Urdu News and Media Website

احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کیخلاف پٹیشن دائر

لاہور(نیوزنامہ)پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہٹ دھرمی بر قرار ، چیف انفارمیشن کمیشن کا آرڈر ہوا میں اڑا دیا ۔
اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے اور آئینی و قانون حکم نہ ماننے پر پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کو چیف انفارمیشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا تھا کہ معلومات لینا ہر شہری کا حق ہے۔ پٹیشنر کا آئینی حق ہے۔ اور دو ہفتوں کے اندر اس کے پاس دائر پٹیشن رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت درخواست گزار کو انفارمیشن دینے کے لے نوٹس جاری کیا تھا اور نہ دینے کی صورت میں قانون کے مطابق کاروئی کا کہا گیا تھا۔آئین اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کی خلاف ورزی کرنے پر چیئرپرسن پنجاب ہیلتھ کمیشن ، منسٹری آف ہیلتھ کے خلاف چیف انفارمیشن کمشن پنجاب میں پٹیشن دائر کر دی گئی۔ یہ پٹیشن رانا نعمان ایڈووکیٹ نے اپنے وکلاء محمد مد ثرچوہدری ، رحمان ناصر رانا اور سینئر ایڈووکیٹ سپریم کو رٹ کے زریعے دائر کی۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ان کے اختیارات سے تجاوز کرنے اور کچھ اور اہم مسئلہ پرلیگل نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے گیارہ سوالوں کا جواب 14دن میں مانگ گیاتھا جس کا جواب دینا ان کا قانونی اور آئینی طور پرپابند تھا جو کہ انہوں نے جواب نہ دے کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی ۔مذکورہ پٹیشن میں حسب ذیل سوالات اٹھائے گے تھے پنجاب ہیلتھ کمیشن ان تمام افراد کے نام ظاہر کرئے جن کو کسی بھی کلینک کو چیک کرنے کا اختیار ہے۔؟
پنجاب ہیلتھ کمیشن میں کن کن لوگوں کو شامل کیا گیا ہے کیا اس میں کسی ہومیو ڈاکٹر یا حکیم کو بھی نمائندگی دی گی؟
پنجاب ہیلتھ کمیشن کیسی بھی کلنیک کی چیکنگ کے دوران کتنے لوگ ہو تے ہیں ؟
کیا پنجاب ہیلتھ کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ اپنے اپ کیسی کلینک کا معائنہ کرئے؟ کیس قانون کے تحت؟
پنجاب ہیلتھ کمیشن نے کیا طریقہ اپنا یا ہے جھوٹی شہادت دینے ولوں کا؟
الٹراساوئڈ مشین کو استعما ل کون کر سکتا ہے اور کس قانون پر؟؟
کیا پنجاب ہیلتھ کمیشن اپنی پاور کا غلط استعال کر رہاہے جس پر بہت سی شکا یات مل رہی ہیں۔؟
پنجاب ہیلتھ کمیشن کے پاس کیا اختیار ہے کہ وہ اپنے آرڈر کو فائن جمع کروانے پر پابند کرئے؟
پنجاب ہیلتھ کمیشن کیا مجبور کر رہا ہے ہر ایک کو کہ وہ فائن جمع کروائے اور مجبور ان کے بیان حلفی لیا جا رہا ہے؟ کون سے قانون کے تحت؟

تفصیلات کے مطابق پنجاب ہیلتھ کمیشن جو کہ پنجاب حکومت کا ادارہ ہے جو کہ ہیلتھ میں اصلاحات کے عرض سے پنجاب حکومت نے بنایا تھا جبکہ کے اس سے قبل پنجاب میں ہیلتھ کے لئے دیگرمحکمہ جات پہلے سے موجود ہیں یہ ادارہ اپنے صوابدیدی و عدالتی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کمیشن کے آرڈرز کی کاپی جو کہ کلینکس،ہیلتھ مراکز مالکان کو دینا کمیشن کی ذمہ داری ہے دینے سے نہ صرف انکاری ہوتا ہے بلکہ ان کو زبانی کلامی طور پر جرمانہ وغیرہ کا کہہ کر جرمانہ جمع کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے جو کہ آئین پاکستان اور قانون کے منافی ہے ،پنجاب ہیلتھ کمیشن میں تمام میڈیکل فیلڈز کے افراد خود کو انرول کروانے کے پابند ہیں مگر پنجاب ہیلتھ کمیشن پنجاب کے دور دراز علاقوں کے ڈاکٹرز و غیرہ کو بھی اس قسم کی کاروائی کے لئے لاہور میں سمن کیا جاتا ہے جو کہ بنیادی حقوق کے منافی ہے ۔اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ انفارمیشن حاصل کرنا ہر شہری کا حق ہے جو انہوں نے نہ دی تو ان کے خلاف سخت قانونی کاروئی کی جائے۔
جواب نہ دینے کی وجہ سے آئین اور رایٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کی خلاف ورزی کرنے پر چیئرپرسن پنجاب ہیلتھ کمیشن ، منسٹری آف ہیلتھ، کے خلاف چیف انفارمیشن کمیشن پنجاب میں پٹیشن دائر کر دی گی

تبصرے