Urdu News and Media Website

پہلی ملاقات اور درسگاہ

تحریر: عبدالباسط۔۔۔

گزشتہ رات کو بتائے جانے والے خوف کو پسِ پُشت ڈالتے ہوئے اُس نے یونیورسٹی میں پہلا قدم رکھا. ہلکی ہلکی دھوپ اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہی تھیں اور وہ نازک سی گڑیا اپنی جماعت ڈھونڈنے میں محو تھی۔ آج اس کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔

حسبِ معمول اُس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اس سے پہلے آنے والوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے اور وہ تھا کلاس کاراستہ غلط بتانا۔…. کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا یے کہ لاہور والوں کو پہچاننے کی دو بڑی نشانیاں ہیں اور ان میں دوسرے نمبر پر ہے "راستہ غلط بتانا”  آخر کار کافی مشقت کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ گئی۔ جماعت میں داخل ہوئی تو لیکچر شروع ہو چکا تھا اور سب پروفیسر یاسر کی جانب متوجہ تھے۔  آخری بنچ پہ بیٹھے چند شراتی لڑکے اسے اس انداز میں دیکھ رہے تھے کہ شاید کبھی اس سے پہلے کوئی لڑکی نہ دیکھی ہو۔

اور غالباً یہی حال ہمارے ہاں بہت سے اداروں کا بھی ہے جہاں آئے روز اس طرح کا طوفان بدتمیزی نئے نئے طریقہ کار سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور ادارے والوں کے ساتھ ساتھ محلے کے بڑے بڑھوں سے لے کر مسجد کے مُلاح تک اس طرح کے کارناموں میں اعلیٰ سند حاصل کر چکے ہیں۔ان لڑکوں کے گھورنے کہ باوجود اس کی نظر کونے میں پڑے اک خستہ بنچ پر بیٹھے اُس لڑکے پر پڑی جو لیکچر سننے کی بجائے کسی اور ہی دنیا میں گم تھا۔ وہ خاموشی کی چادر اوڑھے اپنے اردگر سے بے خبر بس اُسی کو ہی دیکھ رہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ لیکچر کب کا ختم ہو چکا ہے۔ اور وہ کلاس میں تنہا ہی رہ گئی تھیں۔۔۔”یہ محبت بھی کتنی عجیب چیز ہے نا پل بھر میں ہم ایسے لوگوں سے مانوس ہو جاتے ہیں جن سے ہم پہلی بار مل رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان لوگوں سے بھی دوری اختیار کر لیتے ہیں جو ہمارے دل کے بہت قریب تر ہوتے ہیں۔

” ہم آئے روز کسی نہ کسی سے ملتے جلتے رہتے ہیں لیکن یہ دل بہت کم ہی کسی سے ملتا ہے اور جس سے مل جائے اس کی یادیں ہمیں ہر لمحہ جگائےرکھتی ہے،خیالوں میں الجھائے رکھتی ہے اور یہی حال اس وقت ماناب کا تھا۔ جو رات کے تیسرے پہر بھی اس جھیل سی آنکھوں والے کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔ وہ معصوم چہرہ دنیا اور اس کے مکرو فریب سے الگ تھلگ اپنی ہی دنیا میں کھویا ہوا بار بار اس کی نظروں کے سامنے آ رہا تھا۔ آخر کوئی تو ایسی وجہ ہوگی جو وہ جھیل سی آنکھوں والا اس قدر خاموشی کے گہرے سکوت میں ڈوبہ ہوا تھا۔ اس نے خود سے سوال کیا۔رات گئے تک وہ اسی کشمکش میں محو رہی۔یہ فطرت کا قانون ہے کہ تمام جہانوں کو پالنے والی ذات کا نائب ہمیشہ اس کے بارے میں ہی زیادہ سوچتا ہے "جو زمانے سے مختلف ہو،اس کا رہن سہن، شعار،طرز گفتگو اور عمل سب سے جدا نظر آئے” اس ایک ملاقات نے میری من میں ہزاروں سوال اجاگر کر دیئے تھے۔

ہم میں سے ناجانے کتنے انسان ہزراوں دکھ اپنے سینے میں دبائے اک عارضی مسکان لیے پھرتے ہیں اور اس گمان میں جیتے رہتے ہیں کہ سامنے والے کو کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ مگر ہم نادان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہاں چہروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی ا سے ی تک پڑھ لیا جاتا ہے۔ اُن کی ظاہری شخصیت سے اُن کے کردار اور دولت سے عزت و مقام کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ اگلے روز پروفیسر یاسر کا لطیفہ سننے کے بعد پوری کلاس کِشتِ زعفران بنی ہوئی تھیں اور وہ جھیل سی آنکھوں والاحسبِ معمول آخری بینچ پہ بیٹھا اپنے آپ میں ہی کہی گم تھا۔ پروفیسر یاسر نے اس سے مخاطب ہو کر کہا!  کن خیالات میں گم ہے آپ جناب ؟   یہ سنتے ہی پہلے بینچ پہ بیٹھی نمرہ فوراً بول اٹھی کہ سر سنا ہے یہ خِرَد گُم کَردَہ بشر ہے۔

کبھی زیادہ بولتے نہیں دیکھا اسے۔   ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہے کہ یہ شاعری بہت کمال کرتا ہے۔     آہاں یہ بات ہے تو میاں کوئی شعر ہمیں بھی سنا دے ہم بھی تمہارے اِس فن سے آشنا ہو جاۓ ۔ پروفیسر یاسر نے نمرہ کی بات سنتے ہی شعر کی فرمائش کر ڈالی۔    ناجانے درد کی کس کیفیت میں قدم رکھتے ہوۓ آخری بینچ سے درد بھری آواز میں یہ شعر ادا ہوا ۔

یا مجھے وَصل عطاء کر مالک                      یا میرا ہجر مکمل کر دے ۔۔۔۔۔

ارے میاں واہ واہ واہ کیا کہنے ۔ لگتا ہے کسی نے بہت نفاست سے دل توڑا ہے جناب کا۔ پروفیسر یاسر نے موقع دیکھ کے چوکا مارا اور پوری کلاس ایک بار پھر قہقوں سے گونج اٹھی۔ "دل تو ان کے ٹوٹتے ہیں جن کے دل ان کے اپنے سینے میں ہوں۔ جن کے دل کسی اور کے سینے میں دھڑکتے ہوں ان کے دل ٹوٹا نہیں کرتے حضور” آخری بینچ سے آنے والی اس دَردِ آگِیں آواز نے پوری کلاس پہ سحر طاری کر دیا تھا۔ اور میں پہلی بار اسے کلاس میں بات کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

تبصرے