Urdu News and Media Website

کراچی ۔۔۔ جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا

تحریر: محمد اشفاق
کراچی ہمیشہ سے ایک بڑا تجارتی اور کاروباری مرکز رہا ہے۔ 90کی دہائی تک کراچی تمام پاکستانیوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتنا تھا۔ یہاں پاکستان کے کے ہر حصے سے اور ہر زبان بولنے والے آتے تھے اور محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ دن بھر مزدور اس شہر میں محنت کرنے کے بعد رات کو کسی بھی جگہ بے خوف و خطر سو جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کراچی کی رونقوں اور روشنیو ں کی پورے عالم میں دھوم تھی۔ یہاں غیر ملکی طالب علم آتے اور اس شہر کی درس گاہوں سے علم کی پیاس بجھاتے۔اس شہر کے بازاروں کی رونقیں رات گئے تک رہتی تھیں۔ ایک ٹھیلا لگانے والے سے لے کر فیکٹری کے مالک تک سب یہاں چین کی نیند سوتے تھے جیسے بچے اپنی ماں کی آغوش میں سر

چھپا کر ہر فکر اور غم سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
پھر نہ جانے اس شہر بے مثال کو کس کی نظر لگ گئی۔ کراچی میں خوف وہراس نے ڈیرے ڈال لیے۔ یہاں موت رقص کرنے لگی۔ لوگ دن دہاڑے گھروں سے باہر نکلنے سے بھی ڈرنے لگے۔ کپڑے کی صنعت و تجارت کے حوالے سے مشہور اس شہر میں ملبوسات سے زیادہ کفن فروخت ہونے لگے۔روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ شہر کی جو سڑکیں لوگوں کے لیے کبھی تفریح کا سامان ہوتی تھیں ، قتل گاہوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ ہر ماہ گھر والوں کو پیسے بھیجتے تھے ، اب وہاں سے لاشیں گھروں کو واپس جانے لگیں۔
قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ ملک دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ تھا لیکن ظلم کی اس تاریک رات کو آخر ختم ہونا تھا سو فوج، رینجرز اور پولیس جیسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر ظلم کی سیاہ رات کو ختم کیا اور امن کا سورج ایک بار پھر طلوع ہو گیا۔ آج کا کراچی بھلے 90کی دہائی سے پہلے والا کراچی نہ سہی لیکن پچھلے دو تین سال سے یہاں کے حالات گزشتہ دو تین دہائیوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہو گئے ہیں۔
خیر یہ تو تھا کراچی کے سیاسی و معاشی حالات کا ایک مختصر تذکرہ لیکن آج اگر اس شہر کا انتظامی جائزہ لیا جائے تو بہت سے مہنگے علاقوں میں جہاں جائیداد کی قیمتیں کروڑوں میں ہے وہاں بھی گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ کراچی کی اہم ترین سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ شہر کی 90فی صد آبادی پینے کے پانی سے محروم ہے لیکن سڑکوں پر پانی ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ پینے کا پانی اگر کہیں ہے بھی تو گندے پانی کی آمیزش نے اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑا جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے موذی امراض میں مبتلا ہے ۔ بجلی کا تو جیسے کراچی سے ساس بہو کا رشتہ ہے، جب چاہے آجائے اور جب چاہے گھروں میں اندھیرے ڈیرے ڈال لیں۔
سیاسی و انتظامی صورت حال کی ابتری اپنی جگہ ، رہی سہی کسر اس شہر کے رہنے والوں کے رویوں نے نکال دی ہے۔ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، کوئی ٹریفک سگنل پر رکنا پسند نہیں کرتا۔ ٹریفک کا نظام ایک بے ہنگم طریقے سے چل رہا ہے اور کیوں نہ چلے کہ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ لوگ کوڑا کرکٹ بھی سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں جس سے پورا شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ میونسپل کارپوریشن ٹھیک کام نہیں کر رہی۔ یہاں ہر شخص پیسے کا پجاری دکھائی دیتا ہے کیونکہ اب شہر میں عزت صرف بڑی گاڑیوں اور اونچے مکانوں کی ہے۔ لوگ پیسہ کمانے کی بجائے پیسہ چھیننے میں لگے ہیں۔ ڈاکو بے چارے تو ایسے ہی بدنام ہیں کہ کبھی کبھار بندوق کی نوک پر کسی سے تھوڑی بہت رقم ہتھیا لیتے ہیں جبکہ ٹھیلے والوں سے لے کر بڑے بڑے دکانداروں تک نے من مانے نرخوں پر بغیر کسی بندوق کے ہی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اب کوئی پوچھے کہ کس سیاستدا ن نے ہمیں سڑکیں گندی کرنے پر لگایا ہے، کون سے کونسلر نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا حکم دیا ہے، کس ایم پی اے یا ایم این اے نے تجارت کے نام پر لوٹ مار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ قومیں اس لیے بری نہیں ہوتیں کہ وہاں کے حکمران برے ہیں بلکہ جب لوگوں کا اپنا ضمیر مر جائے، اپنے اندر سے احساس ختم ہوجائے تو پھر وہ قوم نہیں ہجوم کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ، پھر کشادہ سڑکیں اور صاف پانی ان کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔
خیر یہ تو تھی تھوڑی سی تلخ نوائی، اب آتے ہیں اصل بات کی طرف اور وہ یہ ہے کہ ہمیں ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ کراچی کی انہی گلیوں اور سڑکوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا اور زندگی میں ایک اعلی مقام تک پہنچایا۔ آج یہی گلیاں سڑکیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ تم جو اپنا مستقبل بنانے کی دھن میں ہمیں ویران کر گئے، بتائو کہ ہمیں کون سدھارے گا۔
ہمیں چاہیے کہ کراچی میں ہوں یا دنیا کے کسی اور شہر میں اگر ہم نے اپنا بچپن اور طالب علمی کا زمانہ اس روشنیوں کے شہر میں گزارا ہے تو پھر اس شہر کا حق ادا کریں۔ یہ دنیا خدا نے عجیب امکانات سے بنائی ہے۔ یہاں مادہ فنا ہوتا ہے تو توانائی بن جاتی ہے۔ تاریکی آتی ہے تو اس کے بطن سے ایک نئی روشنی پھوٹتی ہے۔ یہاں ہر ناکامی میں سے کامیابی کا امکان ابھرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں کسی کے لیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ حالات بظاہر کتنے ہی ناموافق دکھائی دیتے ہوں، ہم اس شہر کو دوبارہ اس کی روشنی اور خوبصورتی لوٹائیں گے۔ ہم سب پر کراچی کا یہ قرض واجب الادا ہے۔

تبصرے