Urdu News and Media Website

ہندو پجاریوں کے لئے کروڑوں کا پیکج اور ہمارا دینی طبقہ

(تحریر : محمد عاصم حفیظ۔ )
بھارتی ریاست تلگانہ میں مندر سے منسلک مذہبی رسومات ادا کرنیوالے پجاریوں ، پنڈتوں اور دیگر افراد کی فلاح و بہبود کے لئے 100 کروڑ روپے مختص کئے ہیں ۔ اس رقم سے ریاست میں ان ہندو مذہبی شخصیات کے لئے مختلف فلاحی پراجیکٹس شروع کئے جا رہے ہیں ۔ ایک پروگرام ایسا بھی شروع کیا گیا جس کے تحت ہندو پجاریوں سے شادی کرنے والی خواتین کو تین، تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ریاست میں سرگرم تلنگانہ برہمن کلیان (کانفرنس ) تنظیم کا کہنا ہے کہ پجاریوں کی معاشی بدحالی کے سبب انھیں دلہن ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اسی لیے انھیں مالی امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔برہمن پریشد یعنی کونسل کے صدر کیوی رمنچاری کا کہنا ہے کہ ’جب تک پجاری موجود ہیں اس وقت تک مندر اور اس کا نظام جاری رہے گا اور اس فیصلے سے سب مستفید ہوں گے۔مہا برہمن سنگھم‘ کے سیکریٹری اودھانولا نرسمہا شرما کہتے ہیں کہ ’غریب برہمنوں کی مدد اور ان کی فلاح کے ساتھ (ہندو) تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اس قسم کے فیصلے ضروری ہیں۔ جی ہاں یہ سب ہورہا ہے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں جبکہ ہمارے ہاں مسجد ، مدارس اور دینی سرگرمیوں سے منسلک قراء کرام ، خطباء اور دیگر افراد کی فلاح و بہبود کا شائد ہی کبھی کسی نے سوچا ہو۔گزشتہ دنوں کامونکی کے ایک مدرسے سے چھ سال سے زائد عرصے تک صرف آٹھ ہزار تنخواہ پر خدمات سرانجام دینے والےایک قاری صاحب کواس بنا پر نکال دیا گیا کہ انہوں نے دو ہزار اضافے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جی ہاں حقیقت یہی ہے کہ اکثر مدارس و مساجد میں پڑھانے والے قراء کرام ، خطیب حضرات اور اساتذہ کرام کی تنخواہیں آٹھ دس ہزار کے قریب ہوتی ہیں۔ دراصل چند گدی نشین، نعت خواں اور انگلیوں پر گنے جانیوالے خطباء کی آمدن اور سیاسی علمائے کرام کے پاس دولت کی فراوانی کی بنیاد پریہ سمجھ لیا گیا ہے کہ مسجد و مدارس سے منسلک دینی شخصیات کے پاس شائد دولت کے انبار ہوتے ہیں ۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے ۔ مساجد کے امام حضرات ، خطباء اور مدارس کے اساتذہ کرام معاشرے کا پسا ہوا طبقہ ہیں ۔ امام حضرات اور قراء کرام دو سے تین ڈیوٹیاں کرکے اور نمازوں کے درمیانی اوقات میں کسی سکول یا گھر گھر ٹیوشن پڑھانے کے بعد بھی ایک مزدور کی تنخواہ کے برابر آمدن حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے ۔ میڈیکل ، بچوں کی تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا تو تصور بھی نہیں ہے۔معاشرے کے اس طبقے کو ہمارے ارباب حکومت اور دیگر فیصلہ سازوں کی جانب سے بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ دینی سرگرمیوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ کوئی کاروباری سرگرمی شروع نہیں کر پاتے ، یا ایسے کہہ لیں کہ مساجد و مدارس کے منتظمین کی جانب سےیہ پسند نہیں کیا جاتا جبکہ ان کی ضروریات پورا کرنے کی کسی کو بھی فکر نہیں ہوتی ۔ المیہ یہ ہے کہ یہ طبقہ مکمل طور پر مساجد و مدارس کا نظام چلانے والے کاروباری افراد کا مرہون بنا دیا جاتا ہے جن کی مرضی ہے کہ کچھ دیں یا نہ دیں ۔اگر کوئی صاحب ثروت ” ثواب دارین ” کے لئے تھوڑی سی بھی مالی مدد کر دے تو یہ بیچارے انتہائی ممنون و مشکور پائے جاتے ہیں ۔ اگر آج ہندو تنظیمیں برملا یہ اعلان کر رہی ہیں کہ مندر کی رونقیں اور نظام ان پجاریوں کا مرہون منت ہے اور ہندو تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لئے ان کی فلاح و بہود ضروری ہے تو جناب کیا ہمارے ارباب حکومت اور سماج کے اہم دماغوں کو کیا یہ سمجھ نہیں آتا کہ اگر دینی روایات کا تحفظ کرنا ہے اور معاشرے میں دین کی کوئی جھلک برقرار رکھنی ہے تو مسجد و مدارس سے جڑے افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنا ہوگا ورنہ شائد آہستہ آہستہ ہم بڑی بڑی پرشکوہ مساجد کی بے آبادی کے مسائل کا شکار ہو جائیں گے ۔جس طبقے کو معاشی خوشحالی نصیب نہیں ہوتی تو خاموشی سے ذہین اور باصلاحیت افراد اس سے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں دہشت گردی ، فرقہ واریت اور دیگر کئی مسائل کی وجہ بھی تو یہ ہے کہ دینی سرگرمیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے شرپسند گروہوں کو پھلنے پھولنے کا موقعہ دیاگیا ۔انہوں نے دینی پلیٹ فارم کو اپنے مزموم مقاصد کے لئے استعمال کیا ۔ اب بھی موقعہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے مربوط پالیسی بنائے ۔ کم سے کم صنعتی کارکنوں کی طرح سوشل سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کی مدد سے اس طبقے کو بھی صحت ، تعلیم اور رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں آئمہ مساجدا ور خطباء کو سرکاری تنخواہ کی ادائیگی ایک مثبت اقدام ہے ، ایسا پورے ملک میں ہونا چاہیے کہ حکومت سرکاری سرپرستی ، دینی جماعتوں یا دیگر کسی لائحہ عمل کے ذریعے معاشرے کے اس طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے اقدام کرے تاکہ انہیں بھی باعزت معیار زندگی میسر ہو اور ان کے ذریعے ملک دشمن ، فرقہ واریت پھیلانے والے اور دیگر گمراہ عناصر کے خاتمے کے لئے کوششیں کی جا سکیں ۔ اگر ہمیں اپنے معاشرے میں دینی روایات کو بچانا ہے ، ملک کی اسلامی شناخت اور تہذیب و ثقافت کا تحفظ کرنا ہے تو پھر ضرور دینی سرگرمیوں سے منسلک اس طبقے کی فلاح وبہبود کے لئے بھی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

تبصرے