Urdu News and Media Website

کیا ہم آزاد ہیں؟

تحریر:پیر توقیر رمضان۔۔
آج ہمارے معاشرے میں جس قدر صورتحال برپا ہے اس کو اگر سامنے رکھ کر پرکھا جائے تو وہ صورتحال یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں، ہمارے معاشرے میں چھپے درندے ہی ہماری بچیوں کھلے عام زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کا قتل وغارت کررہے ہیں اور حکومتی بے جا مداخلت کے باعث پولیس کے شعبہ کو اس قدر ڈھیلا بنادیا ہے وہ ان کے خلاف کاروائیاں کرنے میں بہت کم نظر آتی ہے ، ہماری حکومت بھی ایسے واقعات کے خلاف کریک ڈائون کی ہدایت جاری کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بنی کھڑی ہے جو کہ ملک و قوم کیلئے ایک بہت بڑالمحہ فکریہ ہے اگر یہی صورتحال رہی تو اس معاشرے میں کافرانہ روایات جنم لیںگے اور بچیوں کا جینا دوبھر کر دیا جائے گا، ہماری بیٹیوں کو کھلے عام زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا جاتا ہے ،ورثاء اس کے خلاف سڑکوں پر آتے ہیں احتجاج کرتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی ، حکومتی دبائو اور با اثر ملزمان کے پریشر سے پولیس ہی مظلوم پر دبائو ڈال کر طرح طرح کی دھمکیوں سے صلح کرنے پر مجبور کردیتی ہے جو کہ ہمارے معاشرے کی تباہی کا آئینہ دار ہے ،آج اس وقت ہماری حکومت بہت بڑے امتحان میں کھڑی ہے جہاں پر صورتحال بھی غمگین ہے ، معاشرے کی صورتحال ناقابل بیان ہے، درندگی اس قدر عام اور مذاق بن چکی ہے کہ والدین اپنی بچیوں کو حصول تعلیم کیلئے بھی گھر سے باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں، جس کے باعث ہماری بچیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے اور وہ ملک وقوم کی خدمت میں اپنا نمایاں کردار اد ا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، آج بیٹیوں سے زیادتی اور اس کے بعد کے قتل ایک ظالم رسم بن کر رہ گئی ہے، یہی انسان کو سوچنے پرمجبو ر کردیتا ہے کہ کیا ہم واقع ہی آزاد ہیں، آزادی سے قبل مسلمان غلام تھے تو اس وقت کی صورتحال اور اب کی صورتحال میں کوئی خاص فرق باقی نہ ہے ہمارے معاشرے میں چھپی کالی بھیڑیں ہی ہمیں اندر سے اکھاڑ رہی ہے ، آج کوئی اور ہے تو کل آپ کی ماں ،بہن یا بیٹی ہو سکتی ہے ہماری پولیس بھی اس قدر کام نہیں کررہی ہے کہ مظلوم کی شنوائی ہوسکے، بلکہ معاشرے ایسی ایسی ظالمانہ رسم ورواج بن رہے ہیں کہ اگر آپ ظالم ہیں تو لامحالہ مظلوم اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کیلئے پولیس کے پاس جائے گا اور اپنی پوری طاقت کا استعمال کرکے یہی کوشش کرے گا کے اسکے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں اور بے رحمیوں کا ازالہ ہوسکے ،مگر بدقسمتی حکومت کی طرف سے کرپشن کے خاتمہ کی بجائے اسی کو فروغ دیا گیا جس کی وجہ آج لاتعداد مسائل جنم لے چکے ہیں ، کوئی بھی ظالم ہو پولیس سے بچنے کیلئے صرف رشوت لگتی ہے اور مظالم کی شنوائی نہیں ہوتی، اسی معاشرے میں چھپے درندے اور کالی بھیڑیں ہماری بہنوں،بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرکے انہیں موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں اورانہیں کوئی انصاف نہیں ملتا ، یہ کہاں انسانوں کی بستی ہے، یہ کہاں کی جمہوریت ہے ، اور ایسی حکومت ،ایسی پولیس کسی کو کیا انصاف دے گی جو خود ہی رشوت پر چلتی ہے، ہاں اگر وہی مظلوم کوئی سیاستدان ہو،کوئی بااثر ہوتو یہی پولیس اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ملزم کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچاتی ہے مگر اگر وہ بچی کسی غریب محنت کش کی ہوتو ملزمان کو سزا ملناتو دور سالوں تک ان کی گرفتاری ہی نہیں ہوتی جو کہ ایک بڑا المیہ ہے۔آج بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعاتہماری تباہی کا سبب ہیں ،کچھ علاقوں میں تو دل کو ہلا دینے والے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہیں پر باپ نے بیٹی سے زیادتی اور کہیں پر بھائی کی بہن سے زیادتی ہوتی ہے۔ایسے واقعات کی فوری سزا ہونی چاہیے مگر پولیس کی عد م دلچسپی کے باعث واقعہ کا مقدمہ تو درج کر لیا جاتا ہے مگر ملزمان کو سزا نہیں ملتی اور ورثاء مظلوم دھکے کھاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان میں پاکستان میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس لے کر اورا س کے خاتمہ کیلئے خصوصی لائحہ چلاتے ہوئے ایک ملکی سطح کی انسپکشن ٹیم تشکیل دے جو ہر علاقہ میں بچیو ں کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے واقعات کی رپورٹ لے کر متاثرہ خاندان کی شنوائی کرے، اورتھانوں میں پڑے سالوں پرانے مقدمات کا حل کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچاکر ہر چھوٹے بڑے اضلاع اور تحصیل کو کرائم فری بنایا جائے ، اور حکومت پاکستان اداروں سے کرپشن کا خاتمہ اپنی اولین ترجیح میں شامل کرے کیونکہ جب تک پولیس جیسے شعبوں سے رشوت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو تب تک ایسا ممکن ہی نہیں ہے یہ کہاں کی جمہوریت ہے، اگر کرپشن کا خاتمہ نہ ہو ا اس حکومتی انسپکشن ٹیم کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ایسی ٹیم کا کیا فائدہ جو رشوت لے کر کام چھوڑ دے یا بااثر ملزمان کے ساتھ مل کرجرم میں برابر کی شریک ہو۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے