Urdu News and Media Website

چوٹ لگنے کے بعد ہی کیوں

تحریر:عتیق الرحمان خاں

آج بڑی مدت کے بعد ٹائم ملا تھا کہ دوستوں کے ساتھ ملکر کچھ وقت گزارہ جائے جب سے پریکٹیکل لائف میں قدم رکھا تھا زندگی کا مزاج ہی بدل گیا ہے۔کئی کئی ہفتے سیر سپاٹوں میں گزار دینے والوں کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ اپنی زندگی کے بہترین ایام کو انجوائے کر سکیںمگر آج کا دن ہر صورت میں اپنے لئے گزارنے کا دوستوں میں طے پایا تھا تاکہ بیتے دنوں کی خوبصورت یادوں کو تازہ کیا جا سکے طے شدہ وقت کے مطابق سب دوست ایک جگہ اکٹھے ہو گئے تو فیصلہ ہوا کہ سب سے پہلے بازار کا رخ کیا جائے،کھانے کیلئے بھی ٹیبل کی بکنگ کروا دی گئی تھی،بازارمیں داخل ہوئے تو گزرے ہوئے طالب علمی کے ایام ایک دم سے کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھوم گئے،سب ان گزرے ہوئے ایام کو یاد کر کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرکے اس بات چیت میں حصہ ڈال رہے تھے کہ ایک شور بلند ہوا اور وہ سب سپنے ایک دم سے خواب کی طرح آنکھوں سے اوجل ہو گئے،اس بڑھتے ہوئے شور نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھاہر کوئی ناچاہتے ہوئے بھی اس شور کی طرف لپکا،عمارت سے دھواں بلند ہو رہا تھااور عمارت کے اندر بچوں اور عورتوں کی چیخوں پکار کی وجہ سے کانوں پڑی آوازکی سمجھ نہیں آرہی تھی ہر کوئی بے بسی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہا تھادیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلوں نے بلڈنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جہاں مائیں دیوانہ وار اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہیں تھیں تو وہاں والد کی پریشانی اور بھاگ دوڑ کا بھی عجیب منظر آنکھوں کے سامنے تھا،سب دوست بھی عمارت میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کیلئے آگے بڑھے تو اس وقت ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ بلڈنگ میں داخل ہونے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور اس پر آگ اور دھویں نے اپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں اور کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے اس بلڈنگ میں داخل ہوا جاسکے۔اس بات کا علم ہوتے ہی سب ایک دوسرے کامنہ تکتے ہوئے بے ساختہ یک زبان بولے کہ یار حد ہے کہ اتنی بڑی اور اہم عمارت ہے اور یہاں پر کوئی ایمرجنسی ایگزٹ ہی نہیں ہے جب یہ بلڈنگ بنی تو اس کو پاس کس طرح کر دیا گیا اور یہ اتنا بڑا رسک آخر کس نے اور کس وجہ سے لیا لیکن فورا ہی جواب بھی مل گیا کہ یار اس ملک میں کوئی کامشکل نہیں بس پیسہ پھینک تماشہ دیکھ،لیکن یہ وقت ایسی فضول بحث میں پڑنے کا نہیں تھا ریسکیووالوں کو فون کیا تو جواب ملا کہ آپ سے پہلے اس آگ کی اطلاع کوئی اور بھی کر چکا ہے اس لئے 1122کی امدادی ٹیمیں روانہ ہو چکیں ہیں اور کچھ ہی دیر میں آپ کے پاس پہنچ جائیں گی۔لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بہت سے لوگوں کو باہر نکال بھی لیا تھا مگر اس کے باوجود ابھی تک لوگوں کی بڑی تعدادعمارت کے اندر موجود تھی خاص طور پر دوکاندار اپنی زندگی بھر کی پونجی کو ہر صورت میں بچانے کیلئے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اس خطرناک آگ میں موجود تھے اور لوگوں کو مدد کیلئے پکار رہے تھے ہر کوئی بے بسی کی تصویر بنا ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا تھاآگ تھی کے بھجنا تو دور کی بات ہر لمحہ تیزی سے بڑھتی ہی جارہی تھی بے چینی کے عالم میں ہر کسی کی نظریں اس طرف لگی ہوئی تھیں جس طرف سے فائر برگیڈ کی گاڑی نے آنا تھا مگر انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیںفائر برگیڈ کا راہ تکتے تکتے آنکھیں پتھرا گئیں تھیںغصے کے عالم میں پھر 1122کو کال ملائی تو جواب ملا کہ سر گاڑیاں تو اسی وقت کی نکل چکیں ہیں مگر روڈ بلاک ہونے کیوجہ سے وہ ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہیں اور ان کو جائے وقوع پر پہنچنے میں تاخیر ہو رہے ہے۔روڈ بلاک کا لفظ سنتے ہی فورا یاد آگیا کہ ہم خود بھی تو کئی راستے بدل کر یہاں تک پہنچے تھے کیونکہ مظاہرین نے اپنے مطالبات کومنوانے کیلئے روڈ کو بلاک کیا ہوا تھایہ کوئی نئی بات نہیں تھی اس لئے بس ایک دوسرے کو کوسنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھااب یہاں تک پہنچنے کا راستہ بچا تھا تو بس ایک ہی تھا کہ ایمبولینس اور فائر برگیڈ کی گاڑیاں صرف میٹرو ٹریک کو استعمال کر لیں تو وہ با آسانی یہاں تک پہنچ سکتیں تھیں مگر آج تک اس بارے میں تو کسی نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اگر میٹرو کے ٹریک کو ایمرجنسی کے طور پر استعمال کر لیا جائے تو کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوگی کیونکہ اسلام بھی یہاں تک اجازت ہے کہ اگر آپ قریب المرگ ہو جائیں تو آپ بہت سی ایسی چیزیں استعمال کر سکتے ہیں جو کہ عام زندگی میں آپ پر حرام قرار دی گئی ہیںمگر یہاں اس بارے میں آج تک سوچا ہی نہیں گیا۔اس لیے قانون آڑے آ رہا ہوگامگر خوش قسمتی سے دوسری طرف کی ایمبولینسز اور فائر برگیڈ کی گاڑیاں گلیوں سے ہوتی ہوئیں موقع پر پہنچ گئیں مگران کے پہنچنے سے پہلے آگ نے پوری طرح بلڈنگ کو اپنی لپٹ میں لے لیا تھالیکن فائر فائٹر کی اعلی مہارت نے اس آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر مالی نقصان کا تخمینہ کروڑوں میں تھا دکانداروں پر غشی طاری تھی کہ ان کی عمر بھر کی پونجی ان کی آنکھوں کے سامنے جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکی تھی ۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہماری روز مرہ کی زندگی ایسے درجنوں واقعات سے بھری پڑی ہے جب کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس وقت ہم بہت جذباتی ہوتے ہیں کہ کل نہیں آج سے ہی ہم نے ایسے اقدامات کرنے ہیں کہ جس سے مستقبل میں ایسے بھیانک حادثے سے بچا جا سکے گا مگر پھر چند دن گزرنے کے بعد یہ جذبہ ماضی کا قصہ بن جاتا ہے۔میٹرو ٹریک کو اگر ایمبولینس کے لئے کھول دیا جائے تو بہت سی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے اور خاص طور پر وہ مریض جن کو دوسرے شہروں سے ہیڈ انجری کی وجہ سے جنرل ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے اور وہ عموما شہر کے رش میں ہوٹر بجاتی ایمبولینسز میں دم توڑ جاتے ہیں ان کو بچایا جا سکتا ہے حکومت کو اس بارے میں کوئی نہ کوئی سنجیدہ قدم اٹھانا ہو گا وگرنہ چوٹ لگنے کے بعد افسوس کرنا جانے والی جانوں کے کسی کام نہیں آئے گا

تبصرے