Urdu News and Media Website

ہندوستان میں نو آبادیاتی اثرات

تحریر:عمیر علی عمیر۔۔۔

Umair Ali Umair
ہندوستان کی تاریخ میں نو آبادیاتی نظام کئی سطحوں پر ہمارے سامنے مثبت تبدیلیاں رونما کرتا ہے ۔انتظامی، معاشی ، معاشرتی اور سیاستی سطح پر ان تبدیلیوں سے ہندوستانیوں کو کس قسم کا فائدہ حاصل ہوا ۔

ہمارے ہاں اکثر لوگ نو آبادیاتی نظام کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ خاص نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہندوستانیوں کا استحصال کیا گیا ،ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے ، زمینیں چھین لی گئیں۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کون سے مسلمان تھے جن کی جائیدادیں چھِن گئی اور مال لوٹا گیا ؟ اور رہی استحصال کی بات تو استعماری دور سے پہلے اور استعماری دور میں مسلم اشرافیہ نے اپنے نچلے طبقے کا استحصال نہیں کیا ؟ اس بات کا جواب ہمیں ہاں میں نظر آتا ہے ۔ کیونکہ جس کے پاس جتنی طاقت تھی اُس نے اس طاقت کو استعمال کیا اور استحصال کیا ۔

انگریزی لغت آکسفورڈ میں نو آبادیاتی نظام /استعماریت سے مراد یہ ہے کہ جب مختلف آباد کار کسی نئی زمین کو آباد کریں اور اُن کا تعلق اپنی آبائی ریاست سے برقرار رہے اسے استعماریت کہا جا سکتا ہے ۔انگریزی کی لغت Longmanمیں Colonialismکو کسی محکوم قوم یا رقبے پر اقتدار قائم کرنا قرار دیا گیا ۔ اور اس کے دوسرے حصے میں محکوم استبدادی حکمرانی عملی طرفداری کو استعماریت میں شامل کیا گیا ۔استعماریت کی مختلف شکلیں ہیں Colonizerجب کسی خطے میں حکومت قائم کرتے ہیں وہ اپنی سکونت اُسی جگہ پر اختیار کرتے ہیں مثال کے طور پر مسلمانوں کا ہندوستان میں آنا کیونکہ مسلمان Colonizerتھے اور ان کا یہاں حکومت قائم کرنا اور رہائش اختیار کرنا اور اپنی ساری زندگی یہی بسر کرنا یہ استعماریت کی مختلف شکل ہے سوائے احمد شاہ ابدالی ،نادر شاہ ، محمود غزنوی کے ۔مسلمانوں نے ہندوستان کو اپنا وطن کیا انگریزوں نے فاصلے سے حکومت کی ، انگریز حکومت کا مرکز ہندوستان سے باہر تھا جبکہ مسلم حکومت کا مرکز اندر تھا ۔ انگریز یا مسلمانوں کی حکومت کو Colonialismقرار دے سکتے ہیں یا نہیں اس بات کا جواب ہمیں نو آبادیات کی روشنی میں ملتا ہے ۔
ایڈورڈ سعید نے نو آبادیات کو امپریلزم سے واضح کیا ہے ۔ Imperialismسے مراد دور دراز خطے پر حکمرانی کرنے والے کسی غائب میٹرو پولیٹن مرکز کا عمل نظریہ اور رویے ہیں ۔Colonialismتقریباً امپریلزم کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ دور دراز کے خطے پر آباد کاری کو تسلط کرنے کا نام ہے یہ بات ضروری نہیں ہے کہ جہاں امپریلزم ہو وہاں Colonialismبھی لازمی ہو۔ امپریلزم ایک امکان ہے حقیقت نہیں ۔

انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہندوستان میں مغربی تہذیب آئی ابتدائی دور میں انگریزوں کی حکومت مضبوط نہیں تھی لہٰذا انہوں نے مغلوں کے ساتھ مل کر معمولی تبدیلوں کے ساتھ حکومت کی لیکن جلد ہی انگریز حکومت ہندوستان پر قابض ہو گئی ۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے ہندوستان میں ہندو اور مسلمان معاشرے میں اپنی روایات پر سمجھوتا کر چکے تھے جس میں ذات پات کی تقسیم ، غیر مساوی اور تبقاتی نظام ، غیر مصنفانہ تقسیم اور مذہبی عقائد شامل ہیں ۔ بر صغیر میں جب انگریزی اقتدار قائم ہوا تو انہوں بے حس معاشرے کو بدل کر رکھ دیا ۔نئے نظریات اور خیالات نے ہندوستان کی تہذیب ،ثقافت اور مذہبی عقائد پر گہرا اثر ڈالا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پڑھے لکھے طبقے کو یہ خیال ہوا کہ ہم جہالت اور پسماندگی کا شکار ہیں اور ہم جدید چیلنجو ں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ان کی شناخت ، ان کی تہذیب ، مذہبی عقائد سب ختم ہو جائیں گے ۔

برصغیر میں اس بات کے رد عمل میں ہندوئوں نے سب سے پہلے مذہبی اصلاحی تحریکیں شروع کر دی اور ان روایات کو تبدیل کی جائے کہ جس نے معاشرے کو پسماند ہ بنایا ہے مثلاً عورت کا ستی ہو نا ،عورت کو سماجی طور پر نیچا رکھنا ، بیوہ کی شادی نہ کرنا وغیرہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب اسلام پر تنقید شروع ہوئی تو سر سید اور اُن کے روفقا نے اسلام کو جدید اور سائنسی مذہب کے طور پر پیش کیا۔ اسطرح ہندوستانی معاشرے میں پہلی دفعہ بحث کا انتظام ہوا ان بحث اور مباحثوں میں جذبات سے نہیں بلکہ دلائل،تحقیق اور منطق سے کام لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی مرتبہ ہندوئوں اور مسلمانوں نے اپنے مذہب پر ایسی تنقید سنی جو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ ان مباحثوں نے ان میں قوت برداشت ، حوصلہ اور رواداری کا جذبہ پیدا کیا اور تعصبات کو کم کیا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ جدید ذہن عقل کی بنیاد پر کسی چیز کو تسلیم کرتا ہے ۔ ہندوستان جو تہذیب اور امن کا گہوارہ تھا جس کی اپنی ایک تاریخ تھی لوگ وقت کے ساتھ ساتھ ماضی کو فراموش کر چکے تھے ۔قصوں ، کہانیوں اور خوابوں میں مگن تھے حقائق سے دور دور تک اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ علم و ادب اور فن چند خاندانوں میں سمٹ کر ندرت و خوبی کی تخلیق کھو چکے تھے ۔ یورپ کیلئے ہندوستان ایک ایسا ملک تھا جس کی نہ کوئی تاریخ تھی نہ کوئی ماضی تھا ۔
ہندوستانی ایک ایسی مخلوق تھی جن کے اپنے ہی ملک سے واقفیت نہ تھی ۔ایسے میں Royalایشیاٹک سوسائٹی نے اشاعت کا کام شروع کیا اور ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندو مذہب اور اس کی تعلیمات اور فلسفے کو دنیا سے روشناس کروایا ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے دور کی تاریخ پر فارسی میں کتابیں شائع کروائیں ۔ جن کی وجہ سے جدید ہندوستانی تاریخ کا کام آسان ہوا ۔ محکمہ آثار قدیمہ کے قیام کے بعد قدیم عہد کے آثاروں کی کھدائی اور دریافت نے ہندوستانی تہذیب کی شان و شوکت کی عظمت کو اُجاگر کیا مثلاً مو ہنجو داڑو کی دریافت نے ہندوستانی تہذیب کو دنیا کی بڑی تہذیبوں میں شامل کیا ۔ہندوستان میں وہ قومیں ،قبائل اور برادریاں جن کا ماضی سے رشتہ کٹ گیا تھا اُن کو دوبارہ زندہ کیا گیا ۔

جیسا کہ راجپوتوں کی تاریخ ٹاڈ نے لکھی ، مرہٹوں کی تاریخ دف نے لکھی ، سندھ کے باشندوں کے حالات رچرڈ برٹن اور بلوچ پٹھانوں کی مستند تاریخ انگریزوں کی ہی لکھی ہوئی ہے ۔ ان مورخین کی کتابوں کے لکھنے سے عام یا مڈل کلاس لوگوں کو فائدہ پہنچا کیونکہ ہم اس بات کا پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے علم و ادب کا فن مخصوص خاندانوں کی زد میں تھا ۔ اب کتابیں امرا ء کی ملکیت نہیں رہی بلکہ یہ عام لوگوں تک پہنچنے لگی عوامی کتب خانوں کی ابتداء بھی اسی زمانے میں ہو گئی ۔ پہلے یہ کتب خانے بادشاہوں اور امراء کے ہوتے تھے اور اُن سے فائدہ اُٹھانے کیلئے اہل علم ان کے محتاج ہوتے اور پھر بر صغیر میں ایک ایسا انقلاب آیا جب رسائل اور اخبارات نے علم کو عام کیا اور علم کو چند لوگوں کی اجارہ داری سے نکال پھینکا ۔

استعماری دور میں تعلیمی مسئلے پر دو گروہ بن گئے ایک گروہ وہ تھا جو چاہتا تھا کہ مقامی زبانوں کو ذریعہ تعلیم کیا جائے اور ہندوستان کے سماجی ڈھانچے کو مت بدلا جائے اور دوسرا گروہ یہ چاہتا تھا کہ انگریزی تعلیم کے ذریعے مغربی علوم حاصل ہوں اس کے بغیر ہندوستانی سماج کو بدلا نہیں جاسکتا ۔شروع میں مشرقی تعلیم کے حامی لوگ کامیاب ہوئے اداروں اور مدرسوں میں مشرقی علوم پڑھائے گئے لیکن آہستہ آہستہ مشرقی علوم کی سرپرستی ختم ہو گئی کیونکہ جیسے جیسے انگریزی اقتدار بڑھتا گیا اُن کی ضروریات میں اضافہ ہو تا گیا اور ایسے حالات آگئے کہ ہندوستان میں یورپی علوم نافذ کئے جانے لگے ۔

اس سے ان کا یہ فائدہ ہوا کہ ہندوستانی مغربی افکار سے روشناس ہوئے اور انہی نظریات نے ان میں قوم پرستی اور آزادی کے جذبات کو پیدا کیا ۔ استعماری دور نے ہندوستان کے سیاسی نظام کو تبدیل کر دیا انگریزوں کی برصغیر میں آمد سے پہلے لوگوں کی وفاداری کا مرکز بادشاہ اور اُن کے خاندان ہوا کرتے تھے ۔ ملک ،قوم اور معاشرے کا تصور کمزور تھا ہندوستان میں کسی علاقے یا صوبے میں بادشاہ تبدیل ہوتا تو لوگوں کی وفاداریاں بدل جاتی۔ استعماری دور میں یہ تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے کہ جس میں قوم و ملت کا وسیع نظریہ پیدا ہوا اور لوگوں کی وفاداری کا مرکز قوم و ملک بن گئے ۔ اہل برطانیہ اپنے ساتھ جمہوری روایات لے کر آئے تھے اور یہاں نئے ادارے قائم کئے ۔ہندوستان کا فرسودہ سماجی ڈھانچہ کمزور ہوا مثال کے طور پر جب ہندوستان میں ہسپتال (Hospital) قائم کئے تو وہاں ذات پات کی تمیز ختم ہو گئی ، جیل میں قیدیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا ، عدالت کی نظر میں سب برابر ، عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جاتا ، فیکٹریوں میں مزدور مل جل کر کام کرنے لگے ۔

اس عمل نے لوگوں میں تعصبات کو ختم کیا اور اُن کے درمیان محبت و امن کا رشتہ پیدا ہوااور ان میں ایسے طبقے جو پسماندگی کا شکار تھے اُن کے اندر اپنی حالت کو بدلنے کی جستجو شرو ع ہوئی ۔ ہندوستان میں آج بھی اچھوت لوگوں کی ’’دلت‘‘ تحریک جو صدیوں سے ظلم و جبر کے خلاف ایک چٹان بنی ہوئی ہے یہ بھی استعماری دور کی ہی دین ہے ۔ ڈاکٹر امبیدکر کی جیسی شخصیت اچھوت لوگوں میں سے پیدا ہوئی اور ایسا صرف برطانوی دور ہی میں ممکن تھا ۔کیونکہ قدیم ہندوستان دور میں اچھوت لوگوں کا آگے بڑھنا بہت مشکل تھا ۔نو آبادیاتی نظام کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ انہوں نے معاشرے میں امن و امان قائم کیا ،قانونی کی بالا دستی اور آزادی تھی ۔سول لبرٹی نے معاشرے میں خود اعتمادی کو جنم دیا انہی اداروں کی وجہ سے انگریزی حکو مت کے خلاف آزادی کی تحریک چلائی گئی حکومت نے آزادی کی تحریک کو کچل ڈالا اور قانون کی پرواہ کئے بغیر اُنہیں جیلوں میں ڈال دیا۔ آزادی کے راہنمائوں نے اس کے خلاف جنگ لڑی اور حکومت کو اس بات پر مجبور کیا کہ قانون کی بالا دستی کریں ۔ نو آبادیاتی نظام میں عام آدمی کو سکون اور راحت کی ایسی زندگی میسر ہوئی جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر منقش ہے ۔ ابتداء میں ہندوستان کے یورپی تعلیم یافتہ طبقے نے یہ نہیں کہا کہ انگریز ہندوستان چھوڑ کر جائے یا اُن کے بنائے ہوئے اداروں کو ختم کر دیا جائے اُن کا مطالبہ محض اتنا تھا کہ وہ ان اداروں میں اپنی شرکت چاہتے تھے ۔

اور جب ہندوستان ایسی سطح Stageپر پہنچ جائے جب اُنہیں نو آبادیاتی نظام کی ضرورت نہیں ہوگی اُس وقت آزادی کا مطالبہ کریں گے ۔ قومی تحریک کا دوسرا دور اُس وقت شروع ہوا جب انہیں ہندوستان کی معاشی ،استحصالی اور اس کی پسماندگی کا اظہار ہوا۔اس بات کا مطالبہ کیا کہ ہندوستان کو مکمل آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو استعمال کرکے ترقی کر سکیں ۔اس یورپی تعلیم یافتہ طبقے نے جدید یورپی افکار کے زیر نظر قوم پرستی کی تحریک چلائی اور لوگوں کو بتایا کہ کس طرح سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں دولت اکٹھی کی اور پھر بعد میں ہندوستانیوں کا کس طرح سے صنعتی استحصال کیا ،ہندوستانیوں کو غریب و مفلوج کیا ،روائتی صنعتیں تباہ ہو گئیں ،جس میں دستکار ہنر کار معمولی مزدور بن گیا ۔ ہندوستانیوں کو ذہنی طو ر پر پسماندہ بنانے کی کوشش کی گئی اور ان پر مغربی تہذیب کو مسلط کر دیا گیا ۔ ان دلائل کا یہ نتیجہ نکلتا ہے جب انگریزی حکومت ختم ہو گی وہ ہندوستان میں غربت کا خاتمہ کریں گے ،عوام کی بہتری کیلئے پالیسیاں تشکیل دیں گے وغیرہ ۔ انھی نعروں نے عوام میں آزادی کی لہر پیدا کی اور ایک طویل جدوجہد او ر کوشش کے نتیجہ میں ہندوستان آزاد ہو ا ،پاکستان اور انڈیا دو الگ ریاستیں بن کر منظر عام پر آئیں ۔

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے