Urdu News and Media Website

پنجاب میں امپورٹڈ شراب کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا

مکروہ دھندے میں لائسنس یافتہ پرمٹ روم مینجرز کی ملی بھگت شامل

اسلام آباد(رپورٹ علی جنید) حکومت پاکستان کی پابندی کے باوجود ملک بھر اور بالخصوص پنجاب بھر میں امپورٹڈ شراب کا گھناؤنا دھندہ عروج پکڑ رہا ہے

زرائع کا کہنا ہے کہ اس مکروہ دھندہ میں پاکستانی برانڈ کی فروخت کے لائسنس یافتہ پرمٹ روم مینجرز کی ملی بھگت شامل ہے

جو امپورٹڈ شراب کے بڑے ڈیلرز کی پہچان رکھتے ہیں

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پرمٹ رومز مینجرز کے اثاثہ جات ان کی آمدن سے بہت زیادہ ہیں جن کی حساس ادارہ کے ذریعہ رپورٹ اکھٹی کرکے نیب کو دی جائیں

کیونکہ محکمہ ایکسائز پنجاب اور پنجاب پولیس امپورٹڈ شراب فروخت کرنے والوں تک رسائی حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہیں

بلکہ یہ محکمہ پاکستانی شراب کی بھی غیر قانونی ترسیل کو بھی بند کرنے میں ناکام ہیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ایکسائز اور پنجاب پولیس کی جانب سے کبھی بھی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں

نہ ایسی کوئی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے جسے کے اثرات سے معلوم ہو کہ امپورٹڈ یا غیر ملکی شراب کیونکہ ملک میں فروخت کرنا جرم ہے

اور اس کی ترسیل کو ناکام بناتے ہوئے اس منشیات فروشی کی روک تھام کی جائے

محکمہ ایکسائز اور پنجاب پولیس کی جانب سے اس سلسلہ میں کبھی مشترکہ آپریشن بھی نہیں کیا گیا ہے

جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثر پرمٹ رومز مینجرز نے ہوٹل پرمٹ کی آڑ میں امپورٹڈ شراب کی فروخت کو اپنا سائیڈ بزنس بنایا ہوا ہے

جبکہ ہوٹل مالکان کو ان کا قطعی علم نہیں ہے جبکہ پرمٹ رومز مینجرز پر اس قسم کی ایف آئی آر بھی درج ہیں جنھیں وہ مک مکا کے بعد محکمہ پولیس سے ختم کروا لیتے ہیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس ادارہ کے زریعے تمام پرمٹ رومز مینجرز کے اثاثہ جات چیک کئے جائیں جو کہ آمدن سے بہت زیادہ ہیں

اور اس سلسلہ میں تحقیق سے ان پرمٹ رومز مینجرز کے اثاثہ جات میں مدد حاصل کی جائے

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں روپے ہوٹل سے تنخواہ وصول کرنے والے مزکورہ اشخاص اربوں مالیت کی پراپرٹی ، بنک بیلنس کے مالک کیسے بن گئے ، کون کتنی بار بیرون ملک گیا اور فیملیز کو کن ذرائع سے بیرون ملک بھجوایا

یہ تمام اثاثہ جات امپورٹڈ شراب کی غیر قانونی فروخت سے ڈوریاں ملتی ہیں۔

تبصرے