Urdu News and Media Website

کالی پگڑی والوں کیلئے غلطی کی گنجائش نشتہ…….!!

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔
ضیا شاہد
31اگست 2021…….افغانستان میں "انکل سام”کا اصولی طور پر آج آخری دن ہے……ایک اور سپرپاور کا” خون آشام عہد” انجام کو پہنچا……کالی پگڑیوں والے بوریا نشین فاتح ٹھہرے…..سلطنت برطانیہ اور سویت یونین کی” عبرتناک پسپائی” کے بعد متحدہ ہائے امریکہ کا تکبر بھی” خاک” ہوا…..واشنگٹن ہارا اور بری طرح ہارا……بش ،اوبامہ،ٹرمپ اور جوبائیڈن ،چار امریکی صدور کو خفت اٹھانا پڑی……ہندوستان کا "منہ بھی کالا” ہوا اور نئی دہلی کی پاکستان میں تخریب کاری کے لیے بھاری سرمایہ کاری "زندہ درگور” ہو گئی….!!

آج سے بیس سال پہلے "نائن الیون "کے بعد "چھوٹے بش”نے "بڑا بول” بول دیا…..”خدائی لہجے”میں کہا: طالبان کے دن گنے جا چکے…..پھر پوری دنیا کے "طاقتوروں” نے مل کر ایک نہتے ملک پر بارود کی بارش کر دی…..”گردش ایام” دیکھیے کہ دو دہائیوں بعد پھر انہی "نیٹو کمانڈروں” نے انہی”دہشت گردوں” سے ایک ایک دن بھیک میں مانگ کر دن پورے کیے……جب کسی کے دن گنے جائیں تو کون دم مار سکتا ہے کہ دنوں کا اصل مالک بھی اللہ ہی ہے اور وہ لوگوں کے دن بدلتا رہتا ہے…..!!!!

علامہ محمد اقبال نے کہا تھا

افغان باقی کہسار باقی

الحکم للہ الملک للہ

” شہ زوروں” نے جدید زمانے کے تمام ” ہنر "ازمالیے مگر "شیر دل افغان” گھبرائے نہ” فلک بوس پہاڑ” کپکپائے….کالی پگڑی والوں نے 15اگست2021کو "رب کی دھرتی، رب کا نظام”کے تحت” امارت اسلامی”کے "خدوخال” واضح کردیے ہیں……

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ افغانستان میں "من پسند برانڈ”کے عالمی” منصوبہ ساز” اسلامی نظام حکومت آسانی سے برداشت نہیں کرینگے……پہلے کی طرح” میدان کار زار” کے بجائے اب بھی” میڈیا وار” کا ہتھیار پوری شدت سے آزمایا جائے گا….. "من گھڑت حقوق” کے نام پر پراپیگنڈے کی جنگ اس "ڈیجیٹل محاذ” پر لڑی جائے گی…..

ماضی میں مدارس اور خاص طور پر افغان طالبان کے بارے میں یہ "پراپیگنڈا "کس لیول کا تھا؟اس کا اندازہ مولانا سمیع الحق اور "دی نیویارک ٹائمز "کے صحافی تھامس ایل فرائیڈمین کے درمیان سوال و جواب کی ایک نشست سے لگایا جا سکتا ہے…..مولانا نے مہمان اخبار نویس کو دلچسپ واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ بی بی سی کی ایک ٹیم ہمارے ہاں طلبا کو دیکھنے آئی کہ بھلا یہ کس قسم کی "مخلوق” ہے….وہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ یہ ان کی طرح کے انسان ہیں اور ان لوگوں کے بھی نام ہیں…. امریکی کالم نگار نے مولانا سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ملا عمر سے کہا تھا کہ لوگوں کا خیال ہے آپ لوگ "جن بھوت "یا کوئی” عجیب مخلوق” ہیں….اگر آپ لوگوں سے ملیں جلیں تو پتہ چلے گا کہ آپ اتنے برے نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے….مجھے معلوم ہے کہ ملا عمر بہت ہچکچاہٹ والے ہیں……
مولانا نے ایک اور نشست میں میڈیا کو بتایا کہ برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے تو اپنے اخبار انڈیپنڈنٹ میں دارالعلوم کو باقاعدہ نقشوں کی مدد سے "وار سکول” ظاہرکردیا تھا…..

مولانا سمیع الحق بھی کیا مرد قلندر تھے…..وہ افغان طالبان کی” کتاب”میں "سرورق "کا درجہ رکھتے ہیں….انہیں طالبان کے "جراتمند باب” کا "بے باک عنوان” بھی کہا جا سکتا ہے…….

گیارہ ستمبر کے بعد جب ساری دنیا امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی اور طالبان کا نام لینا بھی "جرم” بن گیا تو مولانا سمیع الحق تن تنہا کالی پگڑی والوں کے” وکیل” بن گئے…..مغربی میڈیا کو منہ توڑ جواب دیا……دفاع افغان کونسل بنائی……دنیا کا شاید ہی کوئی "وار کارسپانڈنٹ "ہو جس نے طالبان کا” سراغ” لگانے کے لیے اکوڑہ خٹک کا رخ نہ کیا ہو…..مولانا نے دلائل سے "گورے صحافیوں "کو بے بس کر دیا…انہوں نے واضح کیا کہ دارالعلوم حقانیہ اتنی ہی معتبر دینی درسگاہ ہے جتنی آکسفورڈ،ہارورڈ اور کیمبرج…..انگریزی میں "سٹوڈنٹس” کہلانے والے نوجوانوں کو پشتو میں” طالبان” کہتے ہیں…. جامعہ حقانیہ کے ڈگری ہولڈر حقانی کہلاتے ہیں….”فادر آف طالبان "کہلوانے والے مولانا فخر سے کہتے کہ افغانستان کے اکثر طالبان یہاں سے پڑھے جبکہ ملا عمر کو تاریخ میں پہلی اعزازی ڈگری دی…..ہم طالبان کے استاد اور وہ ہمارے شاگرد، بچے اور روحانی اولاد ہیں……..دارالعلوم حقانیہ ان کا” روحانی مرکز "ہے…….

"ہو” کے عالم میں "جمود” توڑنے والی ایسی” صدا "کوئی "مرد درویش” ہی لگا سکتا ہے …….”جابر سلطان” کے سامنے "کلمہ حق "کہنے والوں کی اس فہرست میں ایک دو اور نام بھی ہیں……وطن عزیز کے بڑے فوجی کمانڈر جنرل حمید گل بھی برے وقت میں "بوریا نشینوں "کے "ہم نوا” تھے….بڑے مدیر جناب مجید نظامی نے افغان باقی کہسار باقی کا نعرہ مستانہ لگایا تو بڑے بریلوی عالم دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے بھی افغان طالبان کی مزاحمت کی حمایت کرتے ہوئے انہیں "حریت پسند” قرار دیا…….

مولانا سمیع الحق کا تذکرہ ہوا تو گواہی بنتی ہے کہ وہ واقعی "میڈیا فرینڈلی” آدمی تھے…..بطور صحافی خاکسار کی ان سے تینوں ملاقاتیں بڑی یادگار ہیں…. پہلی بار شیرانوالہ مسجد لاہور میں ملے…..پھر ان کی انگریزی کتاب کی تقریب رونمائی پر ملاقات کا موقع ملا…..باوقار اخبار نویس راجہ اورنگزیب بھی میرے ساتھ تھے……پھر ایک این جی او کے نمائندوں کے ساتھ پولیو مہم کی حمایت کے لیے ان سے نشست ہوئی……فون پر گاہے بات ہوجاتی…..ہمیشہ اکوڑہ خٹک کی دعوت دیتے…..کچھ سال پہلے نامور اسلامی سکالر جناب ڈاکٹر احمد علی سراج کے ساتھ نشتر ہال پشاور کی ختم نبوت کانفرنس سے واپسی پر کھڑے کھڑے اکوڑہ بھی رکے …….پاکستان کا سب سے بڑا دارالحدیث دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا……..یادش بخیر!مجھے 2006میں عمرے پر جانا تھا……..میری عمر چالیس سے کم تھی……ان دنوں میری ان سے اتنی "ہیلو ہائے "نہیں تھی….کراچی میں ہمارے صحافی دوست جناب امین شاہ کی سفارش پر مولانا نے اپنے سینیٹر شپ والے لیٹر پیڈ پر میرے لیے سعودی سفیر کے نام خط بھی لکھا………..مولانا سے ہماری پہلی سے آخری ملاقات کے "سہولت کار” جناب عاصم مخدوم تھے ،جو بعد میں ناجانے کیوں "راستہ” بھٹک گئے……؟؟؟
بات ہو رہی تھی کالی پگڑی والوں کیخلاف میڈیا وار کی تو عرض ہے انہیں منفی پراپیگنڈے کے ساتھ ساتھ کچھ اندرونی بیرونی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑےگا……
کسی نیوز چینل نے ہیڈ لائن دی کہ کابل میں طالبان نے” جعلی طالبان” پکڑ لیے….اس سرخی میں پیغام ہے کہ ماضی میں کچھ "شرپسندوں”نے طالبان کا نام استعمال کرکے انہیں بدنام کیا اور مستقبل میں بھی باز نہیں آئینگے….طالبان کو اب "کمرشل کمپنیوں” کی طرح "اشتہار کی زبان "میں کہنا پڑے گا کہ خبردار ہوشیار!طالبان کے "جملہ حقوق” ہمارے پاس ہیں…..ہمارے علاوہ ہماری کہیں بھی کوئی "فرنچائز” نہیں….اس سے افغانستان کے اندر اور باہر "جعل سازوں”کی "گرفت” ہوگی….ہندوستان 20سال سے مغربی سرحد کی آڑ لیکر پاکستان کی پیٹھ میں "خنجر” گھونپ رہا ہے…..منہ کو "خون” لگ جائے تو یہ "بدبو دار عادت "مرتے مرتے چھوٹتی ہے….گلبدین حکمت یار کی بھارت کو وارننگ میں یہی” حکمت” نظر آتی ہے ہے….طالبان نے اپنے پہلے دور میں مہمان نوازی کی اپنی "منفرد روایت” کی خاطر اقتدارکو ٹھوکر مار دی تھی کہ کچھ بھی ہوجائے وہ اپنے محسن مہمان کو کسی کے حوالے نہیں کرسکتے…..”احسان کے بدلے احسان "کی کیا ہی خوب صورت مثال ہے…..پاکستان کی بھی افغانستان پر مہربانیاں کم نہیں…..”سٹوڈنٹس "پر صرف مولانا سمیع الحق کے قرآن و حدیث کی تعلیم کے حوالے سے احسانات کا ہی شمار کیا جائے تو شاید یہ” قرض "اتارتے زندگیاں بیت جائیں …… اسلام میں اگر مہمان کا اکرام ہے تو استاد کا بھی احترام ہے کہ جناب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا ،میرا آقا ہے، جہاں چاہے مجھے بیچ آئے………امید ہے طالبان اپنے روحانی مرشد کے مرقد کو "سلیوٹ "کرتے ہوئے پاک سرزمین کیخلاف اپنی دھرتی سے "شرانگزیوں "کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردینگے…..دین میں ہمسائے کی سلامتی کے لیے بھی کچھ ایسے ہی احکامات ہیں….طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھی یہی ہے……!!!

"کالی پگڑیوں والے” ابھی کابل سے دور تھے کہ بی بی سی کے تجزیہ کار جناب وسعت اللہ خان نے کہا تھا گذشتہ طالبان نسل کے برعکس موجودہ نسل کی تربیت و رگڑائی بیس برس پر پھیلے میدانِ جنگ میں ہوئی ہے…..پہلی نسل کے برعکس یہ نسل نا صرف تصاویر کھچوانے سے نہیں ہچکچاتی بلکہ اسے بین الاقوامی و علاقائی سیاست کی ابجد،بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم اور مذاکرات کے آرٹ سے پچھلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ واقفیت ہے….دیکھتے ہیں "سلجھے طالبان”اپنے ملک کے کئی سالوں سے” الجھے معاملات” کیسے سلجھاتے ہیں……سٹوڈنٹس یاد رکھیں کہ اب کی بار غلطی کی گنجائش نشتہ!!!

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے