Urdu News and Media Website

چناب نگر: سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملکی سلامتی کی رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر

لاہور(نیوزنامہ)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملکی سلامتی کی رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور دینی تعلیمات و اسلامی اقدار اور علماء کرام کو دیوار سے لگانے کی سازشیں امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ امتناع قادیانیت ایکٹ کی روشنی میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے استعمال سے منع کیا جائے۔ حکومت اپنے کئے گئے وعدہ کے مطابق قادیانیوں کے متعلق 7بی اور 7سی کو سابقہ حالت پر بحال کرے۔  مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک قادیانی کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اس وقت تک ملک میں امن قائم ہونا ناممکن ہے لہٰذا  تمام کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ چند ٹکٹوں کے عوض مسئلہ ختم نبوت شب خون مارنے والے اور ناموس رسالت کا سودا کرنے والے حکمرانوں کو نمرود اور فرعون کا انجام بد بھی یاد رکھنا چاہئے۔ اسلامیان پاکستان کسی صورت میں بھی آنے والے الیکشن میں قادیانیت نواز امیدواروں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ شرکاء کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ قادیانی تخریب کا ر ادارے اور عسکریت پسند تنظیمیں خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ ، لجنہ اماء اللہ اور تنظیم اطفال الاحمدیہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت نائب مرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد و پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی، خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد، ٹیکسلا، مولانا سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد، مولانا محب اﷲ لورالائی، مولانا عبدالغفور ٹیکسلا اور مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی بیر شریف نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن ، معروف روحانی شخصیت اور ممتاز عالم دین مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی، جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلی مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد سلمان بنوری، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد اعجاز مصطفی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی راشد مدنی، جمعیت اہلحدیث کے انجینئر ابتسام الٰہی ظہیر، ضیاء اللہ شاہ بخاری کے علاوہ، صاحبزادہ مولانا محمد زکریا شاہ، پشاور کے ممتاز عالم دین مولانامفتی شہاب الدین پوپلزئی، پیر عزیز الرحمن ہزاوری، بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد، جمعیت علماء پاکستان  کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، مولانا عبدالشکور رضوی، مولانا محمد ایوب ڈسکہ، مولانا مظہر اسعدی، مولانا فضل الرحمن درخواستی، مولانا محمد یوسف خان، مولانا نعیم الدین لاہور، قاری محمد عثمان مالکی ، سید سلمان گیلانی سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ختم نبوت کا دشمن اس تاک میں بیٹھا کہ وہ کس طرح اسلامی شعائر اور ہمارے عقائد پر حملہ آور ہو مسیلمہ کذاب سے لیکر مرزا قادیانی تک قصر نبوت میں ڈاکہ زنی کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں مجاہدین ختم نبوت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے تحفظ ناموس رسالت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔ قوانین ختم نبوت قانون توہین رسالت کے خلاف سازشیں قادیانی و استعماری ایجنڈا ہے۔ قادیانیت کے متعلق غیر مسلم اقلیت کے قوانین کو ختم نبوت کرنے والوں کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور کیا جائے گا۔ ہمیں اتحاد و یگانگت سے غداران ختم نبوت اور اسلام دشمن عناصر کا جرأت مندی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ 1974ء میں ہمارے پارلیمانی لیڈروں نے دلائل کے ساتھ قادیانیوں کو چاروں شانے چت کیا اور اب بھی 7بی اور7سی کو سابقہ حالت پر بحال کرانا جمعیت علماء اسلام کی پر امن جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی نے کہا کہ مرزاقادیانی کی کتابیں کذب و افتراء، تحریف و الحاداور تضادات کا مجموعہ ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی تحریروں کی رو سے نارمل اور شریف انسان ثابت نہیں ہوتا۔ عقیدہ ختم نبوت روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ ایمان کے تحفظ کا آزمودہ نسخہ صلحاء اور اہل حق سے روحانی و اصلاحی تعلق جوڑنا ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا مجاہدین ختم نبوت اور اراکین پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے ملکی سلامتی و استحکام کے لئے ضروری ہے کہ دوہری شہریت اور گرین کارڈ کے حامل قادیانی افراد پر کڑی نظر رکھی جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہمارے تمام عقائد و اعمال کی بنیاد ختم نبوت کا عقیدہ ہے۔ ہم قرآن سنت اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ناموس رسالت پر جان دینے کو سعادت دارین یقین کرتے ہیں۔ اسلام دشمن قوتیں توحید و سنت کے پروانوں کو منتشر کرنے کی سازشیں کر رہی ہے۔ ہمارے عقائد تہذیب اور ہمارے تعلیمی اداروں کو اغیار کے تابع کیا جارہا ہے۔ ممتاز قادری کو پھانسی دینے کا حکومتی فیصلہ امت مسلمہ کے جذبات کے خلاف تھا۔ حکمران مغربی آقاؤں کی خوش نودی کے لئے آسیہ ملعونہ کی پھانسی میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤںمولانا عزیز الرحمن جالندھری  نے کہا کہ علماء کرام اور اسلامیان پاکستان تحفظ ختم نبوت اور دفاع ناموس رسالت کے مقدس مشن کی آبیاری کودنیا و آخرت کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ آج پوری قوم افواج پاکستان کی قومی و ملی خدمات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ افواج پاکستان ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی چوکیداری کر رہی ہیں۔ اور دینی مدارس ،ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ مولانا ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا جانے دینے کا فیصلہ صرف علماء کرام اور مفتیان عظام کا نہیں تھا بلکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سیشن کورٹوں ، ہائیکورٹوں ، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے لے کر کینیا، رابطہ عالم اسلامی ، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے بھی قادیانیوں کے کفر و ارتداد پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے عوض قادیانیوں کو ڈالر اور پونڈ ملتے ہیں فرضی رپورٹوں کے بدلے یورپی ممالک کے ویزوں کی قادیانیوں کے لئے انعامی سکیم نکلی ہوئی ہے مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ قادیانی بیورو کریٹس ملک کے اسلامی و نظریاتی تشخص کو ختم کر کے سیکولر سٹیٹ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، قانون تحفظ ناموس رسالت ختم کرنے کی سازشیں کی جاری ہیں۔ جمعیت علماء پاکستان کے صدر مولانا ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ معروضی حالات کے پیش نظر ہمیں  خطر ناک عزائم کا ادراک کرنا ہوگا۔ پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی بدولت دین کے تمام شعبے مکمل طور پر میسر آئے، ایمانیات، عبادات، اخلاقیات، معاملات اور معاشرے کے تمام سلسلے کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر قائم ہے۔ ختم نبوت پر ایمان کے بغیر کوئی عبادت بھی بارگاہ ایزدی میں درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتی۔ مولانا مظہر اسعدی  نے کہا کہ قادیانی دجل و فریب کے ذریعے ختم نبوت کے معانی و مطالب میں تحریف و تکذیب کر کے نو خیز نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے مخالفین کو زندگی بھر گالیاں دیتا رہا۔ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، ہم اپنی جانوں پر کھیل کر اسلام اور پاکستان کا تحفظ کریں گے۔ قادیانیوں کے اکھنڈ بھارت کے نظریات کے دستاویزی ثبوت ریکارڈپر ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مشترکہ پلیٹ فارم پاکستان کے استحکام اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بغیر لوٹ مار اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ ہم ۱۹۷۳ء کے آئین کے دفاع کی جنگ لڑ کے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ مولانا محمد ایوب  نے کہا کہ میڈیا اسلام مخالف قوتوں کو اہمیت دیتا ہے اور دینی جماعتوں کے مذہبی اور غیر متنازعہ پروگراموں کی لائیوکوریج کرنے میں جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلے قادیانیوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور آئین کا عالمی سطح پر مذاق اڑایا۔ قادیانی میڈیا عالمی سطح پرویزوں کے حصول کے لئے اسلام اور پاکستان کے خلاف زاور ہے۔مولانا مفتی خالد محمود  نے کہا کہ ختم نبوت کی پاسبانی کرنے والوں پر اللہ تعالی کی خاص رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ختم نبوت اور اعمال صالحہ ایسے چراغ ہیں کہ جن کی بدولت قیامت تک اسلام کی شان و شوکت باقی رہے گی ۔مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان سے آمد ثانی کا مسئلہ بھی ضروریات دین میں. شامل ہے۔مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعوی جھوٹ کا پلندہ اور دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا کہ عقیدہ توحید اور ناموس صحابہ کرام و اہل بیت کا دفاع کرنا گواہان نبوت کا دفاع کرنا ہے عقیدہ توحید کا تحفظ بھی عقیدہ ختم نبوت میں مضمر ہے عقائد کے بغیر اعمال رائیگاں ہیں۔ اسلام کے پانچ ارکان اور تمام اسلامی علوم و معارف کا تعلق حضرت محمدﷺ کے اعمال اور افعال سے ہے لیکن تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے مسئلے کا تعلق حضور ﷺ کی ذات سے ہے، مولانا محمد اعجاز مصطفی نے کہا کہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کا دعوی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ مخبر صادق نے خبر دی ہے کہ میرے بعد تیس دجال اور کذاب نبوت کا دعوی کریں گے ان کا یقین نہ کرنا میں تمام نبیوں میں سے آخری نبی ہوں۔ میرے بعد  نبوت ممنوع و منقطع ہے قبل ازیں کانفرنس کی مختلف نشستوں سے مولانا محمد عابد، میاں محمد اجمل قادری، مولانا عبدالرؤف چشتی ، سید محمد کفیل شاہ بخاری، مولانا محمود الحسن کشمیری، مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا قاضی مشتاق احمد راولپنڈی، مولانا توصیف احمد، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مفتی محمد خالد میر، مولانارضوان عزیز ، مولانا نور محمد ہزاروی ، قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا علیم الدین شاکر ، مولانا محمد عابد کمال، مولانا شاہد عمران عارفی، مولانا محمد قاسم گجر، حافظ محمد شریف منچن آبادی ، امین برادران، طاہر بلال چشتی،مولانا تجمل حسین، مولانا مختار احمد، قاری احسان اللہ فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے تحفظ کے ساتھ ملک کے دفاع کا فریضہ بھی ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں اسلام کا علم اور پاکستان کا پرچم بلند رکھنا ہوگا۔ مولانا میاں محمد اجمل قادری، نے کہ ظفر اللہ قادیانی وزارت خارجہ کے عہدہ پرمتمکن ہونے کے باوجود قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھا،  مولانا مفتی محمد راشد نے کہا کہ قادیانی گروہ اپنے اکھنڈ بھارت کے الہامی عقیدہ پر قائم ہے اور تحریک پاکستان میں قادیانیوں نے منافقانہ کردار ادا کیا ۔ قادیانی تعلیمی اداروں میں مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو قتل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنے نوجوانوں کو مسلمانوں کے قتل پر برانگیختہ کرتے ہیں مولانارضوان عزیز نے کہا کہ دنیا میں دو قسم کے طبقات موجود ہیں ایک ریگولر اور دوسرا سیکولر، قادیانی اپنے افعال و کردار سے نہ ہوتو ریگولر میں شمار ہوتے ہیں نہ ہی سیکولر میں۔مولانا عبدالرشید رضوی نے کہا کہ قادیانی پوری دنیا میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے تمام ستونوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور تہذیبوں کے درمیان نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ سید کفیل شاہ بخاری نے کہا کہ اکابرین ختم نبوت کی دینی و ملی جدوجہد تاریخ کا درخشندہ باب ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہمیشہ دینی حمیت قومی غیرت اورملک و ملت کو خوشحال کرنے اور جارحانہ پالیسوں سے دور ،رہ کر ملک کو امن کا گہوارہ بنایا ۔ قادیانی اپنی لئے قانونی حیثیت تسلیم کر لیں اور قانون سے بغاوت کا رویہ ترک کر دیں اقلیت میں رہتے ہوئے اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا نے سے گریز کریں۔جناب شرجیل  نے کہاکہ مغربی ممالک اور افریقی ریاستوں میں قادیانی گروہ کی کفریہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک وسیع اور مضبوط پلیٹ فارم اور متحرک اور باصلاحیت رجال کار تیار کرنا ہوں گے۔ قادیانی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات اور اسلامی شعائر کا استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنایا جائے۔مولانا نور محمد ہزاروی نے کہا کہ شدت پسند قادیانی آئین پاکستان کی روشنی میں اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے کی بجائے حربی باغیوں کا کردار اپنایا ہوا ہے اس لیے وہ اب بھی توہین آمیز کتب،اسلام کش جرائد و رسائل کی ترسیل و سپلائی کا غیرقانونی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔مولانا علیم الدین شاکر نے کہا بیرون ممالک اور میڈیا پر مظلومیت کا جھوٹا واویلا، مغربی مراعات حاصل کرنے والے قادیانیوں کے خلاف عدالتی کاروائی عمل میں لائی جائے۔مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے کہاکہ قادیانی عناصر ملک پاکستان میں رہائش اور شہریت رکھنے ،کاروبار اور ملازمتیں اختیار کرنے مظلومیت کے درپردہ مراعات حاصل کرنے کے باوجود ملک پاکستان اور مسلمانوں کی کردار کشی کرنے کے شرمناک عمل میں مصروف ہیں۔مولانا اﷲ وسایا نے کہا کہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے دفاع کے لیے خانقاہوں کے روحانی اثرات اور عملی کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ منکرین ختم نبوت اور گستاخان رسول اپنے عقل و خرد سے عاری دائرہ اسلام سے خارج اور نائٹ کلبوں کی پیداوار ہیں۔ گستاخان رسول سے عداوت رکھنا اور اظہار نفرت کرنا ایمان کی علامت اور دینی حمیت اور غیرت کا تقاضا ہے۔مولانا اعزالحق نقشبندی نے کہا کہ قادیانی طبقہ نے جس دجل وفریب کے اسلام کے افکار ونظریات اور نجات دہندہ تعلیمات کو اپنی ہوس اور ارتدادی خیالات سے مسخ کیا۔مسلیمہ کذاب کے دور میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔

آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی منظور شدہ قرار دادیں

٭… ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا یہ عظیم اجتماع صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے قادیانیوں کے متعلق وضاحتی بیان کو ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کا مصداق قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ صوبائی وزیر قانون پاکستانی قوانین سے نابلدہیں کیونکہ قادیانی قرآن وسنت، اجماع امت اور1973ء کے آئین کی رو سے دائرہء اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ انہیں مسلمان قرار دینا آئین سے بغاوت کے مترادف ہے۔ لہٰذا جب تک اپنے بیان کو علی الاعلان واپس نہیں لیتے انہیں آئینی عہدہ سے چمٹے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ لہٰذا ان سے وزارت قانون کا قلمدان واپس لیا جائے۔٭… پچھلے دنوں ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ختم نبوت کے بیان، لٹریچر، اشتہاراور اسٹیکرز لگانے پر لاہور میں ایک ماہ کے لئے پابندی عائد کر دی۔ جو سراسر قادیانیت نوازی ہے۔ لہٰذا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ نوٹیفیکیشن واپس لیا جائے۔ کیونکہ قادیانی آئین و قانون کی رو سے کافر ہیں اور انہیں کافر کہنا آئینی طور پر کوئی جرم نہیں۔ لہٰذا یہ آرڈر واپس لیا جائے۔٭… انتخابی اصلاحات کی آڑ میں حلفیہ بیان کو حذف کرنا اور پھر اس کو واپس لینا۔ یہ اجلاس اس حلفیہ بیان کو واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بد باطن ایسی جرأت نہ کرسکے۔٭… فوج کا ماٹو جہاد ہے۔ جبکہ قادیانی جہاد اسلامی کے منکر ہیں۔ لہٰذا آئندہ انہیں فوج میں کمیشن نہ دیا جائے۔٭… ملک بھر کے تمام محکموں میں قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔٭… عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’’36ویں آل پاکستان دوروزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس‘‘ چناب نگر کا یہ عظیم الشان اجتماع اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے تمام مدعووین و مندوبین اور شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ کہ آپ حضرات کی تشریف آوری سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔٭… یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ارتداد کی شرعی سزا نافذ کا اجراء اور نفاذ کیا جائے۔اور دیگر اقلیتوں کے اوقاف کی طرح قادیانی اوقاف بھی تحویل میں لیا جائے۔ ٭… قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنے سول کورٹ ۔ سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ قائم کئے ہوئے ہیں جو سٹیٹ اندر سٹیٹ کے مترادف ہے۔ لہذاچناب نگر میں سرکاری رٹ کو قائم کرتے ہوئے انہیں ملکی قانون کا پابند کیا جائے اور چناب نگر میں سیکورٹی کے نام پر قادیانیوں کی غنڈہ گردی اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے عمل کا نوٹس لیا جائے۔ ٭… ملک بھر کی عسکری تنظیموں پر پابندی ہے لیکن قادیانیوں کی تربیت یا فتہ مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ کو کھلی چھٹی دی جا چکی ہے۔ دیگر عسکری تنظیموں کی طرح قادیانیوں کی مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ پرپابندی عائد کی جائے اور اس کے اثاثے بحق سرکارضبط کئے جائیں۔٭… کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کے حالات وواقعات پر ریلیز ہونے والی فلموں پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔٭… ہماری معلومات کے مطابق قومی اسمبلی میں منظور ہونے کے باوجود بھی ابھی تک الیکشن کمیشن کی ویب سائیڈ پر موجود الیکشن بل 2017ء کے ڈاکومنٹس میں موجود فارم A میں اقرار کا لفظ بدستور موجود ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فارم Aفی الفور اقرار کی جگہ لفظ حلف لکھا جائے۔ ذمہ داروں کا تعین کرنے والی کمیٹی کی … پر جن عناصر بھی یہ شب خون مارا انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ٭… کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ چناب نگر کے باسیوں کو بلا استثناء مالکانہ حقوق دئیے جائیں۔٭… عدلیہ کے فیصلے اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے ارشادات کی روشنی میں گوہر شاہی ایک گستاخ رسول تھا۔ اس کو سزا ہوئی اور اس کی جماعت انجمن سرفروشان اسلام اور مہدی فاؤنڈیشن اس کے باطل نظریات کو چلا کر ارتدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ان پر فی الفور پابندی لگائی جائے اور فیصل آباد میں لاثانی سرکار کے کفریہ عقائد و لٹریچر کی روک تھام کی جائے۔ ٭… کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کے حالات وواقعات پر ریلیز ہونے والی فلموں پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔٭… کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کیا جائے، تاکہ عوام الناس کو مسلم اور غیر مسلم کی پہچان میں آسانی ہو۔٭… یہ اجتماع سانحہ کوئٹہ اور دہشت گردی سے متاثر افراد سے اظہار ہمدری کرتے ہوئے شہدائے کے لئے دعا مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتا ہے۔ اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک بھر میں اسلام و ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔  ٭… یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیت کے متعلق آئینی ترامیم 7بی اور 7سی کو سابقہ حالت پر بحال کیا جائے۔ اسے ختم کرنے والی لابی کا تعین کرکے ذمہ داران کے خلاف آئین پاکستان سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔٭… یہ اجلاس حکومت پاکستان و آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے حوالہ سے بھی وہاں کے عبوری آئین 1974ء اور اس کے ذیلی قوانین میں پاکستان کی طرح عقیدہ ختم نبوت کو تحفظ مہیا کرنے کی خاطر آزاد کشمیر کی حدود میں بھی حلف نامہ ختم نبوت برائے ووٹر لسٹ و نامزدگی فارمز برائے امیدواران میں شامل کیا جائے۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی جھلکیاں٭… قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کو ختم نبوت زندہ باد کے نعروں کی گونج میں اسٹیج پر لایا گیا۔٭… کانفرنس کے چاروں اطراف کو پولیس اہلکاروں اور انٹیلی جینس حکام نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا جب کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار بکثرت موجود تھے۔٭… کانفرنس میں گزشتہ سالوں کی نسبت امسال بکثرت حاضری رہی۔ پنڈال میں ہجوم زیادہ ہونے پر اکثر شرکاء کو کھڑے ہوکر کانفرنس سماعت کرنا پڑی۔٭… 20 / اکتوبر کی صبح کوجامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑپکا کے شیخ الحدیث مولانامنیر احمد منورنے منفرد اور ممتاز انداز میں درس قرآن ارشاد فرمایا جو کہ سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سماعت کیا۔٭… سیکورٹی پر مورچہ زن رضا کاران ختم نبوت شرکاء کے ساتھ مثالی ڈسپلن، اپنائیت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے رہے۔٭… سیکورٹی پلان کے انچارج جناب عبدالرؤف روفی آف مانسہرہ اور دارالقرآن فیصل آباد کے حضرت مولانا غلام فرید تھے۔ ٭… مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے پشتو زبان میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر مسحور کن بیان کیا جو کہ سامعین نے بہت پسند کیا۔  اور شرکاء سے خوب داد تحسین وصول کی۔٭… کانفرنس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت کے علاوہ عقیدہ توحید، عظمت صحابہؓ، اہل بیتؓ اور حیات عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا مہدی علیہ الرضوان، اصلاح معاشرہ اور استحکام پاکستان کے موضوعات پر بھی خطابات ہوتے رہے۔ بعض مقررین ملک کی موجودہ صورت حال پر بھی گفتگو کرتے رہے۔٭… کانفرنس میں شہدائے ختم نبوت کے جرأت مندانہ کردار کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور تحریک ختم نبوت میں شامل تمام مکاتب فکر کے علماء کا تذکرہ خیر بھی ہوتارہا۔٭… کانفرنس میں مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی کے حفاظ اور متخصصین حضرات کی دستار بندی بھی عمل میں لائی گئی۔٭… کانفرنس کے پنڈال میں خطبہ جمعہ اور نماز کے فرائض خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمدنے سر انجام دیئے۔جبکہ جامع مسجد ختم نبوت میں مولانا غلام رسول دین پوری نے خطبہ جمعہ و نماز جمعہ پڑھائی۔٭…بجلی بحران کے باعث کانفرنس کے منتظمین نے متعدد پاور فل جنریٹروں کا انتظام کیا ہوا تھا۔ جو کہ آفتاب نیم روز کا کام دیتے رہے۔ ٭…کانفرنس کی مکمل کاروائی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی نشر ہوتی رہی۔ ٭… منتظمین نے شرکاء کانفرنس کے لئے خوراک، رہائشی کمروں، رہائشی کوارٹروں، چھول داریوں اور معلومات عامہ کے لئے تجربہ کار ٹیموں کی خدمات حاصل کیں۔ پنڈال سے چند میٹر کے فاصلے پر مسلم پارک میں خوردو نوش کا وسیع انتظام موجود تھا۔٭…شرکاء کانفرنس سے مولانا راشد مدنی نے متعدد قرار دادیں منظور کروائیں۔٭…ماہنامہ لولاک ملتان اور ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے سالانہ خریدار بننے کے لئے شرکاء کانفرنس قائم کردہ دفتر میں سالانہ رقوم جمع کرواتے رہے۔٭… معروف شاعروں اور نعت خوانوں کی طرف سے دربار رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کرنے پر سامعین کیف و سرور کی حالت میں جھومتے رہے اور شان رسالت زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے۔٭… کانفرنس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حوالہ سے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور امتناع قادیانیت ایکٹ کے نفاذ کے حوالہ سے صدر ضیاء الحق مرحوم کا تذکرہ خیر بھی ہوتا رہا۔

 

تبصرے