوئے انتہائی تیزی سے منزل کی جانب رواں دواں ہیں کہ اچانک ایک غلط موڑ مڑتے ہوئے آپ کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے بس یہیں سے انا کا اصل کام شروع ہوتا ہے۔ آپ غصے میں گاڑی سے نکلتے ہیں۔آپ غلطی پر ہیںلیکن آپ اپنی غلطی کو نظرانداز کرتے ہوئے الٹا طوفان بدتمیزی برپا کر دیتے ہیں اور بات تلخی سے ہوتے ہوئے تصادم تک پہنچ جاتی ہے۔ آپ کی ‘انا’ آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے رہی کہ آپ اپنی غلطی مان کر معذرت کریں۔ ہمارا یہی المیہ ہے کہ ہمیں اپنی غلطی ماننا اور پھر مقابل سے معذرت کرنا دشوار لگتا ہے۔ اس کے برعکس اپنی غلطی کو مختلف توجیہات دے کر ملبہ دوسروں پر ڈالنا نہایت آسان محسوس ہوتا ہے۔ اسی رویے نے ہمارے اندر قوت برداشت بالکل ختم کر دی ہے۔ ہم سے چاہے جتنی بڑی غلطی سرزد ہو جائے ہم اول تو مانیں گے نہیں لیکن اگر اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو معافی مانگنے کی بجائے دوسرے کو بھی ساتھ مورد الزام ٹھہرا تے ہیں۔ لیکن کیا ہمارے اکابرین کا بھی یہی رویہ رہا ہے؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ نے بھی اسی روش کا درس دیا ۔سوچ کے دائرے کو تھوڑا اور وسیع کیجئے اور سوچیں! کیا کوئی ایسا ہے جس نے آپ کے ساتھ کبھی کچھ برا کیا ہو۔ لازمی ہو گا، اگر کبھی وہ آپ کے سامنے آ جائے اور آپ کے پاس پورا اختیار اور طاقت ہوا سے انتقام کانشانہ بنانے کا تو آپ کیا کریں گے؟وہ آپ سے اظہار ندامت کر رہا ہے تو کیا آپ اسے معاف کریں گے؟ ہم میں سے بہت کم ایسے لوگ ہیں جو معاف کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ بلکہ ہمارا حال تو یہ ہو چکا ہے کہ ہم نے معافی کو بزدلی کا نام دے دیا ہے۔ معاف کرنا تو صفت الٰہی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” (مظلوم ہونے کی صورت میں اگرچہ تم کو بدگوئی کا حق ہے )لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی اختیار کئے جاؤ ہا کم از کم برائی سے درگزر کرو تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے (سورۃ النساء ) "۔ اللہ تعا لیٰ نے اس ایک آیت میں ہمیں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بتا دیا لیکن! ہم کیا کر رہے ہیں؟ فتح مکہ کی مثال تو ہم سب کے سامنے ہے۔اس کے لیے تو کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔ کیسے کیسے لوگ اس دن معاف کئے گئے۔ کیا اس دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنا بدلہ لینے پر قادر نہیں تھے؟ کیا اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کو اسلئے معاف کیا کیونکہ وہ نعوذ باللہ بزدل تھے؟ نہیں! ان ستم گروں کو پورے طاقت اور اختیار کے باوجود معاف کیا گیا. تو ہم جو ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں کیوں نہیں معاف کرتے۔ ہر وقت بدلہ اور انتقام کی آگ میں جلتے موقع کی تاک میں کیوں رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ برائی کو بھلائی سے رفع کرنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن ہماری انا نے چھوٹی چھوٹی باتوں کو سبب بنا کے ہمیں اپنے پیاروں سے بھی اس قدر دور کر دیا ہے کہ ہم ان کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں۔ سوچیں! ہماری کتنی رنجشیں، تلخیاں اور ناراضگی صرف ہماری ایک پہل سے ختم ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہم ‘ آج کل تو بھلائی کا زمانہ ہی نہیں ‘کہہ کر خود کو ماورا سمجھ بیٹھتے ہیں۔
یہ توہماری انا کے بگاڑ کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔ مگر یہی چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ کوئی پھی پیدائشی مجرم نہیں ہوتا۔ یہ انا کے بھڑکتے شعلے ہی ہیں جو اسے سب جھلسا دینے پر ابھارتے ہیں۔ سوچیں!اگر ہم ایک دوسرے کی غلطیاںمعاف کرناشروع کردیں تو انتقام کی آگ میں جھلستے رویے دم توڑدیں گے۔اگر ہم اپنی غلطیاں ما ن لیا کریں تو بہت سی غلطیوں کے قدم تو ہم خود روک دیں گے کیونکہ تب ہمیں پتہ ہو گا کہ ہم اپنی غلطی کے جواب دہ ہیں۔ اور جب ہم اپنی غلطی کے جواب دہ ہونے لگ گئے تو رشوت، سفارش، غبن اور قتل جیسے گناہ خودبخود دم توڑنے لگیں گے۔لیکن ہم اپنی انا کے دھاگوں میں اس قدر الجھ کے رہ گئے ہیں کہ ہم صرف دوسروں کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔یہ انا ہمارے وجود میں اسقدر سرائیت کر چکی ہے کہ ہم اپنی اقدار، اپنی روایات سے انحراف کرتے جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی انا کو کچلنے کی ضرورت ہے۔ہمیں دوسروں کا احتساب کرنے کے بجائے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ہمیں سنجیدہ رویوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود سے آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی میں، اپنی خودی کو انا کے بھنور سے نکالناہوگا۔ یقین مانیں!جس دن ہم سب اپنی غلطی ماننا، معافی مانگنا اور معاف کرنا سیکھ لیا تو ہمارے بہت سے بگڑے کام سنورتے چلے جائیں گے۔ ورنہ جس بگاڑ کا شکار ہمارا یہ معاشرہ ہو چکا ہے انا کی یہ آکاس بیل اسے ختم کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔

 

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

تبصرے