Urdu News and Media Website

پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی دہشتگرد سے والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کرادی

دفتر خارجہ کے اولڈ بلاکس میں جاسوس کلبھوشن سے اہلخانہ کی مخصوص کمرے میں ملاقات ٗچالیس منٹ جاری رہی

اسلام آباد (نیوزنامہ)فوجی عدالت سے سزا یافتہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھنے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی اہلیہ اور والدہ کی دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کی موجودگی میں ملاقات کرادی گئی۔ اس موقع پرد فترخارجہ کی ڈائریکٹر انڈین ڈیسک ڈاکٹر فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں ۔پیر کو کلبھوشن یادیو کی اہلیہ چیتنا جادیو اور والدہ اوانتی یادیو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کے ہمراہ نجی ایئر لائنز کی پرواز ای کے 612 کے ذریعے بھارت سے اسلام آباد پہنچیں۔بھارتی جاسوس کے اہلخانہ کو سخت سیکیورٹی میں بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھارتی ہائی کمیشن پہنچا یاگیا جہاں انہیں بھارتی ہائی کمیشن کے حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی

بعد ازاں انہیں دفتر خارجہ پہنچایا گیاجہاں دفتر خارجہ کے اولڈ بلاکس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن سے اس کے اہلخانہ کی مخصوص کمرے میں ملاقات کرائی گئی جہاں شیشے کے ایک طرف جاسوس کلبھوشن اور دوسری طرف اس کی والدہ اوانتی سودھیر اور بیوی چیتنا جادیو موجود تھیں۔ کلبھوشن نے اپنے اہلخانہ سے انٹرکام کے ذریعے بات چیت کی جس کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ۔ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ ملاقات تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ملاقات کے دوران بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا ڈیسک ڈاکٹر فریحہ بھی موجود تھیں۔قبل ازیں جاسوس کلبھوشن کی والدہ ٗاہلیہ اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ ایک بجکر 25 منٹ پر دفتر خارجہ پہنچے جس کے بعد انہیں قیام گاہ میں بٹھایا گیا اور مکمل سیکیورٹی چیکنگ کے بعد انہیں 2 بجکر 18 منٹ پر مخصوص کمرے میں لے جایا گیا جہاں جاسوس کلبھوشن یادیو پہلے سے موجود تھا اور یہ ملاقات دو بجکر 58منٹ پر ختم ہوئی ۔

ملاقات کے بعد بھارتی جاسوس کی والدہ اور اہلیہ دفتر خارجہ سے باہر آئیں اور کچھ دیر گاڑی کا انتظار کیا اس موقع پر بھارتی جاسوس کی والدہ نے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کو پرنام کیا اور ملاقات کرانے پر پاکستانی حکام ٗ دفتر خارجہ اور ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا شکریہ ادا کیا ۔اس سے قبل بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں اہلخانہ سے ملاقات کرانے کے لئے پرائیوٹ گاڑی میں دفتر خارجہ کے عقبی دروازے سے لایا گیاجبکہ اس کی والدہ اور بیوی کو بھی سخت سیکیورٹی حصار میں بھارتی ہائی کمیشن سے دفتر خارجہ لایا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن سے بیوی اور والدہ کی ملاقات کی اجازت یوم قائداعظم پر انسانیت کے ناطے دی ۔ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ کلبھوشن سے اہل خانہ کی ملاقات میں بھارتی سفارت خانے کے افسر کی موجودگی کا مطلب قونصلر رسائی نہیں۔اس موقع پر دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے دونوں خواتین کی دفتر خارجہ میں موجودگی کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے پاکستان سے کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات کی میڈیا کوریج نہ کرنے کی درخواست کی اور بھارت نے میڈیا نمائندوں کو بھی پاکستان نہیں بھیجا جبکہ پاکستان نے کوریج کیلئے بھارتی صحافیوں کو فوری ویزے جاری کرنے کی پیشکش کی تھی۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے کلبھوشن کی اس کے والد اور والدہ سے ملاقات کرانے کا کہا تھا تاہم کلبھوشن نے کہا وہ اپنی اہلیہ سے ملنا چاہتا ہے اور پاکستان نے اس کی خواہش پوری کی۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ٗاگر کچھ چھپانا ہوتا تو بھارتی میڈیا کو کوریج کی پیشکش نہ کی جاتی ۔

تبصرے