Urdu News and Media Website

ہر حکم تحریری ہونا ضروری نہیں: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حالیہ پیشی کے موقعے پر رینجرز کی تعیناتی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات مقامی سطح پر غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے اور اس سلسلے میں اداروں میں تصادم کی کوئی صورتحال نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کے نتیجے میں پیش آنے والے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔ رینجرز 2014 سے اسلام آباد میں تعینات ہیں اور ’جب ایک فورس بلا لی جاتی ہے تو اس کی تعیناتی کے بارے میں مقامی طور پر رابطہ کاری ہوتی ہے‘۔احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی پہلی پیشی کے موقعے پر وہاں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس کے بعد اسلام آباد کی پولیس، انتظامیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت ہوئی تھی۔’اس دوران اسلام آباد پولیس کی جانب سے ریجنرز کی تعیناتی کے لیے خط بھی لکھا گیا تھا جس کی نقل رینجرز کو بھی بھیجی گئی تھی۔‘اسی سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو۔‘

تبصرے