Urdu News and Media Website

کشمیریوں پر مظالم اور عالمی خاموشی

تحریر:پیر توقیر رمضان

پاکستان سمیت دیگراسلامی ممالک میں 5 فروری کے موقع یوم یکجہتی کشمیر تو منا یا جارہا ہے مگر بدقسمتی سے یہ دن صرف اور صرف ریلیوں، مظاہروں اور سوشل میڈیا پر پوسٹنگ کی حد تک ہی محدود ہے، ہم اس دن کا مقصد ہی بھول چکے ہیں، کشمیریوں کو ہم بڑے فخر کے ساتھ اپنے بھائی تو مانتے ہیں مگر جب ان پر ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہوئے ہم بڑے آرام و سکون کے ساتھ آنکھیں بند کرلیتے ہیں، ایسے بھائی چارے کا کیا فائدہ کہ ایک طرف کھلے مار اپیٹا جارہا ہے ان کی وقتل وغارت کی جارہی ہو اور دوسری طرف بھائی آرام سے نیند پوری کررہے ہوں، کشمیری مسلمانوں کو بڑے فخر کے ساتھ بھائی تو کہا جاتا ہے مگر ان کے قتل کرنیوالوں کو ہم کچھ نہیں کہتے یہ کہاں کا بھائی چارہ ہے ، مسئلہ کشمیر پر ہماری حکومت بھی آنکھیں بند کرکے بیٹھی سکون کررہی ہے اور مسئلہ کشمیر پر اقوام اور عالم اسلام کی خاموشی ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے ، گزشتہ روز یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قوم بھی پرجوش دیکھائی دی رہی تھی ہر چھوٹی بڑی تحصیل اور اضلاع میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں بھی نکالی گئیں اور اسکے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کے خلاف بھی بڑی زبردست قسم کی نعرے بازی گئی مگر قوم کا یہ جذبہ صرف اور صرف ایک دن کی حد تک ہی محدود ہوتا ہے جو کہ ایک المیہ ہے،ہماری حکومت ہمارے مسلمانوں بھائیوں پر مظالم ڈھانے والے ملک بھارت کے ایجنٹوں کے ساتھ کھلے عام میٹنگ کررہی ہے اور آج حکومت نے مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک پالیسی اختیار نہ کی ہے جو کہ حکومت کی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا آئینہ دار ہے، ہماری حکومت مسئلہ کشمیر پر خاموشی اختیارکرکے کس کو خوش کررہی ہے، ہم کشمیر پر دو ٹوک پالیسی اختیار کیے بغیر کشمیر کو آزاد نہیں کرواسکتے ، کشمیری ہماری بھائی ہیں،جب ایک مسلمان بھائی پر غیر مسلم حملہ کریں تو عالم اسلام کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر اتفاق سے اپنے مظلوم مسلمانوں بھائیوں کو سیکورٹی فراہم کرکے ان کاتحفظ یقینی بنائیں تاکہ معاشرے میں مسلمانوں کی عزت و آبرو قائم رہے، مگر کشمیر میں بھارتی فوجیں کھلے عام کشمیریوں کو قتل کررہی ہیں اور عالم اسلام نے خاموشی اختیارکررکھی ہے اگر ہم کشمیریوں پر ڈھائے والے مظالم کے خلاف یک جان ہو کر کھڑے نہ ہوئے اور ان کے بازو بن کران کو نہ بچایا تو ہم کشمیریوں کو بھائی کہلوانے کے حقدار نہیں ہیں، پاکستانی قوم ایک جذبہ اور جنون رکھتی ہے اور جب ان کے ساتھ ہماری سرحدوں پر تعینات بہادر جوان مل گئے جو ملک کی سلامتی کیلئے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اپنے بھائیوں کو آزاد کرواں لیں گے،بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینی چائیے تھی مگر حکومت اسے رکھ لیا تاکہ جنرل انتخابات کے قریب کلبھوشن یادیو کو پھانسی دے کر عوام کوخوش کریں گے اور ایک بار پھر ووٹ حاصل کرکے پانچ سال عوام کو خون چوسیں گے، بھارت ہٹ دھرمی پر تل چکا ہے ،بھارت دنیا میں جاری امن نہیں چاہتا ہے ،پاکستان میں دہشت گردانہ کاروایوں میں بھی انڈین ایجنسی راء کا ہاتھ ہے ، بھارت اور پاکستان کے درمیان اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے اگر بھارت ہٹ دھرمی سے باز آجائے تو یہ مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے کشمیر میں زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے جو کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرا رہا ہے ، بھارت کی ہٹ دھرمی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر سے پاکستانیوں کی توجہ ہٹا نا ہے،بھارت کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے ، اگر ایک مرتبہ جنگ ہوئی تو دنیا کا امن تباہ ہوجائے گا اورکئی ملک بھی اس تباہی کا نشانہ بن جائیں گے اور بھارت یہی چاہتا ہے کہ دنیا میں جاری امن وامان ختم ہوجائے، نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم ڈھا کر بھارت کیا مسیج دینا چاہتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام یک جاں ہو کر ایک حکمت عملی کے تحت اپنے کشمیری بھائیوں کو آزاد کروانے کیلئے جدوجہد کا سلسلہ شروع کرے اور ہماری حکومت بھی بھارت کو خوش کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک پالیسی اختیار کرکے تاکہ کشمیریوں کو بھارتی فوج کے ظلم وستم اورجبر سے نجات دلائی جاسکے۔

تبصرے