Urdu News and Media Website

ڈو مور سے نو مور کی طرف بدلتا ہوا نقطہ نظر

تحریر:شاہدہ مجید

رواں ماہ کے آخر میں امریکہ کے وزیر خارجہ اور اسکے بعد امریکی وزیر دفاع پاکستان کا دورہ کرنے آ رہے ہیں ۔ پاکستان اور امریکی ذرائع نے بھی ان دوروں کی تصدیق کی ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ کے یہ دونوں راہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک سخت پیغام پہنچانے کےلئے بھیجے جا رہے ہیں کہ پاکستان جہادی گروہوں کی مبینہ حمایت بند کرے ۔امریکہ کی جانب سے سے مسلسل کچھ عرصہ سے پاکستان پر الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہ اگست میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف ایک سخت بیان دیتے ہو ئے کہا کہ امریکہ پاکستان کو لاکھوں ڈالرز ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان بدلے میں ایسے دہشتگرد گروہوں کو مدد فراہم کر تاہے جن کے خلاف واشنگٹن لڑ رہا ہے۔ نئی امریکی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف دی گئی تمام قربانیو ں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ پاکستان دہشتگرد گروہوں کی حمایت سے دستبردار ہو جائے ورنہ اسے اقتصادی، سیاسی، دفاعی پابندیوں کا سامنا کرنے کے ساتھ نیٹو کے غیر اتحادی رکن کی حیثیت سے بھی علیحدہ کر دیا جائے گا ۔
ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ خون اور خزانے کے کھیل میں مبتلا امریکہ ملکوں کے قومی وسائل تک رسائی کے ساتھ ان پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے امریکہ نے ہمیشہ تھیلی اور گولی کی زبان استعمال کی ہے۔جہاں ڈالرز سے کام نہ نکلے وہاں خون میں نہلا کر مقصد حاصل کیا جائے لیکن اب خطے میں سوچ بدل رہی ہے۔ اب ایسی پالیسیز کےلئے مزاحمتی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ حالیہ نئی امریکی افغان پاکستان پالیسی نے پاکستان کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ واضح طور پر اپنی راہیں اور سمت کا تعین کرلے دباﺅ اور پابندیوںکے محاذ پر اپنا موثر دفاع ہی قوموں کو دنیا میں سربلند کرتا ہے اور انکا وقار اور تشخص قائم کرتا ہے۔ پاکستان کو دباﺅ میں رکھ کر اس سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے امریکی ہتھکنڈے کی ایک کڑی پاکستان کے وزیر خارجہ کے دور ہ امریکہ کے موقع پر پیشتر ملاقات ہی امریکی وزیر دفاع کا یہ بیان بھی ہے جو انھوں نے آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں دیا کہ شدت پسند گروہوں کو مدد فراہم کرنے کے بارے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان کے ساتھ حکمت عملی سے کام کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اسکے باوجود اگر مطلوبہ کامےابی حاصل نہ ہوئی تو صدر ٹرمپ ہر ضروری اقدام کرنے کےلئے تیار ہیں ۔ اسی دوران پاکستان کے وزیر خارجہ نے اشنگٹن میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور واضح ، غیر متزلزل اور مدلل انداز میں پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی ۔ وزیر خارجہ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ دہشتگردوں کی معاونت کے بارے میں لگائے گئے الزام بالکل کھوکھلے اور ناقابل قبول ہیں ۔امریکہ کو اپنے70سال پرانے دوست کے ساتھ ایسے بات نہیں کرنی چاہیئے ۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں امریکی عالمی میڈیا کو بریفنگ کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور اگر امریکہ کو واقعی شبہ ہے کہ پاکستان دہشتگردی کو فروغ دے رہاہے تو اس کے ثبوت سامنے لائے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے رواں ماہ دورہ پاکستان کے موقع پر ان سارے معاملات کو واضح کیا جائے گا تاکہ امریکی انتظامیہ پر یہ بات عیاں کردی جائے کہ بازو مروڑ کر پاکستان کو امریکی مطا لبات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔
پاکستان کی ایران، ترکی، چین اور روس سے قربت اور پاک افغان پالیسی پر مضبوط موقف نے خطے کی صورتحال کو بدل دیا ہے ۔ اس سے یہ پیغام بھی دنیا کو مل رہا ہے کہ پاکستان کسی مخصوص پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی کسی مذموم مقاصد کےلئے کسی کا آلہ کار بننے کو تیار ہے۔ پاکستان ایک مضبوط خود مختار و باوقار ریاست ہے جو کسی سے ڈکٹیشن لے کر اپنے فیصلے نہیں کرتی بلکہ قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر کرتی ہے۔ پاکستان نے اپنے ہمسایہ ممالک سے روابط اچھے رکھنے کےلئے ہمیشہ پیشقدمی کی ہے۔ امریکی صدر کی ہرزہ سرائیوں کے بعد پاکستان کے آرمی چیف کا حالیہ دورہ افغانستان اس حوالے سے بہت اہم رہا کہ اب دنیا یہ نہیں کہہ سکتی کہ پاکستان نے خطے میں امن کےلئے تعاون نہیں کیا ۔ پاکستان نے دہشتگردوں سے نمٹنے کےلئے ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ لیکن ساتھ ہی یہ امریکہ پر واضح کردیا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تعاون تو کرے گا لیکن امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان کے ساتھ امریکی مقاصد کی جنگ ہرگز نہیں لڑے گا ۔
دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس سے پاکستان ایران کے باہمی روابط بہتر ہونگے اور باہمی تعاون کے فروغ ،اقتصادی ،سیاسی اور مذہبی تعلقات کو بہتر بنایا جائے گا ۔پاکستان اور روس میں مشترکہ جنگی مشقیں جن کو دوستی 2017 کا نام دیا گیا 24 ستمبر سے 4 اکتوبر تک دو ہفتہ جاری رہیں ۔۔۔ ان مشقوں کا مقصد پاکستان او ر روس کے درمیان فوجیوں کی پیشہ ورانہ تجربات کا اشتراک کرنے کے ساتھ فوجی تعاون کو مضبوط بنانا ہے ۔خطے کے تناظر میں یہ فوجی مشقیں غیر معمولی ہیں ۔ پچھلے تجربات سے بات سمجھ آ چکی ہے کہ خفیہ طاقتیں کیا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں۔ پاکستان اور دیگر مشرقی ممالک آنے والے خطرناک اور بدترین حالات کرنے کی بےرونی خفیہ طاقتوں کے عزائم دےکھتے ہوئے اکتوبر کے مہینے مےں چین روس اور پاکستانی فوجی مشقوں کابھی اعلان کردیا گیا ہے۔ ےہ دنیا کےلئے پےغام ہے کہ پر امن عوام کو ےرغمال بنا کر نقصان پہنچانے اور وسائل تباہ کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کی جائے گی۔
عین انہیں مشقوں کے دوران اسلام آباد پر خفیہ طاقتوں کی جانب سے داعش کے پرچم” لہروا “کر خفیہ طاقتوں کی طرف سے ےہ پےغام بھی دے دیاگیا ہے کہ پاکستانی عوام تیار رہیں کہ مذموم مقاصد کے حصول مےں کامیابی نہ ہونے کی صورت مےں جب پاکستان مےں ےہ خفیہ قوتیں کارروائیاں کرےں اور امن کو خواب کیا جائے تو اسکو داعش کی کارروائیاں سمجھا جائے۔
آرمی چیف نے اپنے پےغام اور ڈی جی آئی اےس پی آر نے اپنی بریفنگ مےں پاکستان کی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات کی طرف اشارہ بھی دے دیا ہے۔ فوج کے ترجمان نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ چار غیر ملکی ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بڑا منصوبہ بنا نے میں مصروف ہیں ۔ڈیورنڈ لائن اور اےل اوسی کی صورتحال سب کے سامنے ہے بھارتی سیکورٹی فورسز مسلسل اشتعال انگےزی مےں مصروف ہےں۔ دےہات اور عوام کو نشانہ بناےا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں مےں اس صورتحال مےں اضافہ ہونے کے بھی آثار ہےں۔ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے اور سی پیک کی تکمیل میں رخنہ ڈالنے کےلئے بھارت کی سیاسی و فوجی قیادت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کا اظہار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ بھارت تو سی پیک منصوبے کے خلاف تھا ہی اب اس نے امریکہ کو بھی اپنا ہم خیال و ہم زبان بنا لیا ہے ۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں پاکستان کے حوالے سے خاص طور پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا جو حصہ پاکستان میں تعمیر ہو رہا ہے وہ متنازعہ علاقوں سے گزرتا ہے اوراس منصوبے کا متنازعہ علاقوں سے گزرنا اس پرسوالا ت پیدا کرتا ہے ۔ بھارت کے افغانستان میںکردار سے خوش امریکہ نے دراصل بھارتی موقف کی ترجمانی کردی ہے ۔ابتدا میں امریکہ کو اس منصوبے میں کوئی اعتراض نہ ہوا لیکن اب اچانک اس میں نادیدہ سقم اور کیڑے دکھائی دینے لگے ہیں جبکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر چیں کے ساتھ تعاون کے سمجھوتوں پر70 ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اسلامی کونسل نے اس کو اپنی اہم قرار دادوں میں شامل کیا ہے ۔ چین نے امریکی اعتراص کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور واضح کردیا ہے کی اقتصادی راہ داری کا یہ منصوبہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس حوالے سے امریکی حکام کے متنازعہ بیانات خطے میں تقسیم کی وجہ بنیں گے جو خطے کےلئے کسی طور مناسب نہیں ہوگا ۔بھارت کو بھی ابتدا میں اس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن بھارت نے شروع سے ہی اس کے خلاف زہر فشانی کی اور اب اچانک امریکہ کو بھی اعتراض ہوگیا ۔اسکی ایک وجہ تو بھارت نوازی ہے دوسری یہ کہ تین براعظموں مربوط کرتے اس منصوبے میں مریکہ کو اپنا کوئی مفاد نظر نہیں آتا اور پھر چین کی اس میں کلیدی حیثیت بھی امریکہ کےلئے کافی درد شکم کا باعث ہے ۔اس لئے اسکی مخالفت شروع کردی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اگست سے اب تک پاکستان پر سارا دباﺅ جو ڈالا گیا وہ اقتصادی راہداری کے منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کی ابتدائی تیاری تھی ۔یہ دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کےلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھنے والے اس منصوبے کی مخالفت کےلئے امریکہ کسی بھی حد تک جائے گا جبکہ اس منصوبے کی تکمیل پاکستان کےلئے بے حد اہمیت اختیار کر چکی ہے ۔اور اس سلسلے میں قومی یک جہتی کی بے حد ضرورت ہے ۔ہمیںسیاسی اختلافات کو پس پشت رکھ کر قومی مفاد کےلئے متحد ہونا ہوگا ۔اداروں میں مربوط قومی روابط ،عوامی سطح پر پر طرح کے نظریاتی ،مذہبی و فرقہ وارانہ ا ختلافات کو ایک طرف رکھ کر ایک ہونے کی ضرورت ہے ۔ چونکہ اس وقت پاکستان اندرونی و بےرونی محاذپر نبرد آزما ہے۔ اس موقع پر ہم کومن حیث القوم متحد ہونا چاہیے ۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنی کمزوریوں کو کسی صورت دشمن کا آلہ کار بننے کا موقع نہیں دینا چاہیے تاکہ ڈو مور کی گردان الاپنے کےلئے آنے والے امریکی حکام کو یہ بہت اچھی باور کرا یا جا سکے کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کے فیصلے کرے گا نہ کہ کسی کے دباﺅ یا حکم پر ۔
٭٭٭٭٭

تبصرے