Urdu News and Media Website

پردہ، برقعہ اور ہود بھائی کا مسئلہ کیا ہے

تحریر:محمد عاصم حفیظ۔۔۔
پرویز ہود بھائی جیسے نام نہاد لبرلز و سیکولرز قابل ترس ہیں ۔ ان کی پریشانی اور نیندیں اس لئے اڑی رہتی ہیں ۔ ہوش و ہواس کھویا رہتا ہے کہ اربوں کی سرمایہ کاری ۔ این جی اوز کے بڑے بڑے نیٹ ورکس ۔ عورت مارچ کے ڈراموں ۔ فلم و ڈرامہ انڈسٹری ۔ کارپوریٹ کلچر ۔ قانون سازی کی تمام تر کاوشوں ۔ حکومت اور ارباب اختیار پر کنٹرول کے باوجود کیوں آخر اسلام اپنی راہیں بنا رہا ہے ۔ یہ ٹھیک کہتا ہے کہ اب تعلیمی اداروں میں برقعے زیادہ نظر آتے ہیں ۔ نوجوانوں کی دین کی طرف پلٹنے کی وجوہات میں مغربیت سے ہٹے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ برطانیہ کی آئی آر اے ۔ پاکستان میں یوتھ کلب ۔ النور انٹرنیشنل ۔ الہدی سمیت کئی اداروں نے نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے ۔ اب ایسے نوجوان اسلامی سکالر دستیاب ہیں جو کہ ان کو انگریزی میں جواب دیتے ہیں ۔ مثالیں یورپ و مغرب کی دیتے ہیں ۔ ان سے بھی کہیں زیادہ مغرب کو جانتے ہیں ۔ ان کی کانفرنسز ۔ ورکشاپس انگریزی میں ہوتی ہیں ۔ لبرل و سیکولر نظریات کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں ۔ نہ تو ان کی کھوکھلی فکر سے متاثر ہیں ۔ مغربیت کو جوتے کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں ۔ ایسے نوجوان سکالر بات کریں تو سامنے سینکڑوں سننے والے ہوتے ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں سیمینار و کانفرنسز رکھیں تو ہالز میں جگہ نہیں ملتی ۔ پڑھے لکھے طبقے اور ایلیٹ کلاس کو متاثر کر رہے ہیں

ہود بھائی طبقے کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے ۔ اکثریت افغانستان میں فاتحان کی آمد پر خوش ہے ۔ ان کا نظریہ ہار چکا ہے ۔ ان کی تہذیب کا کھوکھلا پن واضح ہے ۔ یہ سائنس اور مغربیت سے متاثر کرتے تھے ۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے اگلے ثبوت منہ پہ دے مارتے ہیں ۔ اگر تھوڑا ٹائم ہو تو ہود بھائی کا ڈاکٹر حمزہ زوڑٹس سے مناظرہ سن لیں ۔ ایسے نوجوان اس کی جعلی قابلیت کا پھانڈا پھوڑ چکے ہیں۔

انہیں تعلیمی اداروں میں داڑھی برقعہ دیکھ کر ہوش اڑتے ہیں ۔ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب نوجوان لڑکے لڑکیاں ۔ کھلاڑی سائنسدان ۔ ڈاکٹرز انجینئرز سمیت ہر طبقہ کے دیندار نوجوان دیکھ کر دل ڈوب سا جاتا ہے ۔ ان کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے ۔ اب پریشان نہ ہوں ۔ یوں بونگیاں نہ ماریں تو کیا کریں ۔۔
کسی نے کیا خوب کہا تھا
” اسلام کی فطرت میں قدرت نے یہ لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے”

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے