Urdu News and Media Website

ہائے رے یہ بل

تحریر:عتیق الرحمان خاں

اکاﺅنٹ آفس کی سیڑھیوں میں ایک دم سے شور بلند ہوا سب نہ چاہتے ہوئے بھی اس آواز کی طرف لپکے مگر اس سے پہلے کہ کوئی اس آواز کو سنبھال سکتاوہ ہاتھوں سے نکلتے نکلتے نیچے والی سیڑھی پر آکر رکے اور پھر ان کیاآہوں بکا اور سسکیاں سنی نہیں جا رہی تھیںبھاگ کر وہاں پر موجود لوگوں نے بابا جی کو اٹھایا مگر کچھ عمر کا تقاضا اور کچھ ان کی پریشانیوں کی آمیزش نے اس کراہنے میں ایک عجیب سا درد فضاءکو سوگوار کر رہا تھا ۔بڑی مشکل سے ان کو بیٹھایا گیا ایک نوجوان بھاگ کر ان کیلئے پانی کا گلاس پکڑ لایا پانی کا گلاس منہ کو لگایا تو بابا جی نے دو گھونٹ پانی پیا تو تھوڑا سا سکون محسوس کیا سر میں سے خون نکل کر ان کے چہرے تک آگیا تھا مگر اس کو رومال رکھ کر بند کر دیا گیا تھا۔بابا جی کی مدد کرنے والوں میں سے ایک نوجوان بولا کہ بابا جی کو جلدی سے ہسپتال لے چلیں تاکہ ان کو پٹی کروائی جا سکے اور ڈاکٹر صاحب ان کو اچھی طرح چیک کر لیں کہ کہیں اور تو چوٹ نہیں لگی۔ایسا نہ ہو کہ اس عمر میں کوئی گہری چوٹ لگی ہو جو بعد میں بابا جی کےلئے مزید پریشانی کا باعث بنے ہسپتال کا نام سنتے ہی بابا جی نے شور مچانا شروع کر دیا کہ نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں بس یہ تھوڑی سی چوٹ لگی ہے میں خود ہی گھر جا کر پٹی کروالوں گا مجھے ابھی کسی پٹی کی ضرورت نہیں ہے،ایک لڑکے نے جو بابا جی کیساتھ زیادہ ہمدردی کر رہا تھا کہا بابا جی آپ فکر نہ کریں میں پٹی کروا کر آ پکو گھر تک بھی چھوڑ آﺅں گا یہ سن کر بابا جی نے زور زور سے شور مچانانہیں نہیں میں نے ابھی گھر نہیں جانا ہے آج تو بڑی مشکل سے میرے بل کے پاس ہونے کا ٹائم آیا ہے اور اگر میں آج پٹی کروانے یا گھر چلاگیاتو صاحب سیٹ سے اٹھ جائیں گے اور میرا بل پاس ہونے سے رہ جائے گااور اگر آج بل پاس نا ہوا تو میں اپنی بیٹی کی رخصتی کیسے کر پاﺅں گا پہلے ہی یہ دن خدا خدا کر کے پہنچے ہیں کہ میں اپنی بیٹی کی رخصتی کے فرض کو پورا کر سکوں۔کیوںکہ اس سے پہلے وسائل نہ ہونے کیوجہ سے میں اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہیں کر پا رہا تھا تو اسی ایک امید پر کہ ریٹائرمنٹ لیکر ہی اس فرض سے سبکدوش ہو جاﺅں گا اسی لئے ناچاہتے ہوئے بھی ریٹائر منٹ لے لی مگر ایک سال ہونے کو ہے اس آفس کے چکرپر چکر لگا رہا ہوں مگر بل ہے کہ پاس ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا اتنے پیسے میرے پاس ہے نہیں کہ ان باﺅ صاحبان کو دیکر بل پاس کروا لوںخیر مشکل سے بابا جی ہسپتال جانے کےلئے اس وقت راضی ہوئے جب وہاں سے گزرتے ایک خدا ترس افسر نے بابا جی کو یہ کہا کہ آپ بے فکر ہوکر دوائی لے آئیں میں آپ کا بل پاس کروا دونگا تو بابا جی اس نوجوان کیساتھ ہو لئے۔بابا جی تو ہسپتال چلے گئے مگر ناجانے یہاں کتنے بابا جی اور اماں جی اسی بل کے پاس ہونے کے پیچھے اپنی زندگی گنوا بیٹھتے ہیں اور ان کے بل پاس نہیں ہوتے۔یہ بل بھی کیا عجیب چیز ہے امیر ہو یا غریب ہر کوئی اسی کے چکر میں پھنسا ہوا ہے غریب کو یوٹییلٹی بلوں سے فرست نہیں ہے اور حکمران طبقہ اپنی مراعات کیلئے بھی انہیں بلوں کا محتاج بنا بیٹھا ہے مگر عوام اور حکمرانوں کے بلوں میں فرق یہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ بلوں کی مد میں دینا ہی ہوتا ہے اور حکمرانوں نے بلوں کی مد میں کچھ نہ کچھ لینا ہی ہوتا ہے۔دوسرا فرق جو سب سے اہم ہے کہ اگر غریب کے فائدے کا اگر کوئی بل ہوگا تو اس کے پاس ہوتے ہوئے کئی کئی سال گزر جاتے ہیں کبھی میٹنگ نہیں ہوئی تو کبھی صاحب چھٹی پر چلیں گئے ہیں آج کلرک صاحب کے کام کرنے کا موڈ نہیں ہے کیونکہ ان کا حصہ ابھی تک ان کو نہیں پہنچا ہے،مگرحکمران طبقے کا بل اسمبلی کا علان کردہ اجلاس بھی پہلے بلا کر اور چھٹی والے دن بھی کسی کو چھٹی نہ دیکر پورا کیا جاتا ہے اور جو بھی کوئی رکاوٹ اس درمیان حائل ہوتی ہے پلک جھپکنے میں اس کو دور کر دیاا جاتا ہے اور اگر کوئی قانون بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو تو اس کو بھی تبدیل کر دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اس کی تازہ مثال گزشتہ روز اس بات کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ حکمران جماعت کو اپنے سربراہ کو دوبارہ منتخب کرنے کیلئے قانون ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا تو انھوں نےا ایک ڈرامائی انداز میں پہلے سینٹ سے اور بعد میں قومی اسمبلی سے کچھ اس انداز سے پاس کر وا لیا کہ دیکھنے والے منہ دیکھتے رہ گئے اس میں نہ کوئی چھٹی اور نہ کوئی اور رکاوٹ حائل ہو سکی اور دوسری جماعتوں نے بھی اس بل کو پاس کروانے میں بھر پور کردار ادا کیا ۔اگرچہ اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے مختلف حربے اور بہانے تلاش کئے گئے مگر اس کے بل کے پاس ہونے میں سب پارٹیوں کا بھرپور کردار صاف نظر آتا ہے سینٹ سے بل پاس کرتے وقت کچھ نے واک آﺅٹ کیا تو کوئی فون سنتے ہی اٹھ کر چل دیا ۔اور فیصلہ کن ووٹ ایم کیو ایم کا بھی میاں عتیق نے یہ کہہ کر ڈال دیا کہ وزیر ریلوے نے ان کے کان میں آکر کہہ دیا تھا کہ آپ کے قائد سے میری بات ہو گئی ہے۔ایک مرحلے کہ طے ہونے کے بعد دوسرے مرحلہ کو بھی بڑی عجلت میں پورا کیا گیااسمبلی کا اجلاس پہلے 5اکتوبر کو بلائے جانے کا اعلان کیا گیا نگر بعد میں وقت کی نزاکت کو جانتے ہوئے اس کو بھی 2اکتوبر پر لانے میں عافیت جانی گئی۔اور یہ اجلاس نہ صرف 2اکتوبر کو کیا گیا اس کیساتھ ساتھ ایک ہی دن میں قانون میں ترمیم کا بل اسمبلی سے اکثریت رائے سے منظور بھی کر لیا گیا اور رات کے پچھلے پہر میں صدر صاحب نے بھی اس بل پر دستخط کر کے اس کے قانون ہونے پر مہر ثبت کر دی اور اگلے دن کا اجالا ہونے سے پہلے ناممکن ممکن بن کر سامنے آگیا۔اور پاکستان کی تاریخ میں یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوااس پہلے بھی حکمران طبقہ کو جب بھی ضروت پڑی ہے انھوں نے اپنے مفادات کےلئے قانون کو بدلا ہے اور ہر بار یہ تاثردینے کی کوشش کی ہے کہ ملک وقوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر یہ قدم اٹھایا گیا اور مختلف ادوار میں ان کو مختلف ناموں سے نوازہ گیا کبھی این آر او تو کبھی قانون کی ترامیم کے سائے میں اپنے مفادات کو قانون شیلٹر مہیا کیا گیا آج تک کوئی بھی بڑا مجرم قانون کے شکنجے میں نہیں لایا جا سکا اور اگر کبھی کوئی ایسا موقع آتا ہے تو تمام لوگ ملکر اس کا دفاع کرتے ہیں کیونکہ ان کو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر آج یہ شکنجے میں آگیا ہے تو کل کو اس کی باری بھی آجائے گی۔اور ایک دوسرے کو بچانے کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہےعوام آج بھی اسی انتظار میں کہ کاش کوئی تو ایسا لیڈر آئے جو ان کے حق کی بات کرے ان کے حقوق کےلئے بل پاس کروائے ۔مگر ایسا ابھی ہوتا ممکن تو نظر نہیں آرہا ہاں نظر آرہا ہے کہ وہ یہی کہتے ہوئے نظر آئیں گے ہارے رے یہ بل

تبصرے