Urdu News and Media Website

سیمل راجہ کا بشارت راجہ سمیت خاندان کے 19 افراد کو 2 ارب ہرجانے کا نوٹس

لاہور(نیوزنامہ) سابق وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ کی اہلیہ و سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ نے محمد بشارت راجہ سمیت ان کے خاندان کے 19 افراد کواپنے وکلاء سابقہ کوآڑڈنیٹر پاکستان بار کونسل محمدمدثرچوہدری ایدووکیٹ، غلام مجتبے چوہدری،صدر ینگ لائرز فورم وسیم کھٹانہ و دیگر وکلاء کے زریعے 2 ارب ہرجانے کے نوٹس بھجوا دئیے: نوٹس محمد بشارت راجہ ان کے بھائیوں محمد ناصر راجہ،سابق تحصیل ناظم حامد نواز راجہ، بہنوں سردار بیگم ، مختار بیگم اور خاندان کے دیگر افراد چئیرمین یونین کونسل 86 معین سلطان راجہ، سعد سلطان راجہ،سابق یوسی ناظم شاہد اقبال راجہ،شجاع اقبال راجہ،جبران علی،احمد ناصر، تابندہ ناصر، سعدیہ سہیل، نادیہ شجاع، عابدہ بیگم و دیگر کو بھجوائے گئے۔ سیمل راجہ کے وکلاء کی طرف سے ہتک عزت کے آرڈیننس 2002 کے تحت بھجوائے گئے نوٹس میں دعوہ کیا گیا ہے کہ ان کی بشارت راجہ سے تین سال قبل شادی ہوئی جس کا ان کے خاندان کو بخوبی علم تھا وہ بشارت راجہ کی منکوحہ کی حیثیت سے ان کے خاندان میں پہچانی جاتی تھیں۔ بشارت راجہ اور خاندان نے ان کا روپیہ پیسہ، قیمتی طلائی زیورات اور گاڑی ہتھیا کر شادی سے انکاری ہوئے۔ جس سے ان کی عزت ا رو شہرت کو بے پناہ نقصان پہنچا ،جھوٹے اور بے بنیاد الزامات اور منفی پراپیگنڈا کر کے ان کی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور انہیں عوام اور خاندان کی نظروںمیں گرانے کی کوشش کی گئی لہذا 7 روز کے اندر معافی مانگیں ورنہ بشارت راجہ و دیگر کے خلاف 2 ارب ہرجانے کے لئے قانونی کاروائی کی جائے گی۔سیمل راجہ نے کہا ہے کہ گذشتہ برس طلاق یافتہ پری گل آغا اور اس کے کریمنل بیٹے بہروز کمال نے پیسے اور جائیداد کی ہوس میں اندھے ہو کر بشارت راجہ کے گھر میں ان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور ان کو جان سے مارنے کی کوشش کی

تبصرے