Urdu News and Media Website

  پیرس عرف گڑھو ں کا شہر

تحریر:محمد صفدر سکھیرا

پسماندہ علاقوں اور اکثر دیہات میں کوئی نئی عمارت بنی نظر آتی ہے تو جو چیز اس پر سب سے زیادہ واضح نظر آتی ہے وہ عمارت کے چاروںکونوں پر یا کسی ایک کونے پر ہانڈی الٹی رکھی نظر آتی ہے ،ان پسماندہ علاقوں کے باسیوں کے مطابق چاروں کونوں پر ہانڈی رکھنے سے نئی عمارت نظر بد سے بھی محفوظ رہتی ہے اور بد روحوں سے بھی۔ اسی طرح نئی گاڑی کے پیچھے جوتا باندھ دیا جاتا ہے،اس طرح کی ضیعف العتقادی پسماندہ علاقوں میں عام ہے مگر لگتا ہے کہ صوبائی حکومت ان پسماندہ علاقوں کے باسیوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے ، صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں کو نظر بد سے بچانے کے لیے جگہ جگہ گڑھے بنائے جاتے ہیں نتیجتاً شہریوں کو اپنے خون سے سڑکوں کی نظر اتارنی پڑتی ہے ،چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں تو پورے لاہور میں ایک بھی سڑک ایسی نہیں ملے گی جو گڑھوں اور کھڈوں سے پاک ہو۔صوبائی دارالحکومت کو پیرس بنانے کے دعویدار وں نے حادثات کا شہر بنا کر رکھ دیا ہے ،دو روز قبل ہی ایک صحافی دوست کی رات کے وقت آفس جاتے موٹر سائیکل گڑھے میں ٹکرانے سے بازو فریکچر ہو گیا،میٹروٹرین کے روٹ اور دیگر علاقوں جہاں ترقیاتی کام ہورہا ہے ان کا تو ذکر ہی نہیں ہے، شہر میں بننے والی نئی سڑکوں کا ذرا معائنہ کر کے دیکھیں ایک بھی مکمل طور پر ٹھیک نظر نہیں آئے گی،فیروزپور روڈ ہو یا جیل روڈ گاڑی اور موٹرسائیکل سوار مزے سے سگنل فری سڑک پر ڈرائیونگ کرتے جا رہے ہوتے ہیں پتہ اس وقت چلتا ہے جب اچانک بڑا سا گڑھا سامنے آجا تاہے اور اس کا پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے سب کو معلوم ہے، کئی افراد حادثے کا شکار ہو کر ہڈیاں تڑوا بیٹھتے ہیں ،اوپر سے فیروز پور روڈ اور جیل روڈ سگنل فری ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی سپیڈ بھی زیادہ ہوتی ہے،رہی سہی کسر میٹروبس کے ٹریک نے نکال دی ہے، چند چند گز کے فاصلے سے میٹروٹریک سے نیچے سڑک پر پانی مسلسل گر رہا ہو تا ہے کہتے ہیں قطرہ قطرہ پانی پتھر پر گرتا رہے تو وہ پتھر میں سوراخ کر دیتا ہے تو پھر میٹرو بس کے ایلیویٹڈ ٹریک سے مسلسل گرنے والا پانی سڑک کاکیا حال کرتا ہو گا،داتا دربار سے لے کر کنال تک سڑک کی تباہی کا ذمہ دار میٹرو بس کا ٹریک ہے جس سے صبح سے لے کر رات گیارہ بجے تک لگاتا ر پانی گرنے جگہ جگہ گڑھے پڑچکے ہیں ،ٹریک سے پانی کی نکاسی کی کیسی ناقص پلاننگ کی گئی ہے کہ پائپوں کی بجائے جگہ جگہ سے ٹریک لیک ہو رہا ہے ، میٹرو بس کے ٹریک سے گرنے والے پانی نے روڈ بھی تباہ کر دی ہے اور نیچے گرتے پانی سے بچنے کے لیے موٹرسائیکل سوارجیسے ہی اچانک رخ بدلتا ہے تو اکثر سائیڈ سے گزرنے والی دیگر گاڑیوں سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔راوی روڈکی طرف آجائیں لکڑ منڈی منڈی سٹاپ اور بتی چوک کے درمیان سڑک کے دونوں اطراف بڑے بڑے اور گہرے گڑھے ہیں جو حادثات کے ساتھ ساتھ گھنٹوںٹریفک جام کی وجہ بھی بن رہے ہیں مگر مجال ہے کہ ذمہ دار ان کے کانوں پر جوں تک بھی رینگے ،راوی پل پار کریں تو شاہدرہ میٹروبس سٹیشن کے سامنے ساری سڑک ہی ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے دریائے راوی کے پل سے لے کر شاہدرہ چوک کے قریب میٹروبس سٹیشن تک گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں ، یہی حال مال روڈ اور شہر کی دیگرسڑکوں کا ہے سب گڑھوں کی بھر مار ہے ،نئی بننے والی کار پٹڈ سڑکوں کے درمیان اچانک گڑھاآجا تا ہے جو اکثر شہریوں کا خون لے کر ہی جان چھوڑتا ہے،کمیشن مافیا کی ملی بھگت کے باعث نئی بننے والی سڑکیں تھوڑے عرصے بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر ان کی مرمت کے نام پر پھر سے کام شروع ہو جاتا ہے ،شائد ناقص میٹریل استعمال ہی اسی لیے کیا جاتا ہے کہ روڈ جلد ٹوٹ جائے اور مرمت کے نام پر مزید لوٹ مار کی جائے،اس سب کے ذمہ دار متعلقہ ادارے ہیں ،کچھ روڈز پر روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے سے یہ چیز مشاہدے میں آئی ہے کہ روڈز پر بننے والے گڑھے اور کھڈے ابتدا میں بہت چھوٹے ہوتے ہیںلیکن متعلقہ ادارے جان بو جھ کر نظرانداز کرتے ہیں اور جب یہ گڑھے اور کھڈے بہت بڑے ہو جاتے ہیں اور ھادثات کا باعث بننے لگتے ہیں تو پھر ذمہ دار ادارے بھی جاگ جا تے ہیں اور پیچ ورک شروع ہو جاتاہے ،پلاننگ نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں کبھی کوئی واسا والے روڈاکھاڑ کر چلے جاتے ہیں تو کبھی کوئی ادارہ نئی بننے والی سڑک کا ستیاناس کر کے چلتا بنتا ہے ،سڑکوں کی تباہی کو ذمہ داری سمجھ کراکھارنے والے مرمت کو گناہ سمجھتے ہیں۔آج کل سیف سٹی والوں نے شہر بھر کی سڑکوں کو اکھاڑ کے رکھ دیا ہے،اپنا کام کرنے کے بعد سرکوں کو اسی طرح ٹو ٹی پھوٹی حالت میں چھوڑ کر چلتے بنے ہیں ،سیف سٹی کے عملے کی طرف سے اکھاڈی گئی سڑکوں میں سے بہت کم کی مرمت ہوئی ہے زیادہ تر اسی حالت میں پڑی ہیں اوور مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں ،سیف سٹی پراجیکٹ بہت اچھا ہے اور وقت کی اہم ترین ضرورت بھی۔سیف سٹی پراجیکٹ کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ جہاںسڑک توڑی جاتی ہے وہاں بر قوت مرمت بھی کر دی جائے تو قوم کے خزانے کا بہت کم ضیاع ہو،جب حکمران لاپرواہ ہو ں توعوام ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جاتی ہے،متعلقہ ادارے ہی سڑکوں کی تباہی کے ذمہ دارہوں تو پھر عوام پیچھے کیوں رہیں،بازاروںاور گلی محلوں کی سڑکیں مکین خود ہی تباہ کرتے ہیں،پانی کا پائپ خراب ہو ا تو فوری سڑک اکھاڑ دی جاتی ہے اپنا کام کرنے کے بعد مرمت کو گناہ سمجھاجاتا ہے،کئی مکینوںکی عادت ہوتی ہے گاڑی ،موٹرسائیکل کو گلی میں کھڑاکر کے نہلانا ہے پانی گلی میں اکثر کھڑا رہنے سے سڑک تبا ہ ہو نا شروع ہو جاتی ہے،بحثیت قوم ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا خود بھی ادراک کرنا ہوگا اور ارباب اختیار کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلانا ہو گا۔

تبصرے