Urdu News and Media Website

گھڑی کی ٹِک ٹِک

تحریر: مدیحہ مدثر(کراچی)
وقت ہر گزرتے پل کا نام ہے ،گھڑی کی ٹِک ٹِک کے ساتھ ہماری زندگی کا ایک ایک پل کم ہوتا چلاجاتا ہے جس کا احساس بھی شاید ہمیں نہیں ہوتا۔ انسان اپنی زندگی کا سفر ایک نومولود بچے کی صورت میں کرتا ہےبس یہی ابتداء ہے اور گھڑی کی ٹِک ٹِک شروع ہوجاتی ہے اس ٹِک ٹِک کے ساتھ ایک ایک پَل گزرنے لگتا ہے – انسان ایک مدّت خاص تک کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہے اور ہر انسان کے دنیا میں سے جانے کا وقت بھی دنیا میں آنے سے پہلے ہی لکھ دیا جاتا ہے- اور پھر دنیا میں آنے کے بعد ہر سانس ایک لمحہ دنیا سے کم کرتی چلی جاتی ہے- وقت ایسی چیز ہے جو کسی کے قابو میں نہیں آسکتی بس گھڑی کی ٹِک ٹِک کے ساتھ یہ وقت ہم سے ہماری زندگی چھینے چلا جاتا ہے-دنیا آخرت کی کھیتی ہے لیکن یہ ایسی کھیتی ہے جس کے بیج بونے سے لے کر کھاد اور پانی  ڈالنے، تراش خراش اور دیکھ بھال سے لے کر فصل کی تیاری تک کا وقت انتہائی مختصر اور فصل تیار ہونے کے بعد اس فصل کے استعمال کا وقت بے انتہا بلکہ لا محدود ہے دنیاکی زندگی سمندر میں قطرے کے برابر ہے یعنی اتنی بڑی فصل جو کہ ہمیشگی زندگی کے لئے ہو کاشت کا وقت اتنا مختصر جبکہ عموماً فصل کی کاشت طویل عرصہ ہوتی ہے اور تھوڑے ہی وقت میں کھا پی کر برابر ہوجاتی ہے -اورجتنا وقت ملتا ہے اتنی محنت اور دیکھ بھال  زیادہ اب اس اتنے مختصر وقت میں ایساکیا کیا جائے کے کم وقت میں اچھی فصل تیار ہو کیونکہ جتنی اچھی فصل تیار ہوگی کھانے کا مزا بھی اتنا ہی ملے گا – ہمارے لئے تو ہر گزرتا لمحہ انتہائی اہم ہونا چاہیے کیونکہ اس فصل کی تیاری کے لئے اتنہائی مختصر وقت ہمارے پاس موجود ہے – اگرہم وقت کی اہمیت کو جان لیں اور گھڑی کی ٹِک ٹِک کا احساس ہمارے دلوں میں پیدا ہوجائےاور ہر ایک لمحہ کو ہم اپنی آخرت کی کھیتی سنوارنے میں گزاریں ہر لمحہ ایک نیکی کمانے کی دوڑ ہمارے اندر پیدا ہوجائے آج ہم سوچتے ہیں چلو ابھی نہیں کل سے نماز شروع کرلونگی  آج تھوڑا آرام کرلوں کل کام کرلونگی آج چھوٹا سا گناہ کرلوں کل توبہ کرلونگی ابھی تھوڑے سے گانے سن لوں پھر نماز پڑھ کے توبہ کرلونگی دین کیا ہے قرآن ہمیں کیا حکم دیتا ہے ہے اسکی فکر نہیں بس ابھی جوانی انجوائے کرلوں پھر بڑھاپے میں عبادت کرلونگی لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کس کے پاس کتنا وقت ہے یہ کوئی نہیں جانتا گھڑی تو سب کی اپنی ایک مدت خاص تک کا سفر کررہی ہے کس کا وقت کب پورا ہوجائے یہ کسی کونہیں معلوم لیکن پھر بھی اس وقت کی اہمیت کا احساس نہیں ہونا ایک المیہ ہے جبکہ وقت کی قدر تو دنیا کو بھی خوشگوار بنادیتی ہے وقت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے وقت کو اپنے ساتھ لے کر چلنا دنیا و آخرت میں کامیابی کا سبب بنتا ہے اگر ہم اپنے دن بھر کے کاموں کو منٹ اور گھنٹوں کے حساب سے بانٹ لیں تو سارے کام بہت اچھے انداز میں ہوجاتے ہیں دن کےتمام کام جن میں نماز کے اوقات بھی شامل ہوں اسکے علاوہ اس میں دوگھنٹے ضرور دینی معلومات کےحصول کے لئے رکھیں دینی معلومات جن میں قرآن پاک کی تفسیر کے ساتھ مولانا مودودی جیسے مفکر کی بہت سی کتابیں جن میں دینیات، خطبات وغیرہ شامل ہیں پڑھ کر علم میں اضافہ کیا جانا ضروری ہے اور ساتھ ہی دینی معلومات دوسروں تک پہنچانا۔اب اگر ہم اس انتظار میں رہیں کے پہلے خود مکمل معلومات حاصل کرلیں پھر دوسروں کو کچھ سکھائیں گے تویہ بھی ہم اپنی نیکی کمانےکے بہترین وقت کا ضیاع ہی کریں گے کیونکہ ہمیں یہ نہیں معلوم ہماری زندگی کا کتنا وقت بچا ہے زندگی کی گھڑی تو مسلسل چل رہی ہے نہ وہ گھڑی خراب ہوتی ہے نہ اُسکا سیل ویک ہوتا ہے وہ توزندگی کی پہلی سانس کے ساتھ چلنا شروع ہوتی ہے اور پھر اُسی وقت رکتی ہے جب زندگی کا وقت پورا ہوجاتا ہےاور آخرت کے سفر ا آغاز اسی لئے وقت کو مضبوطی سے تھام کر ہر لمحہ اپنی آخرت کی کھیتی کو سنوارنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات انکی سیرت ہماری زندگی کاحصہ ہونا چاہئے کائنات پر غوروفکر بھی ضروری ہے لیکن یہ سب کام وقت کی کمی کے احساس کے ساتھ ہوں دینی تعلیمات جلد سے جلد سیکھنا بھی ہیں عمل بھی کرنا ہے اور لوگوں تک پہنچانا بھی ہے اپنی دنیاوی زندگی کو دین سے الگ نہیں کریں دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے پانی پینے کھانا کھانے سے لیکر نماز روزہ حج زکٰوة  سب ہی ہمیں خاص ہدایات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دے رکھی ہیں بس ضرورت اپنانے کی ہے – ہم اپنی زندگی میں وقت کی اہمیت کا مشاہدہ کریں تو شاید ہمیں وقت کی قدر بہت کم نظر آئے گی اگر 11بجے کسی دعوت میں جانا ہے تو ضروری ہے ایک گھنٹہ بڑھا کر 12بجے پہنچا جائے – کسی سے بات کرنے بیٹھیں تو بھول ہی جاتےہیں کے کتنا وقت بیت گیا موبائل ہاتھ میں آتا ہے تو با آسانی کئی گھنٹے ہمارے لے جاتا ہے بازار چلے جائیں تو پھر چار پانچ گھنٹے کوئی چیز ہی نہیں یہی وقت کی ناقدری ہماری دنیا میں بھی ناکامی اور پریشانی کا باعث بنتی ہے اور آخرت کی کھیتی کی تو ساری دیکھ بھال رہ ہی جاتی ہے اس اتنے وقت کے ضیاع کے دوران معلوم نہیں ہماری اس کھیتی میں کتنی خرابیاں آجاتی ہونگی جو وقت ختم ہونے کے بعد آخرت کے سفر پر ہمارے سامنے آنے والی ہونگی آخرت کا سفر جہاں کوئی گھڑی نہیں ہوتی ہمیشہ رہنے والی زندگی  اس سفر جب ہماری دنیا میںکی ہوئی کوتاہیاں کانٹوں بھرے راستے کی طرح ہمارے سامنے آئیں گی تو کتنا مشکل ہوگا اس سفر کو طے کرنا  ہم تو دین کی راہ کے لئے زرا سا چلنا زرا سی دھوپ برداشت  کرنا تو کیا ہم تو زرا سا وقت بھی نہیں دے پاتےپھر وہ تکلیف دہ سفرِآخرت ہم کیسے طے کر پائیں گے وہ سفرجو کبھی ختم نہیں ہونا انتہائی طویل جسکا کوئی اختتام نہیں ہم کبھی شہر سے باہر  ھی نکلتے ہیں تو کتنی تیاری کرتے ہیں کے گھنٹو کا سفر  ہے لیکن ہم وہ سفر مکمل کر بھی پائے گے کے نہیں یہ نہیں معلوم زندگی کا وقت سفر کے دوران بھی ختم ہوسکتا ہے لیکن آخرت کے طویل سفر کی کوئی خاص تیاری  نا ہونا انتہائی تکلیف دہ بات ہے وقت کی قدر کرنا مختصر وقت کی اہمیت اور ہر لمحے کو آخرت کے لئے مفید بنانے کی ضرورت سمجھ لینا ہماری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے.
تبصرے